پاکستانی ایرو اسپیس انجینئر سارہ قریشی نے دنیا کا پہلا ماحول دوست ہوائی جہاز کا انجن ایجاد کرکے شاندار کارنامہ انجام دیا ہے۔
سارہ ایرو انجن کرافٹ کی سی ای او ہیں، پاکستان کی پہلی نجی ہوا بازی کمپنی، جسے انہوں نے اپنے والد کے ساتھ مل کر شروع کیا۔ ان کی کمپنی ماحول دوست ہوائی جہاز کے انجن کو تیار کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔
سارہ کے والد مسعود لطیف قریشی پاکستان کے ایک معروف سائنسدان ہیں اور انہیں ہوا بازی کے شعبے میں کافی تجربہ ہے۔ جیسا کہ سارہ نے کام میں اپنے والد کی مدد کی۔
سارہ نے پاکستان کی معروف نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مکینیکل انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا پرائیویٹ پائلٹ لائسنس حاصل کیا اور ایرو اسپیس ڈائنامکس میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔
سارہ کی بنیادی توجہ ماحول دوست ہوائی جہاز کے انجن کی تیاری پر رہی ہے۔ ان کی ایجاد کا مقصد پرواز کے دوران گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے پیدا ہونے والے منفی ماحولیاتی اثرات کو کم کرنا ہے۔
مزید پڑھیں:موسمیاتی تبدیلی اور آغا خان یونیورسٹی کا منفرد کردار
ایرو اسپیس انجینئر اور سی ای او کے طور پر سارہ کے کارنامے واقعی قابل تعریف ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








