حاضری سے مستقل استثنیٰ

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیر اعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز کے خلاف احتساب عدالت لاہور میں منی لانڈرنگ ریفرنس زیرِ سماعت ہے۔ ملزمان پر 16ارب کی منی لانڈرنگ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

گزشتہ روز احتساب عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف کی حاضری سے مستقل استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے حمزہ شہباز کی بھی مستقل استثنیٰ کی درخواست پر نیب سے جواب طلب کر لیا۔ امید یہی کی جارہی ہے کہ حمزہ شہباز کو بھی ریلیف مل جائے گا۔

اگر منی لانڈرنگ ریفرنس کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو قومی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے وزیر اعظم شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ نومبر 2020 میں درج کیا۔

رواں برس جولائی میں احتساب عدالت نے سلمان شہباز کی عدم پیشی پر ان کو اور شریک ملزم طاہر نقوی کو اشتہاری قرار دیا تھا۔ اس سے قبل 2 مزید ملزمان کو بھی اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔ 28 مئی کے روز وزیر اعظم کے صاحبزادے سمیت 2 شریک ملزمان طاہر نقوی اور ملک مقصود کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوئے۔

جون 2022 میں منی لانڈرنگ کیس کے شریک ملزم ملک مقصود کا متحدہ عرب امارات میں انتقال ہوگیا جن کو لاہور میں سپردِ خاک کردیا گیا جس پر اسپیشل کورٹ سنٹرل کے جج اعجاز اعوان نے ملک مقصود کی ڈیتھ سرٹیفکیٹ تفصیلات طلب کی تھیں۔

مئی کے دوران ایک مرتبہ منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جتنے گواہوں کے بیانات لیے گئے، سب سابقہ دورِ حکومت میں لیے گئے ہیں۔

وکیل نے دلائل دئیے کہ ریکارڈ کردہ بیانات سے کیس نہیں بنتا۔ ایف آئی آر میں رمضان شوگر ملز، العربیہ شوگر ملز اور شریف گروپ آف کمپنیز مذکور ہیں۔ شہباز شریف کا رمضان یا شریف گروپ آف کمپنیز سے تعلق نہیں، نہ ہی وہ ان کمپنیز کے کبھی ڈائریکٹر تھے۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کے اکاؤنٹ میں متنازعہ اکاؤنٹس سے ایک روپیہ بھی نہ آیا، نہ نکلوایا گیا۔ جرم ثابت کرنا استغاثہ کا کام ہوتا ہے۔ مقدمے کو بنانے میں مبالغہ آرائی ہوئی ہے جبکہ مقدمے میں کی گئی تفتیش بھی بدنیتی پر مبنی ہے۔ کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔

اب یہ کیس کتنا سیاسی یا کتنا غیر سیاسی ہے، اس کا تعین تو عدالت کرے گی، تاہم یہ بات طے ہے کہ احتساب عدالت نے شہباز شریف کی بطور وزیر اعظم مصروفیات کے باعث انہیں حاضری سے مستقل استثنیٰ دیا ہے جو عموماً کسی عام شہری کو نہیں دیا جاتا۔

ملکی آئین میں استثنیٰ کی ایک اور مثال صدرِ مملکت کے کیس سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ ماضی میں اسلام آباد میں لوگوں کو تشدد پر اکسانے پر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت موجودہ صدر ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا تھا۔

تاہم صدرِ مملکت کی حیثیت سے ڈاکٹر عارف علوی نے مقدمے سے استثنیٰ حاصل کیا اور انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے ان کے خلاف کارروائی صدارتی عہدے کی میعاد تک ملتوی کرڈالی۔ صدر کو 1973 کے آئین کی دفعہ 248 کی روشنی میں تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔

دلچسپ طور پر صدرِ مملکت اور وزیر اعظم کو حاصل استثنیٰ میں واضح فرق ہے۔ صدرِ مملکت کے خلاف تو مقدمے میں کارروائی ہی نہیں کی گئی جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف کو نمائندہ مقرر کرکے مقدمے کی سماعت میں نمائندے کے توسط سے پیش ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔

Related Posts