او آئی سی اجلاس

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو افغانستان جیسی صورتحال کا سامنا نہیں، وہاں سالہا سال کرپٹ حکومتیں رہیں، افغانستان کے حالات کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا،اگر افغان عوام کی امداد کیلئے کوئی اقدام نہ اٹھایا گیا تو افغانستان میں سب سے بڑا انسانی بحران دیکھنا پڑیگا، اگر دنیا کو داعش کے خطرے سے بچانا ہے تو افغانستان کو مستحکم کرنا ہوگا۔

پاکستان میں 19 دسمبر کو اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کونسل کا17 واں اجلاس ہوا،اسلامی تعاون تنظیم کا یہ غیر معمولی اجلاس افغانستان کے موجودہ بحران پر غور کے لئے طلب کیا گیا ،عالمی میڈیا نے پاکستان میں ہونے والے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کو نمایاں کوریج دی۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق یقیناً اوآئی سی 57 ممالک پر محیط ایک مضبوط اور مربوط بلاک ہے جس کی باگ ڈور سنبھالنے میں سعودی عرب کا ایک کلیدی کردار رہا ہے اور سعودی عرب کے ہی زیر اثر بیشتر ممبر ممالک فیصلہ سازی میں معاونت کرتے ہیں۔او آئی سی کے چارٹر کے آرٹیکل 10 کے تحت وزرائے خارجہ کی کونسل کا غیر معمولی اجلاس گزشتہ روز بلایاگیا۔4 دہائیاں قبل بھی پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے اسی قسم کے اجلاس کا انعقاد کیا تھا۔

پاکستان میں ہونیوالے اس غیر رسمی اجلاس کو پوری دنیا میں انتہائی سنجیدگی سے دیکھاگیا اور پاکستان نے افغان عوام کی مدد کیلئے 6 نکاتی فریم ورک کی تجویز پیش کر دی ۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ او آئی سی ممالک کو فوری طور پرافغان عوام کی مدد کرنا ہوگی، افغانستان میں تعلیم ،صحت اورتکنیکی شعبوں میں سرمایہ کاری کرناہوگی۔

انسداد دہشت گردی اور منشیات کے خاتمے کیلئے افغان اداروں کی استعدادکار بڑھائی جائے،افغانستان میں انسانی حقوق، خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر فغان حکام کے ساتھ بات چیت کی جائے۔،افغانستان میں دہشتگردی کی روک تھام کیلئے افغان حکام سے مل کرکام کیاجائے۔

کانفرنس میں فوڈسیکورٹی پروگرام، اسلامی ممالک افغانستان کی امداد اورٹرسٹ فنڈ بنانے پر متفق نظر آئے،اسلامی ترقیاتی بینک کا خاص خصوصی اکائونٹ، نمائندہ خصوصی بھی مقررہوگا،اجلاس میں منظور قرارداد میں تمام شعبوں میں افغان خواتین کی بامعنی شرکت، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق، توانائی، ٹرانسپورٹ اور مواصلاتی منصوبوں پر عملدرآمد پر زوردیاگیا، بند کمرے میں افغان قیادت کی بات بھی سنی گئی۔

او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کاکہنا تھاکہ افغانستان کے عوام کو مدد کی اشد ضرورت ہے جبکہ ترک وزیر خارجہ نے او آئی سی کودیگرعالمی اداروں سے مل کرافغان بحران پرقابو پانے کیلئے کام کرنے کا مشورہ دیا۔اردن نے افغانستان کی سلامتی اور نائیجریا نے افغان عوام کی مدد کا معاملہ اٹھایا۔

اقوام متحدہ کے نمائندے نے افغانستان کے بحران کو خطرناک قرار دیا اوراسلامک ڈیویلپمنٹ بینک کے چیئرمین نے باہمی معاونت سے اور مل جل کر مسئلے کے حل پر زور دیا۔

اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں افغان عوام کیلئے خوش آئند بات یہ ہوئی کہ سعودی عرب نے افغانستان کے لئے ایک ارب ریال امداد دینے کا اعلان کیا۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کااو آئی سی وزرائے کونسل اجلاس کے پاکستان میں انعقاد کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہناہے کہ الحمدللہ ہم ایک پیغام بھیجنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

اہم بات تو یہ ہے کہ اس اجلاس میں عبوری افغان حکومت کے وزیرخارجہ امیر متقی بھی شریک ہوئے اور ان کا مطالبہ تھا کہ دنیا طالبان حکومت کو تسلیم کرے، ہر ملک افغانستان کو اپنی نظر سے دیکھے ،افغانستان پرامن اورحکومت مضبوط ہے ۔دنیا کے لوگ وہاں آسکتے ہیں ۔

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ امریکا نے افغانستان سے انخلاء کے بعد افغانستان کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیا ہے اور اب افغانستان کی امداد کو وعدوں کی تکمیل سے مشروط کردیا ہے جبکہ طالبان حکومت وسائل کی عدم دستیابی اور اثاثے منجمد ہونے کی وجہ سے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات سے قاصر نظر آتی ہے۔پاکستان نے پوری دنیا کو افغانستان مسئلے سے پوری شدت کے ساتھ روشناس کروادیا ہے اب دنیا کی ذمہ داری ہے کہ افغانستان کو دہشت گردی اور دیگر مسائل سے بچانے کیلئے اقدامات اٹھا جائیں۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ دنیا افغانستان میں انسانی بحران کو بڑھنے سے روکنے کیلئے فوری اپنا کردار ادا کرے اور افغان عوام کو مشکلات سے نکالنے کیلئے منجمد اثاثے بحال اور فوری امداد فراہم کی جائے کیونکہ افغانستان میں پیدا ہونیوالے انسانی المیے کی صورت میں دنیا پر مہاجرین کا بوجھ مزید بڑھ جائیگا اور پاکستان اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔

Related Posts