رواں ماہ 21 اور 22 اگست کی درمیانی شب سیاسی ہنگامہ خیزیوں کے نام رہی جس کے دوران قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 245 میں محمود مولوی نے متحدہ کے امیدوار سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو شکست دے کر تاریخ رقم کردی تاہم اس دوران میڈیا کی توجہ عمران خان پر مرکوز ہوگئی۔
ہوا کچھ یوں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کیلئے پر تولتی حکومت نے دہشت گردی کا مقدمہ درج کیے جانے کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کو گرفتار کرنے کیلئے کمر کس لی جس پر ملک بھر کے مختلف شہروں بشمول کراچی، لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں مظاہرے شروع ہو گئے۔
یہ مظاہرے کیا تھے؟ اسے پی ٹی آئی کے بیانیے کی روشنی میں نام نہاد امپورٹڈ حکومت کے خلاف اعلانِ جہاد ہی سمجھ لیجئے تاہم ن لیگی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عمران خان کو گرفتار کرنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ انہوں نے کارِ سرکار میں مداخلت اور حکومت کا حکم ماننے والوں کو کارروائی کی دھمکی دی۔
دہشت گردی کے مقدمے کا متن دیکھئے تو پتہ چلتا ہے کہ عمران خان دہشت گرد اس لیے ہیں کیونکہ انہوں نے آئی جی، ڈی آئی جی اور مجسٹریٹ کے خلاف تقریر کی جس کا مقصد عدلیہ اور پولیس کو دہشت زدہ کرنا تھا۔ پولیس، عدلیہ اور عوام میں خوف پھیلایا گیا۔
قبل ازیں عمران خان کے خلاف بغاوت پر اکسانے اور فوج کے خلاف منافرت پیدا کرنے جیسے الزامات بھی لگائے گئے تاہم حکومتِ وقت کو سمجھنا ہوگا کہ تحریکِ انصاف کو شکست دینا اتنا آسان کام ثابت نہیں ہوگا کیونکہ یہ وہ جماعت ہے جس نے پنجاب کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) جیسی جماعت کا صفایا کردیا۔
حال ہی میں حلقہ این اے 240 کے ضمنی انتخاب میں متحدہ رہنما محمد ابوبکر نے میدان مارلیا جس پر یہ صدائیں بلند ہونے لگیں کہ کراچی میں ایک بار پھر متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) زور پکڑ رہی ہے تاہم محمود مولوی کی جیت نے ایسی تمام صداؤں کا گلا گھونٹ کر رکھ دیا ہے۔
ویسے بھی این اے 245 کوئی گیا گزرا حلقہ نہیں بلکہ یہ وہ حلقہ ہے جہاں سے عامر لیاقت حسین کامیاب ہو کر رکنِ قومی اسمبلی بنے تھے اور یہ نشست ان کے انتقال کے باعث ہی خالی ہوئی۔ جب عامر لیاقت کامیاب ہوئے تو متحدہ کا کہنا تھا کہ عامر لیاقت نے ہمارے نام کا ووٹ لیا جبکہ پی ٹی آئی رہنماؤں کا یہ بیانیہ رہا کہ انہیں عمران خان کے نام کا ووٹ دیا گیا۔
یہی بیانیہ سامنے رکھئے تو محمود مولوی کی جیت دراصل عمران خان کی جیت ہے جن کو وفاقی حکومت کی قانونی کارروائی کا سامنا ہے۔ ایک طرف دہشت گرد قرار دیا جانا تو دوسری جانب عدالت میں نااہلی کی درخواست۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت عوام کی خواہشات کو سمجھے اور ان کے مطابق اپنی آئندہ کی حکمتِ عملی مرتب کرے۔