لگ بھگ 33 برس کے صحافتی سفر کے دوران ہمارا بیشتر وقت ان اداروں میں گزرا جو پیشہ وارانہ حدود کے پابند رہے۔ مگر دو ادارے ایسے ہیں جن کے ساتھ پیشہ وارانہ لحاظ سے تجربہ نہایت تلخ رہا۔ ان میں سے ایک اخبار کراچی جبکہ دوسرا لاہور بیسڈ ہے۔
کراچی والے اخبار کے مرحوم چیف ایڈیٹر کو کامل یقین تھا کہ ارسطو ان سے محض اس لئے کسب فیض سے رہ گئے کہ موصوف کی پیدائش ارسطو سے یہی کوئی ڈھائی ہزار سال بعد ہوئی۔ مگر پروفیشنلزم کی صورتحال یہ رہی کہ ایک روز ایگزیکٹو ایڈیٹر نے کال کرکے فرمایا
“فلاں تاریخ کو اخبار کی سالگرہ آرہی ہے۔ صاحب کہہ رہے ہیں کہ آپ نے اس روز کالم اخبار کی خدمات اور سالگرہ پر لکھنا ہے”
ظاہر ہے یہ اخبار کی مدح سرائی کی فرمائش تھی۔ سو ہم نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ پروفیشنلی بھی درست نہیں اور ہم مالکان کو مسکے لگانے کا مزاج بھی نہیں رکھتے۔ فرمایا گیا
“یہ آپ کا ادارہ ہے۔ آپ اس کی سالگرہ میں حصہ لینے سے انکار کیسے کر سکتے ہیں ؟”
عرض کیا
“یہ ہمارا نہیں خان صاحب کا ادارہ ہے، ہم یہاں صرف ملازم ہیں۔ کیا اس سالگرہ کی خوشی میں ادارہ ہم ملازمین کو کوئی بونس دینے کا ارادہ رکھتا ہے ؟”
بونس کا ذکر سن کر فون بند کردیا گیا۔ اب ذرا لاہور والے اخبار کا پروفیشنلزم بھی ملاحظہ فرما لیجئے۔ جب ہمارا وہاں تقرر ہوا تو یہ کہہ کر ہوا کہ سجاد میر، عبداللہ طارق سہیل اور آپ کو نون لیگ حامی کالم نگاروں کی حیثیت میں رکھا گیا ہے تاکہ ادارتی صفحے کا توازن نہ بگڑے۔ یہ کہنے ضرورت شاید اس لئے محسوس ہوئی کہ اخبار کے مالکان رانا ثناء اللہ کے بغض میں پی ٹی آئی کے عمران خان سے بھی زیادہ وفادار تھے۔ آپ یہی دیکھ لیجئے کہ اخبار کے چیف، ایڈیٹر، میگزین ایڈیٹر، نیوز ایڈیٹرز اور صفحات کے انچارج سب کے سب یوتھیے تھے۔ مگر جب ہم نےلکھنا شروع کیا تو ان سب کے پیروں تلے زمین گرم ہونی شروع ہوگئی۔ ہر ماہ دو سے تین کالم ریجیکٹ ہونے شروع ہوگئے جبکہ جو کالم شائع ہوتے انہیں اس بری طرح ایڈٹ کردیا جاتا کہ کالم ایک مذاق بن کر رہ جاتا۔
حد تو تب ہوئی جب ایک روز ہمارے کالم میں اپنی طرف سے اضافہ تک کردیا گیا۔ وہاں ہمارے وہی کالمز پیج انچارج کے شر سے بچے جو غیر سیاسی تھے۔ ان کا خیال تھا کہ تنگ آکر ہم خود ہی چھوڑ جائیں گے۔ مگر ہم بیٹھے رہے۔ نتیجہ یہ کہ ایڈیٹوریل بورڈ میں شامل ہمارے ایک یوتھیے دوست نے بذریعہ فون ہمیں یہ ہمدردانہ تلقین شروع کردی کہ ہمیں سیاسی موضوعات پر لعنت بھیج کر دیگر سماجی ایشوز پر ہی کالم لکھنا چاہئے۔ ہم ان کے یہ نیک مشورے جس کان سے سنتے اسی سے باہر نکال دیتے۔ چنانچہ وہ دن آیا جب ڈاؤن سائزنگ کے نام پر کالم نگاروں میں سے ہمیں اور عبداللہ طارق سہیل کو چلتا کرنے کی نوید سنا دی گئی۔
قابل غور بات یہ ہے کہ اس اخبار کے مالکان سے لے کر جونیئر رپورٹرز تک کوئی بھی پی ٹی آئی کا کوئی باقاعدہ حصہ یعنی عہدیدار نہ تھا۔ یہ صابر شاکر اور چوہدری غلام حسین کی طرح باہر سے ہی شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار تھے۔
مگر اب آپ ہمارا وہ تجربہ دیکھئے جس سے ہم لگ بھگ دو سال سے انگشت بدنداں گزر رہے ہیں۔ دو روز قبل کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 245کا ضمنی الیکشن پی ٹی آئی کے امیدوار محمود مولوی نے جیتا ہے۔ جانتے ہیں یہ محمود مولوی کون ہیں ؟ یہ ایک بڑے بزنس مین اور پی ٹی آئی سندھ کے صوبائی عہدیدار ہیں۔ اور یہ کالم آپ جس ویب سائٹ پر پڑھ رہے ہیں یہ انہی کی ہے۔ ان کی صاحبزادی مہوش مولوی اس ویب سائٹ کو چلا رہی ہیں۔ دو سال قبل ہمیں یہاں جاب آفر ہوئی تو بخدا یہی لگا کہ یہ لوگ شاید جانتے نہیں کہ ہم پی ٹی آئی کے کس درجہ نقاد ہیں۔ چنانچہ ہم نے آفر قبول کرنے کے بجائے انہیں خبردار کیا کہ آپ لوگ شاید جانتے نہیں کہ ہم پی ٹی آئی کے شدید تر ناقدین میں سے ہیں۔ مگر ہماری حیرت کی انتہاء نہ رہی جب آگے سے کہا گیا
“تو کیا ہوا ؟ یہ پی ٹی آئی کی ویب سائٹ نہیں، ہماری ذاتی ویب سائٹ ہے۔ آپ کا جو جی کرے لکھئے، ہم نہ ریجیکٹ کریں گے اور نہ ہی ایڈٹ”
پچھلے دو سال سے ہم نے یہاں جو کالم لکھے ہیں ان میں سے 50 فیصد تو پی ٹی آئی کے ہی خلاف لکھے ہوں گے، مگر خدا کو حاضر ناظر جان کر کہہ رہے ہیں کہ نہ تو کبھی ہمارا کالم ریجیکٹ ہوا، نہ ایڈٹ ہوا، نہ ہی ہمیں یہ تلقین ہوئی کہ آپ سیاسی موضوعات پر لعنت بھیج کر دیگر سماجی ایشوز پر لکھا کیجئے، اور نہ ہی ہم سے ویب سائٹ کی سالگرہ کی خوشی میں ویب سائٹ مالکان کو مسکے لگانے کی فرمائش ہوئی۔ پروفیشنلزم اس درجے کا ہے کہ این اے 245 کے ضمنی الیکشن سے صرف دو روز قبل ہم پر یہ انکشاف ہوا کہ اس حلقے سے پی ٹی آئی کے امیدوار محمود مولوی ہیں۔ گویا ہم سے یہ بھی نہ کہا گیا کہ صاحب الیکشن لڑ رہے ہیں، ان کے حق میں کالم لکھدو۔ یعنی صاحب کے الیکشن کا ہم سے کوئی لینا دینا نہ تھا۔ خدا علیم ہے کہ عام حالات میں ہم یہ زیر نظر کالم قطعاً نہ لکھتے مگر ہم صحافت کے ان نام نہاد پروفیشنلز کو آئینہ دکھانا چاہتے ہیں جن کا پی ٹی آئی سے کوئی تنظیمی تعلق بھی نہیں لیکن اپنی ممدوح جماعت کے خلاف ایک لفظ ان سے برداشت نہیں ہوتا۔
محمود مولوی نے پی ٹی آئی کا صوبائی عہدیدار ہونے کے باوجود ہمیں جو کھلا میدان دیا ہے وہ آزادی دیتے ہوئے ان نام نہاد پروفیشنلز کو موت کیوں آتی ہے ؟ جاتے جاتے ہم محمود مولوی صاحب کو دل و جان سے جیت کی مبارکباد دیتے ہوئے دعاء گو ہیں کہ خدا نام نہاد بڑے صحافیوں اور اخبار مالکان کو محمود مولوی سے کچھ سیکھنے کی توفیق بخشے۔ آمین یا رب العالمین۔