مفتاح، ڈار تنازع

تازہ ترین

تازہ ترین

اتحادی حکومت کی اقتصادی ٹیم کے درمیان دراڑ وسیع ہو گئی ہے اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور ان کے جانشین اسحاق ڈار کے درمیان حالیہ بیانات ثابت کرتے ہیں کچھ بھی ٹھیک نہیں جیسا کہ دکھایا جا رہا ہے۔

ابتداء سے ہی دیکھا گیا ہے کہ مفتاح اسماعیل اور اسحاق ڈار ساتھ نہیں چل سکے،دونوں میں آئی ایم ایف کے معاہدے اور ایندھن کی سبسڈی کے مرحلہ وار خاتمے پر شدید اختلافات تھے۔ اسحاق ڈار کبھی بھی جون 2022 تک یا آئی ایم ایف پروگرام کے بحال ہونے تک سبسڈی واپس لینے کے حق میں نہیں تھے۔

مفتاح اسماعیل نے ایسے وقت میں سخت اقدامات کئے جب ڈیفالٹ کے زیادہ امکانات تھے اور غیر ملکی بینک خام تیل اور پیٹرول کی درآمد کے لیے پاکستان کو رقم دینے کیلئے تیار نہ تھے، انہیں ایک مخالف آئی ایم ایف کا بھی سامنا تھا، جو متعلقہ وزرائے خزانہ کی طرف سے دیے گئے وعدوں کی مسلسل خلاف ورزی پر ناراض تھا۔

پاکستان نے یکم ستمبر 2022 تک پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 30 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 15 روپے فی لیٹر بڑھانے اور جنوری 2023 میں پیٹرول پر 50 روپے فی لیٹر اور اپریل 2023 تک ڈیزل پر 50 روپے فی لیٹر تک لے جانے کا عہد کیا ہے۔

مفتاح اسماعیل نے قبل از وقت اسے بڑھا کر 37.5 روپے فی لیٹر کردیا حالانکہ IMF نے یکم اکتوبر کے لیے پیٹرول کی حد 35 روپے فی لیٹر مقرر کی تھی۔

حال ہی میں، سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، جنہوں نے تعطل کا شکار آئی ایم ایف پروگرام کو بحال کرنے کے لیے سخت محنت کی، عوامی طور پر حکومت کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے فیصلے کی مخالفت کی۔

ٹوئٹر پر مفتاح اسماعیل نے پی ٹی آئی رہنما شوکت ترین کے ٹویٹ کے جواب میں کہا، ”آئی ایم ایف کی منظوری کے بغیر اس ماہ پی ڈی ایل میں اضافہ نہ کرنا لاپرواہی ہے، لیکن پی ٹی آئی نے ہماری معیشت کے ساتھ جو کیا وہ ناقابل معافی تھا۔”

دریں اثنا، اسحاق ڈار نے جواب میں مفتاح اسماعیل کو ”فکر نہ کرنے” کا مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے معاملات کو سنبھالنا ہے، اس لیے اب سے نہ مفتاح اسماعیل اور نہ ہی کسی اور کو کسی چیز کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ ڈیڑھ سال میں یہ دوسرا موقع ہے جب وزیر خزانہ کی تبدیلی سے ملک کی معاشی پالیسیوں میں زبردست رونما ہوں گی۔

کسی بھی وجہ سے آئی ایم ایف پروگرام کی معطلی یا پٹڑی سے اترنا پاکستان کے بیرونی شعبے کی عملداری کے لیے اچھا نہیں ہو گا۔ دونوں فریقوں کے درمیان طویل گہرے عدم اعتماد کے درمیان ملک کے پاس آئی ایم ایف کو مزید پریشان کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

Related Posts