پارلیمانی آداب اور سندھ اسمبلی

تازہ ترین

تازہ ترین

گزشتہ کچھ دنوں سے سندھ اسمبلی میں اندرونی خلفشار کے علاوہ کچھ  دیکھنے میں نہیں آیا، زیادہ تر حزب اختلاف خاص طور پر پی ٹی آئی کے ذریعے مسلسل ہنگامہ آرائی کا سلسلہ جاری ہے اور عوامی مسائل نظر انداز کیے جارہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے سندھ اسمبلی نے بجٹ کو مشترکہ اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے دوران ہی منظور کر لیا اور حزبِ اختلاف نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ احتجاج نے سندھ حکومت کو اپوزیشن لیڈر کے حتمی تاثرات کے بغیر بجٹ منظور کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بجٹ کی منظوری ایک غیر معمولی واقعہ تھا کیونکہ اپوزیشن نے ایک کٹ موشن کو ناکام بنانے کی بجائے ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالتے ہوئے شور شرابے کا سہارا لیا۔

قبل ازیں پی ٹی آئی کے متعدد ارکان پارلیمنٹ  میں چارپائی لے آئے تھے جسے ہم جمہوریت کا جنازہ قرار دے سکتے ہیں، لیکن اس کے بعد ڈھول پیٹے گئے اور ایسا ظاہر کیا گیا جیسے ایوان کے قریب شادی ہورہی ہے۔ اسپیکر نے اس طرز عمل پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کیا اور  پی ٹی آئی کے اراکین کو اجلاس میں شرکت سے روک دیا۔یہ ہنگامہ آرائی یہاں ختم نہیں ہوئی اور اراکین نے اگلے روز اسمبلی کی عمارت کے باہر دھرنا دیا اور اسمبلی میں داخل ہو گئے۔ 

قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آپس میں جھڑپ ہونے اور بجٹ پیش کیے جانے کے بعد ہم نے اسی طرح کے ناروا سلوک کا مشاہدہ کیا تھا۔ یہ کئی دنوں تک جاری رہا جس کے دوران ہم نے قانون سازوں کوبدسلوکی اور غنڈہ گردی سمیت مختلف عناصر کے ساتھ باہم دست و گریباں دیکھا۔ آخر کار قومی اسمبلی کی کارروائی کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئی لیکن پھر سندھ اسمبلی میں بھی یہ ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ 

سیاستدان اب بھی سندھ اسمبلی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی پر شدید تنقید کررہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر سندھ حلیم عادل شیخ نے اس کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامہ آرائی سندھ حکومت کے ظلم اور زیادتیوں کی وجہ سے ضروری تھی۔ پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے اچانک استعفیٰ دے دیا جس کی وجہ اپوزیشن لیڈر کو بولنے کی اجازت نہ دینا تھا۔مرکز میں موجود پی ٹی آئی رہنماؤں نے حزب اختلاف کی آواز دبانے پر پیپلز پارٹی پر تنقید کے نشتر برساتے ہوئے اسے بد ترین آمریت قرار دیا۔

قانون سازوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کی بنیادی ذمہ داری اپنے اپنے انتخابی حلقوں کے مسائل کو سمجھنا، ان پر توجہ دینا اور حل کرنا ہے۔ یہ حربے قیمتی وقت اور وسائل کو ضائع کرتے ہیں جس کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا۔اراکینِ اسمبلی کو زیب نہیں دیتا کہ عوامی مسائل پر توجہ دینے کی بجائے ہنگامہ آرائی کا سہارا لے کر وقت برباد کریں۔

Related Posts