گزشتہ روز کم و بیش 8 سال بعد تحریکِ انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ بالآخر سنا دیا گیا جو حکمراں اتحاد کی بڑی کامیابی قرار دی جاسکتی ہے کیونکہ حکومتی نمائندوں نے اپنے میڈیا پر دئیے گئے بیانات میں الیکشن کمیشن کو واضح ہدایات دی تھیں کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہوجانا چاہئے۔
الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنایا کہ بینک اکاؤنٹس چھپانا آئین کے آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہے۔ پی ٹی آئی کو ووٹن کرکٹ، امریکا اور کینیڈا سے ملنے والی فنڈنگ غیر قانونی ہے جبکہ تحریکِ انصاف نے 8 اکاؤنٹس کو تسلیم بھی کیا اور 13 اکاؤنٹس پوشیدہ رکھے۔
اس حوالے سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کو کوئی ریکارڈ فراہم نہیں کیا۔ ہر بار کوشش کی کہ کیس آگے نہ چل سکے۔ ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ الیکشن کمیشن پر دباؤ بھی ڈالا کہ معاملہ آگے نہ بڑھے۔
بلاشبہ ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ 8سال بعد آنا الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالے جانے کی واضح مثال قرار دی جاسکتی ہے کیونکہ مذکورہ 8سال میں سے ساڑھے 3سال سے زائد عرصے تک عمران خان وزیر اعظم کے عہدے پر براجمان تھے۔
تحریکِ انصاف نے اقتدار میں آنے سے قبل موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف سمیت ن لیگی قیادت اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے مرکزی قائدین کو چور قرار دیتے ہوئے احتساب کا نعرہ بلند کیا تاہم جب اسی احتساب کیلئے عمران خان یا دیگر پی ٹی آئی قائدین کو طلب کیا گیا تو پیشی کی بجائے دیگر جواز تراش لیے گئے۔
ممنوعہ فنڈنگ کیس کی ہی بات کی جائے تو تحریکِ انصاف کے خلاف یہ کیس خود پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا جس کی طویل سماعت کے دوران تحریکِ انصاف نے 30 بار التوا کی درخواست کی۔
تحریکِ انصاف نے 6 بار کوشش کی کہ کیس کو کسی طرح ناقابلِ سماعت قرار دیا جائے اور پھر الیکشن کمیشن کے دائرۂ اختیار پر بھی سوالات اٹھائے گئے تاہم الیکشن کمیشن نے کیس کا فیصلہ رواں برس 21 جون کو محفوظ کر لیا تھا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے پی ٹی آئی کو 21 بار یہ ہدایت کی گئی کہ مالی ریکارڈ اور دستاویزات فراہم کریں۔ تحریکِ انصاف نے 9 بار وکلاء کو تبدیل بھی کیا۔ الیکشن کمیشن نے فنڈنگ کی جانچ پڑتال کیلئے اسکروٹنی کمیٹی مارچ 2018 میں قائم کی تھی۔
تاہم اسی برس پی ٹی آئی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اسکروٹنی کمیٹی کے اجلاس زیادہ تر بے نتیجہ رہے۔ 95 اجلاسوں میں 24 بار پی ٹی آئی نے التوا کی درخواست دائر کی اور کمیٹی کو 20 بار یہ آرڈر جاری کرنا پڑا کہ تحریکِ انصاف متعلقہ دستاویزات فراہم کرے۔
غور کیجئے تو فارن فنڈنگ کیس جسے آگے چل کر ممنوعہ فنڈنگ کیس کہا گیا، تحریکِ انصاف کے سیاسی مستقبل پر بہت سنگین اثرات مرتب کرسکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہونے کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت کا وجود برقرار رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں بچتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی اپنا وجود برقرار رکھ پائے گی؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں