مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے سربراہ نامزد

تازہ ترین

تازہ ترین

اپوزیشن نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا سربراہ نامزد کردیا ہے، یہ ایک کثیر الجماعتی اتحاد ہے جو وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے تشکیل دیا گیا ہے۔

اپوزیشن کی جانب سے منعقد کئے جانے والے اجلاس کے دوران نواز شریف نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے نام کی سربراہ کیلئے سفارش کی، جسے تمام فریقوں نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ حالیہ اشتعال انگیز تقاریر کے پیش نظر، کسی بھی احتجاج کی قیادت کے لئے نواز شریف کے واپس آنے کا امکان نہیں ہے۔ زرداری اپنی صحت کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں اور انہیں تین نیب ریفرنسز میں فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔ ایسے حالات میں مولانافضل حکومت کا مقابلہ کرنے کے لئے اپوزیشن کے سب سے موزوں رہنما کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

اب بھی یہ سوال اُٹھتا ہے کہ کیا مولانا کے پاس وہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ عمران خان کی حکومت سے براہ راست تصادم کرسکیں گے۔ اگر صورتحال خراب ہوئی تو ریاستی اداروں سے ٹکراؤ کی صورت میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، دوسری جانب مولانا فضل الرحمن نے حکومت کو گرفتاری دینے سے انکار کردیا ہے اور حکومت کے خلاف اپنی مہم جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

یہ امکان نہیں ہے کہ پی ڈی ایم عمران خان کی حکومت گرانے کے مقاصد میں کامیاب ہو، کسی بھی صورت میں اس کا الزام براہ راست جے یو آئی (ف) کے سربراہ پر جائے گا، وہ پہلے ہی سڑک کو بلاک کرچکے تھے، جب کہ کوئٹہ میں ان کے پہلے جلسے کو ایک ہفتے پہلے ملتوی کردیا گیا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم بڑے پیمانے پر کوئی رد عمل دینے کو تیار نہیں۔ پیپلز پارٹی عمران کی حکومت سے راضی ہوسکتی ہے لیکن وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہونے والے تصادم سے بے حد محتاط رہے گی۔

پچھلے سال ہم نے دیکھا کہ مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ نکالا مگر وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوئے اور انہیں کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوا، کیا پی ڈی ایم کا مارچ بھی آزادی مارچ کی طرح ہوگا اور اس کا اسی طرح خاتمہ ہوجائے گا؟ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا اس بار مولانا فضل الرحمن زیادہ پاور سے سامنے آئیں گے؟ اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ کورونا وائرس کے باوجود مظاہروں میں تیزی آنے سے صورتحال مزید خراب ہوجائے گی۔

اپوزیشن مارچ میں سینیٹ کے اگلے انتخابات سے پہلے عمران خان کی حکومت کو گرانا چاہتی ہے جبکہ تحریک انصاف ایوان بالا میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے تیار ہے اور اس کے بعد وہ آسانی سے قانون سازی کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ حزب اختلاف کی قانونی اور سیاسی پریشانیوں کے حل کے لئے اب کوئی راستہ نہیں ہے،لیکن انہیں یقینی بنانا چاہئے کہ ملک میں انتشارکی صورتحال پیدا نہ ہو۔

Related Posts