بلوچستان پاکستان کا تاریخی طور پر ایک پسماندہ خطہ ہے اور اسے حکومتوں اور میڈیا نے ہمیشہ ہی نظر انداز کیا ہے۔ صوبے میں مون سون کی بارشوں کے بعد آنے والے حالیہ تباہ کن سیلاب سے یہاں کے املاک کو بری طرح نقصان پہنچا ہے اور حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 140 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، لیکن حالات میں وہی پرانے ہیں، اس صوبے پر اس قدر آفات کے باوجود بھی حکومت اور میڈیا کی جانب سے کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔
صوبے میں 140 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور ڈیڑھ ہزار افراد لاپتہ ہیں جب کہ سیلاب اور پہاڑوں سے گرنے والے تیز پانی کے ریلوں سے 10 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں، 50 ہزار گھر مکمل طور پر بہہ گئے ہیں یا ناقابل رہائش ہیں۔ مواصلاتی راستے بہہ گئے ہیں، متاثرین کے لیے محفوظ مقامات پر منتقل ہونا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ندی نالے بہہ رہے ہیں۔
اتنے بڑے انسانی المیے کو تمام چینلز اور قومی اخبارات نظر انداز کر رہے ہیں جس سے پہلے سے ناراض بلوچ عوام میں غصہ نفرت میں بدل رہا ہے اور انہیں احساس ہو رہا ہے کہ پاکستان کی دوسری قومیں اور حکومت انہیں انسان یا اپنا نہیں سمجھتے۔ بلوچ عوام کا ماننا ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں تنہا رہ گئے ہیں۔ وہ مسائل کی نشاندہی کررہے ہیں مگر ان کی کمزور آواز حکومت کے کانوں تک پہنچ پارہی۔
بلوچستان ایک جنوب مغربی صوبہ ہے جس کی سرحدیں افغانستان اور ایران سے ملتی ہیں۔ یہاں گوادر پورٹ بھی واقع ہے جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا مرکز ہے۔ یہ پاکستان کے 44 فیصد رقبے پر مشتمل ہے۔پاکستانی ریاست کے بارے میں بلوچوں کا تجربہ سیاسی زیادتیوں کے ارد گرد تشکیل دیا گیا ہے جس کی مثال 1948 میں ریاست سوات کے پاکستان کے ساتھ یکطرفہ الحاق اور صوبے کی پسماندگی کے ذریعے ظاہر ہونے والے معاشی استحصال سے ملتی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان میں ریاست مخالف عناصر بھی سرگرم ہیں جو خطے میں مسلح بغاوت کو ہوا دے رہے ہیں لیکن ریاست اور اس کے اداروں کے طرز عمل کا کیا ہے؟ کیا وہ بلوچستان میں ابھرتے ہوئے انسانی بحران کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ سیلاب کے بعد کراچی کی صورتحال کو اجاگر کرنا غلط ہے، لیکن بلوچستان کے حالات اسٹیک ہولڈرز سے زیادہ وقت اور سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کو یقین دلایا جائے کہ حکومت ان کی بحالی کے حوالے سے کوششیں کر رہی ہے۔