نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے سیکورٹی خدشات کو جواز بناکر پاکستان میں سیریز کھیلنے سے انکار کردیاہے،اندازوں کے مطابق سیریز کے تین ون ڈے اور5ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ منسوخ ہونے سے پاکستان کو تقریباً ڈیڑھ ملین ڈالرز سے زیادہ کا نقصان ہواہے۔
پی سی بی نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے خلاف قانونی کارروائی کے آپشن پر غور کررہا ہے۔نومنتخب چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے نیوزی لینڈ سے آئی سی سی میں بات کرنے کی دھمکی ہے جبکہ وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے واقعہ کو سازش قراردیا ہے۔
کیوی ٹیم 18 برس بعد پاکستان سیریز کھیلنے آئی تھی جبکہ اس سے پہلے زمبابوے، بنگلہ دیش، سری لنکا اور جنوبی افریقہ کی ٹیمیں اور آئی سی سی الیون پاکستان میں کھیل چکی ہے۔ پاکستان میں سری لنکن ٹیم پر 2009 میں حملے کے بعد کئی سال کرکٹ کے میدان ویران رہے تاہم اب امن بحال ہونے کے بعد پاکستان میں پی ایس ایل کا انعقاد کامیابی کے ساتھ کیا جارہا ہے اور کئی غیر ملکی پرامن ماحول میں کرکٹ کھیل کر جاچکی ہیں تاہم نیوزی لینڈ نے پاکستان آمد اور تمام تر تیاریوں کے باوجود میچ سے قبل کھیلنے سے انکار کرکے ایک نیا تنازعہ پیدا کردیا ہے۔
کیوی ٹیم کے سیکورٹی مشیر کے مطابق انہیں سیکورٹی تھریٹ موصول ہوا ہے گو کہ انہوں نے اس دھمکی سے متعلق تفصیلات بتانے نہیں بتائیں تاہم اس دھمکی کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ سیریز منسوخ کردی ہے اور کیوی ٹیم گزشتہ شب اپنے دیس واپس روانہ ہوچکی ہے اور اب انگلینڈ کے آئندہ ماہ جبکہ فروری 2022 میں آسٹریلیا کے دورہ پاکستان پربھی غیر یقینی کے بادل چھاگئے ہیں۔وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو بتایا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کوا سٹیڈیم کے باہر حملے کا خوف تھا۔
جمعہ کو ہونیوالے واقعہ سے جہاں دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی وہاں کسی سنجیدہ مسئلے کو سنبھالنے اور سلجھانے کے بجائے فوری طور پر معاملے کو سازش کا رنگ دیکر مزید الجھادیا گیا۔
2009 میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد پاکستان میں تاحال کرکٹ مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکی اور نیوزی لینڈ کے دورہ منسوخی سے عالمی سطح پر ایک بار پھر پاکستان کے غیر محفوظ ملک کا تاثر ابھرا ہے جبکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جہاں وزرائے اعظم کے درمیان رابطہ ہوا وہیں دفتر خارجہ فوری نیوزی لینڈ میں سفارتخانے کو متحرک کرکے وہاں دورہ منسوخی رکوانے کی کوشش کرتا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو کوشش کرنی چاہیے تھی کہ کیوی ٹیم کو بطور مہمان پاکستان میں روک کر کسی بھی طرح تحفظات دور کئے جاتے ۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے معاملے میں شائد غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، وفاقی وزیر داخلہ نے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان دیکر نیوزی لینڈ کو مزید بھڑکانے کی کوشش کی حالانکہ اسلام آباد پولیس خود سیکورٹی خدشات کا اقرار کرچکی ہے۔
ایسے میں شیخ رشید کا نیوزی لینڈ کے خدشات کو سازش قرار دینا پاکستان کو عالمی سطح پر مزید بدنام کرنے کا سبب بنا ۔ شیخ رشید کو چاہیے تھا کہ فوری سیکورٹی حکام کی میٹنگ بلاتے اور سیکورٹی کے حوالے سے لاحق خدشات کو دور کرنے کیلئے لائحہ بناتے لیکن انہوں نے معاملہ سلجھانے کے بجائے مزید الجھادیا ہے۔
آئی سی سی میں قانونی چارہ جوئی کرنا پاکستان کرکٹ بورڈ کا حق ہے اور اس سے کوئی روک نہیں سکتا لیکن پاکستان کو اس کیس کو عالمی فورمز پر اٹھانے سے پہلے ایک بار پھر کیس کا جائزہ لینا چاہیے کیونکہ ایک طرف ہمارے اپنے ادارے سیکورٹی خدشات کی تصدیق کررہے ہیں تو ایسے میں ہم آئی سی سی یا کسی بھی عالمی فورم پر کیسے نیوزی لینڈ کو غلط ثابت کرسکتے ہیں۔ حکومت اور کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ دوبارہ معاملے کاتفصیل سے جائزہ لینے کے بعد کوئی اگلا قدم اٹھائے تاکہ ایسا نہ ہوکہ پاکستان کو مزید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔