دینِ اسلام نے مسجد کی عمارت کو انتہائی خاص اہمیت دی ہے۔ یہ وہ عمارت ہے جہاں لوگ کچھ وقت کیلئے نماز پڑھنے اور دُنیا کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے کیلئے آتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہیں اور پھر اجتماعی دعاؤں میں شامل ہو کر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں۔
اسلام کی نظر میں قرآن کی اہمیت مسلمہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب ہے جو اس کے پیارے محبوب اور آخری رسولِ مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل ہوئی۔ جب رسول اللہ ﷺ کے وصال کا وقت قریب آیا تو صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جذباتی کیفیت دیدنی تھی۔
ایک موقعے پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جاتا ہوں، اگر انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے، یعنی اللہ کی کتاب (قرآنِ کریم) اور اس کے نبی (محمدِ عربی ﷺ) کی سنت۔ اس حدیث کو حاکم اور امام مالک نے روایت کیا ہے۔
مذکورہ بالا حدیث کی روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منسوب کی جاتی ہے جو بطور راوی رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے کا شرف رکھتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں سب سے زیادہ اہم قرآنِ پاک ہے، پھر حدیث و سنت اور اس کے بعد علمِ دین کے دیگر ذرائع کی اہمیت سامنے آتی ہے۔
افسوس، کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے قرآنِ پاک کی تلاوت اور حفظِ حدیث سمیت دیگر دینی سرگرمیاں اور مشاغل ترک کرکے دنیا کی روش اپنا لی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دینی شعائر اپنانا باعثِ ندامت بنتا چلا گیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ اگر کوئی داڑھی رکھ لے تو مغربی ممالک کی بات تو چھوڑئیے، مشرقی معاشروں میں بھی اسے مولوی کہہ کر چڑایا جاتا ہے۔
مذہبی اعتبار سے یہ بڑا تشویشناک دور ہے جس میں علمائے کرام کے فرائض بے حد اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ علمائے کرام پر یہ بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مختلف فرقوں میں منقسم عوام کو اسلام کے بلند اخلاق، ایمانداری اور رسول اللہ ﷺ سے محبت جیسی اقدار کی طرف لائیں۔
آج ہم منبر و محراب سے کافر کافر کی صدائیں بلند ہوتی دیکھتے ہیں۔ آج شیعہ سنی اور اہلِ حدیث، وہابی، دیوبندی اور بریلوی کا نام لے لے کر مختلف فرقوں میں تقسیم پیدا کی جاتی ہے جبکہ پاکستان پہلے ہی سندھی، بلوچی، پشتون اور پنجابی کی تقسیم سے باہر نہیں نکل سکا۔
رسول اللہ ﷺ نے من حیث القوم مسلمانوں کو یہ نہیں سکھایا تھا کہ وہ اپنے سے مختلف العقیدہ افراد کو جینے کا حق ہی نہ دیں کیونکہ مختلف مسلک والے لوگ کم از کم اس بات پر تو متفق ہیں کہ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور اللہ تعالیٰ ہی واحد عبادت کے لائق ذات ہے۔
اس کے مقابلے میں سکھ، ہندو یا عیسائی کی بات کیجئے تو وہ اس سے کہیں زیادہ مختلف عقائد رکھتے ہیں لیکن اسلام نے سب کو جینے کا برابر حق دیا اور یہ سکھایا کہ اگر آپ کسی بت پرست کے خدا کو گالی دیں گے تو معاذ اللہ آپ کے معبودِ حقیقی کے متعلق بھی ایسی ہی غلیظ زبان استعمال کی جاسکتی ہے۔
مولانا طارق جمیل، مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمان سمیت متعدد علمائے کرام اپنی مختلف تقاریر میں فرقہ واریت کو قوم کیلئے زہرِ قاتل قرار دے چکے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے گلی محلوں میں قائم مساجد اور مدرسوں میں بھی یکجہتی اور اتحاد و اتفاق کے ساتھ عوام کو فرقہ وارانہ منافرت سے دور رہنے کی ترغیب دی جائے۔