کورونا ختم نہیں ہوا، کمی کا رجحان برقرار رکھنا ضروری ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

کورونا وائرس وبائی مرض کے ابتدائی مرکز ووہان میں سات ماہ میں پہلی بار تمام اسکول دوبارہ کھول دیئے گئے ہیں تاہم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ عالمی ادارہ بچوں کو اسکولوں اور لوگوں کو اپنے مقامات پر لوٹتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے لیکن کسی بھی ملک کو یہ دکھاوا نہیں کرنا چاہئے کہ وبائی بیماری ختم ہوگئی ہے۔

چونکہ بہت سے ممالک میں کورونا کے کیسز میں کمی دیکھی جارہی ہے اس لئے لوگ لاک ڈاؤن اور حفاظتی احتیاطی تدابیر کے حوالے سے اقدامات میں کمی کررہے ہیں۔

ماسک پہنے لوگوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے اور بیشتر معمولی سرگرمیاں  جاری ہیں جس کی وجہ سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ آنے والی سردیوں میں دوبارہ کورونا وائرس پھیل سکتا ہے جس کے نتیجے میں انفیکشن کی انتہائی خوفناک دوسری لہر آ ​​سکتی ہے۔

اس وقت دنیا میں کورونا کیسوں کی کل تعداد 25 ملین سے تجاوز کر چکی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 850000 کو عبور کر چکی ہے۔ بہت سے ممالک میں بڑی تعداد میں کیسز درج ہیں۔

گذشتہ ہفتے کے دوران ہی ہندوستان میں ایک ہی دن میں ریکارڈ 70ہزارسے زائد کیسز سامنے آئے ہیں۔ سانس کی بیماری جنوب مشرقی ایشیاء ، لاطینی امریکہ اور افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں بھی بڑھ رہی ہے۔

ووہان میں بھی ہزاروں طلبہ انتباہات کے باوجود اسکولوں میں جمع ہوئے ۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ بڑے اجتماعات کے انعقاد کا فیصلہ مقامی تناظر میں رسک پر مبنی نقطہ نظر کے ساتھ لیا جانا چاہئے۔

اس وقت کورونا کے معاملے پر دنیا منقسم ہے کیونکہ کچھ ممالک نے وائرس پر قابو پالیا ہے جبکہ دیگر ابھی بھی سنگین صورتحال سے دوچار ہیں۔

پاکستان نے بھی اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایس او پیز تیار کی ہیں جن پر عمل درآمد کرنا خاص طور پر بچوں کے لئے معاشرتی دوری پر عمل پیرا ہونا مشکل ہوگا۔ اساتذہ کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوتا اور اسکول انتظامیہ پر شدید دباؤ پڑتا دکھائی دے رہا۔

یہ بھی غیر یقینی بات ہے کہ یہ کب تک چل سکتا ہے کیونکہ اسکول میں معمولی سی غفلت بھی افراتفری کا سبب بن سکتی ہے۔

ہم یقینی طور پر ان قوموں میں سے ایک ہیں جو یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ کورونا وائرس وبائی بیماری ختم ہوگئی ہے تاہم صحت کے انتباہات کی طرف توجہ دینا اور تمام پروٹوکولز کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اگر معاملات میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو یہ پریشانی کی بات ہوگی لہٰذا کورونا میں کمی کے رجحان کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

Related Posts