کورونا وائرس کی نئی قسم

تازہ ترین

تازہ ترین

کورونا ائرس کی آمد کے تقریباً دو سال بعد دنیا کو ایک بار پھر نئے کورونا وائرس کی قسم سے خطرہ پہنچنے کا اندیشہ ہے، جس کے باعث کورونا وائرس کے خلاف کئے جانے والے تمام اقدامات ضائع بھی ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے، یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی ہے جب بہت سے ممالک نے سفری پابندیوں میں نرمی کر دی ہے اور خدشات کے باوجود معمول کی زندگی واپس آرہی ہے۔

اومی کرون وائرس کو پچھلی اقسام سے زیادہ مہلک تصور کیا جا رہا ہے اورجولوگ پہلے کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب ہو گئے ہیں وائرس کی اس نئی قسم کا شکار ہو سکتے ہیں،وائرس کی دوسری اقسام کی نئے وائرس میں مبتلا ہونے والے بعض افراد میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ اس وائرس کا سب سے پہلے جنوبی افریقہ میں پتہ چلا تھا اور اس سے پوری دنیا میں نئے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے۔

جو ممالک ایک اپنی سرحدیں کھولنے پر غور کر رہے ہیں اور دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کر سکتے ہیں۔یورپ میں، بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کے کیسز کے باعث دوبارہ نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن قوانین کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہرے دیکھے ہیں۔ پچھلے ہفتے ہزاروں افراد نے کئی یورپی شہروں میں کورونا وائرس کی پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ بہت سے ممالک موسم سرما میں لاک ڈاؤن کے اقدامات پر واپس آ چکے ہیں۔

دنیا کو نئے کورونا وائرس کے بارے میں کتنا فکر مند ہونا چاہئے؟ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ویکسین کی آٹھ ارب خوراکیں کورونا کی نئی قسم کے خلاف برقرار رہیں گی۔ موجودہ صورتحال کے لیے ویکسین کے انتظام میں عالمی عدم مساوات کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ افریقہ نے 77 ملین لوگوں کو مکمل طور پر ویکسینیٹ کیا ہے۔جو اس کی آبادی کا صرف 6 فیصد ہے۔ اس کے مقابلے میں، 70% سے زیادہ اچھی آمدنی والے ممالک نے پہلے ہی اپنے 40% سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگا دی ہے۔

ہم نے کورونا کے وبائی امراض کے دوران ابھی تک ہوش کے ناخن نہیں لئے ہیں۔ اقوام عالم کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ویکسین کی منصفانہ تقسیم سے ہی صورتحال بہتر ہوگی۔ وائرس تیزی سے تیار ہوتا ہے اور دنیا کو اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کہ جب پانی سر سے اوپر چلا جائے، بلکہ ویکسین کی تیاری کے لئے اقدامات کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو نئی قسم کے خلاف انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ صرف ایک چوتھائی آبادی کو مکمل طور پر ویکسین لگائی گئی ہے جس کے باعث صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ کئی ممالک نے برسوں بعد پاکستان کے لیے سفری پابندیوں میں نرمی کی ہے۔ سعودی عرب نے عمرہ زائرین سمیت پاکستانی مسافروں کو براہ راست داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ اب یہ خدشات ہیں کہ بہت جلد صورتحال ایک بار پھر بدل سکتی ہے۔

Related Posts