وفاقی وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے رواں برس اپریل کے دوران امریکا کا دورہ کیا جس میں ان کی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے عہدیداران سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس دوران مفتاح اسماعیل تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے ایک مذاکرے میں شرکت کیلئے بھی چلے گئے۔
سوشل میڈیا پر وفاقی وزیرِ خزانہ کی قابلیت پر سوالات اٹھائے گئے کیونکہ مفتاح اسماعیل نے ایک موقعے پر لاعلمی کا اظہار کیا جب ماہرِ معاشیات عزیر یونس نے سوال اٹھایا کہ آپ ویب تھری پوائنٹ زیرو پر کیا رائے رکھتے ہیں؟
انہوں نے اپنا تجزیہ بھی بتایا کہ آئندہ 20 سال میں ویب 3.0 سے پاکستان میں 100 ارب ڈالر کی برآمدات سے حاصل کردہ آمدنی لائی جاسکتی ہے۔ مفتاح اسماعیل نے برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ میں ویب 3.0 کے متعلق نہیں جانتا۔ انڈسٹری کو فروغ دینے کے متعلق میری معلومات محدود ہیں۔
دراصل ویب 3.0 ایک نسبتاً نئی ٹیکنالوجی ہے جو انٹرنیٹ کا حلیہ بدل کر رکھ دے گی۔ اس میں بلاک چین ٹیکنالوجی، این ایف ٹی اور اَن بلاک۔ایبل ڈومینز سمیت متعدد فیچرز شامل ہیں جو موجودہ انٹرنیٹ پر دیکھنے کو نہیں ملتے۔
نئی ٹیکنالوجی سے پاکستان کا ہمسایہ ملک بھارت بھی اربوں ڈالرز کی آمدنی کی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے۔ نیسکام کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کو ویب 3.0 کے تحت صرف کرپٹو انڈسٹری سے 2030 تک 184 ارب ڈالرز تک آمدنی کی توقع ہے۔
بلاشبہ وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل کا اظہارِ لاعلمی بھی ان کی وسعتِ قلبی کی عکاسی کرتا ہے جبکہ ہمارے زیادہ تر سیاستدان اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پسند نہیں کرتے بلکہ اپنی خامیوں کی بجائے خوبیاں گنوائی جاتی ہیں۔
تاہم ویب 3.0 کے ذریعے پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ شعبہ جات میں انقلاب لایا جاسکتا ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک میں این ایف ٹی سمیت ویب 3.0 کے مختلف شعبہ جات سے آمدنی کا پہلے ہی آغاز کردیا گیا ہے۔
ویب 3.0 کا سب سے بڑا فیچر اس کا غیر مرتکز ہونا قرار دیا جارہا ہے۔ مثلاً آج کل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ای کامرس کمپنیاں کسی نہ کسی سماجی رابطہ جن (سوشل میڈیا جائنٹ) کے زیرِ سایہ کام کرتی ہیں مثلاً فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز ہمارے سامنے ہیں۔
دوسری جانب ویب 3.0 کے نام سے ڈی سنٹرالائزڈ پلیٹ فارمز اور میٹا ورس کی صورت میں نت نئی اختراعات سامنے لائی جارہی ہیں۔ عموماً ایک ویب سائٹ کیلئے سالانہ ہوسٹنگ کے پیسے دینے پڑتے ہیں تاہم ویب 3.0 کی اَن اسٹاپ ایبل ڈومینز کیلئے بار بار رقم کی ادائیگی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکا، جاپان اور چین کی مثال اپنے سامنے رکھتے ہوئے پاکستان بھی ترقی کے راستے کو اپنائے اور ہمارے کمپنیاں بھی ویب 3.0 سمیت دیگر جدید ترین ٹیکنالوجیز کو سیکھیں اور ان کا استعمال کریں تاکہ ہمارا ملک بھی وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوسکے۔