میرے دیس کے جوانو ہمت نہ ہارنا

تازہ ترین

تازہ ترین

میرے ملک کے ایک کروڑ 20 لاکھ نوجوان بہت حیرت اور ناامیدی کے ساتھ گرتی معیشت اور مہنگائی کے طوفان کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔ ان جوانان ملت کو اس بات کا بھی ادراک ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہردور کے سربراہان آئے اور اپنی حکومتوں اور بادشاہتوں کے گلچھرے اڑائے تاہم ایسی دیرپا پالیسیاں چھوڑ کر نہیں گئے جن سے معیشت کو درست سمت دی جاسکے اور پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر یا برآمدات میں اضافہ ممکن ہوجس کا اثر نوجوانان ملت اور پوری قوم کی زندگیوں پر مرتب ہوسکے۔

آج حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ہمارے ملک کا ہر فرد تقریباً2لاکھ 35 ہزار روپے کا مقروض ہے اور افق پر کوئی زیادہ امید دکھائی نہیں دیتی۔ قوم کو مستقبل قریب میں اپنے پیروں پر کھڑے پرکھڑے ہونے کی کوئی آس بھی نہیں ہے۔

پاکستان بھر میں مہنگائی کے بپھرتے ہوئے طوفان سے پورا ملک پریشان ہے لیکن اگر مہنگائی کے اسباب پر نظر ڈالی جائے تو گزشتہ کئی حکومتوں پر بہت سے الزامات عائد ہوتے ہیں ، ان الزامات میں سب سے بڑا الزام تو یہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں ایسے معاہدات کئے گئے اور ایسی پالیسی سازی کی گئی جس میں نہ ہماری ہماری زراعت پر توجہ دی گئی نہ انڈسٹری کو بڑھاوا دیا گیا نہ تعلیم کو ترجیح دی گئی حتیٰ کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں کو دنیا کے آخری چند ممالک کی صفوں میں لاکھڑا کیا گیا۔

21ویں صدی میں بدلتے دور کے تقاضوں سے نمٹنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے 21 صدی کے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کیلئے اپنے نصاب کو اس طرح ترتیب دیں کہ جب ہونہارہمارے نوجوان تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوں تو نہ صرف ملکی انڈسٹری بلکہ غیر ملکی ادارے بھی ہماری افرادی قوت کو ہاتھوں ہاتھ لیں۔

مجھے ذاتی طور پر اس چیز کا تجربہ ہے کہ میرے متحدہ عرب امارات میں دوران سفارتکاری جب میں نے مختلف میٹنگز کے ذریعے ایک معاہدے کو شکل دینے کی کوشش کی جس میں جنوبی کوریا نے اگلے 20 سالوں تک افرادی قوت لینے پر حامی بھری لیکن اس کیلئے پیشہ ورانہ تربیت کا معیار انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ اور کوالٹی کنٹرول کے مطابق افرادی قوت کی فراہمی کی شرط رکھی۔

ستم ظریفی یہ کہ سندھ کے 4سو سے زائد ووکیشنل ٹریننگ اسکولز میں 100 سے زیادہ بچے بھی ایسے نہیں نکل سکتے جو عالمی معیار کے مطابق سرٹیفکیشن حاصل کرسکیں۔ایسی صورت میں ہمارے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل افراد تعلیم مکمل ہونے کے بعد مختلف شعبہ جات میں کارآمد کردار ادا کرنے کے بجائے کھپت نہ ہونے کی وجہ سے معاشرے کیلئے بوجھ بننے لگ جاتے ہیں ۔

آج کا نوجوان اور دیگر شہری جب یہ دیکھتے ہیں کہ پلاٹس کی بندر بانٹ چل رہی ہے ، چہار سو بلڈنگز بن رہی ہیں ، کراچی کی مثال دیکھ لیں جس میں نسلہ ٹاور سرفہرست ہے کہ تمام ترلوازمات پورے کرنے کے بعد جب عمارت بنادی جاتی ہے تو بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ بلڈنگ تجاوزات پر قائم کی گئی ہے۔کوئی پوچھنے والا نہیں کہ جب 7سے 8 اداروں سے این اوسی، اجازت، نقشوں کی منظوری کے باوجود بلڈنگ غیر قانونی کیوں ٹھہرتی ہے؟ بلڈنگ بنتے ہوئے ہرشخص اور ادارہ دیکھ رہا ہوتا ہے۔ وہاں لوگوں کے رہائش اختیار کرنے کے بعد اس کو غیر قانونی قرار دینا الاٹیز کے ساتھ زیادتی اور تمام متعلقہ اداروں پر بھروسہ ختم کرنے کے مترادف ہے۔

کسی بھی منصوبے کا ایک بڑا یا تقریباً 20 فیصد حصہ تو رشوت کی مد میں چلا جاتا ہےیہی وجہ ہے کہ پلاٹس کی الاٹمنٹ اور بلڈنگ بنانے میں ایک عام آدمی کو لاتعداد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

یہ پلاٹس جو سرکاری نرخوں پر افسران اوربااثر افراد کو الاٹ کردیئےجاتے ہیں یہ درحقیقت مملکت پاکستان کے اثاثے ہیں اور ان کے اصل وارث وہاں کے رہنے والے ہیں۔اگر ان اثاثوں کا درست استعمال کیا جاتا اور مارکیٹ ویلیو کے مطابق فروخت کیا جاتا تو کئی ترقیاتی کام انجام دیئے جاسکتے تھے۔ کئی اسپتال اور تعلیمی ادارے قائم ہوسکتے تھے اور کئی لوگوں کو روزگار فراہم کیاجاسکتا تھااور کئی منصوبوں پر یہ پیسہ خرچ کیا جاسکتا تھا۔

اس ملک میں ان تمام خامیوں کے باوجود ہمارے پاس ایسے لاتعداد ذرائع ہیں جن کا درست استعمال کرکے ناامیدی کے سائے دور کئے جاسکتے ہیں ۔ناامیدی کی ایک بڑی وجہ سفارش، اقرباپروری اور رشوت ستانی ہے۔ملازمت کا حصول بھی بہت بڑا مسئلہ ہے اور انہی وجوہات کی بناء پر ہونہار نوجوان ناامیدی میں ڈوب جاتے ہیں۔

ان تمام مشکلات اور پریشانیوں سے خندہ پیشانی سے نمٹنا ہمارے نوجوانوں کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے ۔ خاص طور پر نئی نسل کے وہ نوجوان جنکی اکثریت متوسط یا غریب گھرانوں سے آتی ہے۔ آج کے پرآشوب اور نفسانفسی کے پل صراط کو عبور کرنے کے متمنی ان نوجوانان ملت کو درست سمت دکھانے کی ضرورت ہےاور یہ نوجوانان ملت کسی نہ کسی وجہ سے اپنے آپ کو مایوسی اور ناامیدی کی دلدل میں پھنسا پاتے ہیں۔اپنی اس تحریر میں اپنے نوجوانوں کو چند اشعار کے ذریعے یہی کہنا چاہتا ہوں ۔

میرے دیس کے جوانو ہمت نہ ہارنا

قدرت کا امتحاں ہے ہمت نہ ہارنا

نئی نسل کے چراغوامید رکھو باقی 

یہ ملک ہے تمہارا ہمت نہ ہارنا

خوشحال تم رہو گے سرشار تم رہو گے

دشوار اس گھڑی میں ہمت نہ ہارنا

یہ کالی گھٹا، یہ سیاسی دھماچوکڑی، یہ اقرباء پروری اور یہ رشوت ستانی ختم ہوکر رہے گی اور سی پیک اور دیگر منصوبوں کے ثمرات ہمیں ملیں گے۔ میرا دیس کے جوانوں کو یہی پیغام ہے کہ اس ملک میں ہمارے پاس اتنے ذرائع ہیں کہ اگر ہم اپنی تعلیم، تربیت اور ہنر کو بڑھاوا دیتے رہیں تو یہ ملک آنے والے دور میں ترقی کی منازل ضرور طے کریگا۔

Related Posts