فلسطین، اسرائیل: دنیا کا کونسا ملک کس کے ساتھ کھڑا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

 

غزہ میں جیسے جیسے بے گناہ فلسطینی شہریوں کی شہادتیں بڑھ رہی ہیں اور حالات خراب ہو رہے ہیں، غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری بین الاقوامی رائے عامہ کو تیزی سے تقسیم کر رہی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے فوراً بعد بہت سے ممالک نے ابتدا میں اسرائیل کی حمایت کی تھی، تاہم اسرائیل کے غزہ پر بلا امتیاز فضائی اور زمینی حملوں کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

اسرائیل کا ظلم بڑھنے کے ساتھ ساتھ صورتحال یہ ہے کہ بعض ممالک نے جنگ کے حوالے سے اپنے موقف پر نظر ثانی کی ہے۔ اس تنازع پر موجودہ بین الاقوامی بحث کا مرکز اب جنگ بندی کا مسئلہ ہے۔

موجودہ صورتحال میں اب کچھ ممالک نے اسرائیل پر اپنی تنقید بڑھا دی ہے جبکہ بہت سے ممالک نے اپنے سفیروں کو یا تو اسرائیل سے واپس بلا لیا ہے یا اسرائیل سے اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ہیں۔ یہاں تک کہ جنگ بندی کی قرارداد کے خلاف ووٹ دینے والے امریکہ نے بھی اپنا موقف نرم کر لیا ہے اور امریکی صدر جو بائیڈن نے لڑائی میں ’وقفے‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

یہاں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ اسرائیل حماس جنگ کے بارے میں دنیا بھر کے ممالک نے کیا کہا ہے اور اقوام متحدہ میں انھوں نے کس کی حمایت اور کس کی مخالفت میں ووٹ دیے۔

امریکا اسرائیل کا سب سے بڑا مددگار

بعض مغربی ممالک کی حکومتوں نے جنگ کے آغاز سے ہی کُھلے عام اسرائیل کی حمایت کی ہے، ان میں امریکا سرفہرست ہے، گو اسرائیل کا ظلم حد سے بڑھنے کے بعد امریکا نے اپنا موقف کچھ نرم کرلیا ہے، تاہم وہ اب بھی سختی سے اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہے۔

یورپی ممالک کی صورتحال

یورپی یونین نے اسرائیل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ’حماس کے حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی‘ لیکن مختلف رکن ممالک میں جنگ بندی کے حوالے سے اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔

جرمنی اور اٹلی نے اسرائیل کے حق دفاع کی حمایت کی ہے لیکن انھوں نے اقوام متحدہ کی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ اسپین اور فرانس جیسے دیگر ممالک نے اسرائیل کے حق میں ووٹ دیا۔

فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ فرانس ’اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کا حامی ہے‘ لیکن اب انھوں نے اپنی پوزیشن میں قدرے تبدیلی کی ہے۔ یہ تبدیلی شاید غزہ کے شہریوں کی ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے نتیجے میں آئی ہے۔

مشرق وسطیٰ

مشرق وسطی میں متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے ممالک نے ابتدا میں حماس کے حملوں کی مذمت کی تھی کیونکہ یہ دونوں ممالک ابراہم معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش کر رہے تھے۔

تاہم گذشتہ ہفتے بحرین نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا اور بحرین میں اسرائیلی سفیر ملک چھوڑ کر چلے گئے۔

اردن نے بھی اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

سعودی عرب اگرچہ اسرائیل کے ساتھ ممکنہ معمول کے معاہدے کے بارے میں مہینوں سے بات چیت کر رہا ہے لیکن ابھی وہ ابراہم معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ اس نے بھی تشدد کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

26 اکتوبر کو متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، سعودی عرب، عمان، قطر، کویت، مصر اور مراکش کے وزرائے خارجہ نے بیک آواز ’غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی‘ کی مذمت کی۔

ان کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اپنے دفاع کا حق قانون شکنی اور فلسطینیوں کے حقوق کو نظر انداز کرنے کا جواز نہیں بنتا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے حال ہی میں حماس کو ’مجاہدین آزادی‘ کہا ہے جو فلسطین کی آزادی کی جدوجہد میں شامل ہے۔

معصوم فلسطینی بچے پر بدترین اسرائیلی ظلم۔ امریکا بھی چیخ اٹھا

گذشتہ ہفتے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مسلم ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اقتصادی تعلقات منقطع کریں اور اسرائیل کو تیل اور خوراک کی برآمدات میں روک دیں، یوں ایران فلسطینیوں کی حمایت میں کھل کر کھڑا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ابتدائی طور پر جنگ میں ثالثی کا لہجہ اختیار کرنے کی کوشش کی لیکن 17 اکتوبر کو غزہ کے الاہلی عرب ہسپتال میں ہونے والے دھماکے کے بعد اپنے لب و لہجے کو سخت کر دیا۔

اپنے بہت سے نیٹو اتحادیوں اور یورپی یونین کے برعکس ترکیہ حماس کو دہشت گرد تنظیم نہیں مانتا اور اس کے ارکان کی میزبانی کرتا ہے۔

روس

اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد روس کے رہنما ولادیمیر پوتن نے ابتدائی چند دنوں تک خاموشی اختیار کیے رکھی اور اپنے ابتدائی تبصروں میں انھوں نے اسرائیل پر تنقید کے بجائے امریکہ پر تنقید کی اور کہا کہ جو کچھ ہوا اس سے ’مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسی کی ناکامی‘ ظاہر ہوتی ہے۔

جنگ شروع ہونے کے ایک ہفتے بعد صدر پوتن نے کہا کہ اسرائیل کو حماس کے عسکریت پسندوں کی طرف سے بے مثال حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا لیکن وہ اپنے ظالمانہ طریقوں سے جواب دے رہا ہے۔

کریملن نے اسرائیل سے نہ تو تعزیت کی ہے اور نہ ہی حماس کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ روس نے 26 اکتوبر کو ماسکو میں حماس کے ایک وفد کی میزبانی کی تھی جس میں روسی شہریوں سمیت مغویوں کی رہائی پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

روس نے چین کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے کو ویٹو کر دیا، جبکہ دوسری جانب روسی حمایت یافتہ قرارداد اپنے حق میں خاطر خواہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

روس نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جس میں 27 اکتوبر کو انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ایشیا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریباً تمام ایشیائی ممالک نے جنگ بندی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

چین مشرق وسطیٰ میں خود کو قیام امن کے ثالث کی پوزیشن میں لانے کی کوشش کر رہا ہے، اس نے حماس کے حملوں کے بعد ایک ابتدائی بیان میں متعلقہ فریقوں سے پرسکون رہنے، تحمل سے کام لینے اور شہریوں کی حفاظت کے لیے فوری طور پر دشمنی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ تنازع سے نکلنے کا راستہ دو ریاستی حل پر عمل درآمد اور فلسطین کی ایک آزاد ریاست کے قیام میں مضمر ہے۔

تنازع کے ایک ہفتے بعد چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی کارروائیاں اپنے دفاع کے دائرہ کار سے تجاوز کر گئی ہیں اور اسرائیلی حکومت کو غزہ کے لوگوں پر اپنی اجتماعی سزا بند کرنا پڑے گی۔

انڈیا ان ممالک میں سے ایک ہے جس نے اقوام متحدہ کی قرارداد پر ووٹنگ سے گریز کیا۔ انڈین حکومت کے اس اقدام کو حزب اختلاف کی جماعتوں نے ’حیران کن‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

آزادی کے ابتدائی سالوں میں انڈیا کے فلسطینیوں کے ساتھ قریبی تعلقات رہے تھے اور سرکاری پالیسی دو ریاستی حل کی حمایت کرنا تھی لیکن جب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی دائیں بازو کی حکومت اقتدار میں آئی ہے انڈیا نے اسرائیل کے ساتھ تیزی سے تعلقات مضبوط کیے ہیں۔

7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد اپنے ابتدائی بیان میں مودی نے کہا: انڈیا کے لوگ اس مشکل گھڑی میں مضبوطی سے اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انڈیا دہشت گردی کی تمام شکلوں کی واضح طور پر مذمت کرتا ہے۔

پاکستان کے اگرچہ اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں تاہم اس معاملے پر اس کی پوزیشن نظریاتی طور پر واضح ہے جبکہ عملی طور پر ریاست پاکستان خاموش ہے۔

افریقہ

55 ممالک کے اتحاد پر مبنی افریقی یونین نے 7 اکتوبر کو فلسطین کی حمایت میں ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق، خاص طور پر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام سے انکار، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مستقل کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے۔

صومالیہ کے وزیر اعظم حمزہ عبدی بیرے نے کھل کر کہا کہ ان کی حکومت حماس کو دہشت گرد تنظیم نہیں مانتی اور اس تنظیم کو مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

تیونس کی پارلیمنٹ اس وقت ایک مسودہ قانون پر بحث کر رہی ہے جو اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس ملک کے ساتھ بلاواسطہ یا بالواسطہ تعلقات قائم کرنے کو جرم قرار دے گا۔

دیگر افریقی ریاستوں میں کیمرون، ایتھوپیا، جنوبی سوڈان اور زیمبیا شامل ہیں، جنرل اسمبلی میں انھوں نے ووٹنگ سے پرہیز کیا۔

بہر حال 27 اکتوبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کو کسی افریقی ریاست نے مسترد نہیں کیا۔

لاطینی امریکہ

لاطینی امریکہ کے بیشتر ممالک نے اقوام متحدہ کی قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا۔

گزشتہ ہفتے بولیویا لاطینی امریکہ کا پہلا ملک بنا جس نے غزہ میں اسرائیلی حملے شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کر دیے۔

دو دیگر لاطینی امریکی ممالک کولمبیا اور چلی نے غزہ میں بڑھتے ہوئے انسانی بحران پر اپنے سفیروں کو اسرائیل سے واپس بلا لیا ہے۔

کولمبیا نے جنگ کے آغاز سے ہی غزہ پر اسرائیل کے حملوں پر شدید تنقید کی ہے۔ صدر گستاو پیٹرو نے کہا کہ ’ہم نسل کشی کی حمایت نہیں کرتے‘ اور انھوں نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی ہے۔

جہاں برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے ابتدا میں حماس کے حملوں کی مذمت کی اور تمام مغویوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا وہیں انھوں نے ایک حالیہ بیان میں غزہ میں اسرائیل کی دراندازی پر کڑی تنقید کی ہے۔

25 اکتوبر کو لولا دا سلوا نے کہا جو کچھ ہو رہا ہے وہ جنگ نہیں ہے بلکہ نسل کشی ہے جس میں تقریباً 2000 بچوں کو قتل کر دیا گیا ہے جن کا اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ اس جنگ کا شکار ہیں۔

پیراگوئے اور گوئٹے مالا جنوبی یا وسطی امریکہ کے واحد ممالک ہیں جنھوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد کے خلاف ووٹ دیے۔

 

Related Posts