غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد: پاکستان نے امریکی ویٹو کو ’’تاریخی سیاہ لمحہ‘‘ قرار دیدیا

تازہ ترین

تازہ ترین

Pakistan calls US veto of Gaza ceasefire a ‘dark moment’
ONLINE

اقوام متحدہ میں پاکستان نے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو امریکہ کی جانب سے ویٹو کیے جانے کو ’’تاریخی سیاہ لمحہ‘‘ قرار دیا ہے اور واشنگٹن پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اس مؤقف پر نظرِ ثانی کرے۔

جمعرات کے روز امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اس قرارداد کو ویٹو کیا جس میں غزہ میں غیر مشروط جنگ بندی اور اسرائیل کی جانب سے محصور فلسطینی علاقے میں امداد کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

پاکستان نے اس اقدام پر گہرے افسوس کا اظہار کیا، خاص طور پر اس قرارداد کے حوالے سے جو محض انسانی ہمدردی کے تناظر میں پیش کی گئی تھی۔

پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب آصف افتخار احمد نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس اور ہائی لیول ویک کے موقع پر اور سلامتی کونسل کے 10 ہزارویں اجلاس میں ایک انتہائی سیاہ لمحہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ قرارداد کی منظوری میں رکاوٹ صرف ویٹو کے استعمال سے پیدا ہوئی اور یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس پر جوابدہی ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب انسانیت شدید تکلیف میں مبتلا ہے، سلامتی کونسل کو اپنے فرائض کی ادائیگی سے روکنا دراصل اس اذیت کو مزید طول دینے کے مترادف ہے۔

پاکستانی مندوب نے غزہ کی سنگین صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے عوام ایک طرف اسرائیلی بمباری اور دوسری جانب ناکہ بندی کی اذیت میں پھنسے ہوئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور میئر لندن صادق خان کے جھگڑے کی وجہ جانتے ہیں؟

اس الم ناک پس منظر میں آج کی ناکامی یہ خطرناک پیغام دیتی ہے کہ محصور فلسطینیوں کی زندگیاں سیاسی مصلحتوں کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر گھنٹے کی رکاوٹ زخم کو گہرا اور عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ ناکامی نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان بڑھا رہی ہے بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔

آصف افتخار احمد نے کہا کہ غزہ میں قحط کے پھیلنے کا خدشہ ہے، اسرائیلی حملے روزانہ درجنوں جانیں لے رہے ہیں، لاکھوں افراد بے گھر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں جبکہ مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیاں دو ریاستی حل کو ختم کرنے کی سازش کو بے نقاب کرتی ہیں۔

انہوں نے اس صورتحال کواکیسویں صدی میں نوآبادیاتی قبضے کی بدترین شکل قرار دیا۔

پاکستان نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد، خود ارادیت، وقار اور انصاف کے حق میں کھڑا ہے اور فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کے ساتھ ساتھ ناکہ بندی کے خاتمے اور مکمل انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کرتا ہے۔

پاکستان نے ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا، جس کی سرحدیں 1967 سے پہلے والی ہوں اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم انسانیت، انصاف اور بین الاقوامی قانون کے ساتھ کھڑے ہیں۔الجزائر کے اقوام متحدہ میں مندوب عمار بندجما نے ووٹنگ کے بعد کہاکہ ہم معذرت خواہ ہیں کہ اس کونسل کی تمام کوششوں کے باوجود ہم آپ کے لیے مددگار ثابت نہ ہوسکے۔

ریاستِ فلسطین کے مندوب ریاض منصور نے کہا کہ عالمی برادری اب مزید فلسطینی عوام کو مایوس نہیں کرسکتی۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا بھر کو مل کر اس نسل کشی اور المیے کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

Related Posts