وزیر اعظم کا دورہ سعودیہ

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ تعلقات قائم ہیں اور دونوں برادر اسلامی ممالک نے کئی دہائیوں تک بہترین تعلقات کا لطف اٹھایا ہے تاہم گزشتہ کچھ عرصہ کے دوران پاک سعودیہ تعلقات می سرد مہری دیکھنے میں آئی لیکن حالیہ مہینوں میں دوطرفہ بدگمانیوں کو کم کرکے تعلقات کو بحال کرلیا گیا اور وزیراعظم پاکستان کا دورہ سعودیہ تعلقات میں بہتری کا مظہر ہے۔

حالیہ دورہ میں صورتحال پہلے سے مختلف تھی ،وزیر اعظم جدہ پہنچے توسعودی ولی عہد شہزادہ سلمان خود ان کا استقبال کرنے ائیرپورٹ پر موجود تھے۔ یہ سعودی قیادت کا غیر معمولی اشارہ تھا اور سعودی میڈیا میں اس کی وسیع کوریج کی گئی اس سے قبل سعودی قیادت کووزیر اعظم عمران خان کی جانب سے کشمیر کے بارے میں او آئی سی کااجلاس بلانے میں ہچکچاہٹ پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد سعودی عرب نے پاکستان سے موخرادائیگیوں پر ایک بلین ڈالر واپس کرنے کا مطالبہ کیاتھاجس پر پاکستان نے چین کا رخ کیا تھا ۔

اس دورے کی کامیابی کا سہرا آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کو دیا جارہا ہے جو وزیر اعظم کے روانہ ہونے سے کچھ دن پہلے سعودی عرب پہنچے تھے اور سعودی ولی عہد سے ملاقات کی تھی۔

آرمی چیف ماضی میں متعدد موقعوں پر خوشگوار تعلقات برقرار رکھنے میں معاون رہے ہیں۔ ریٹائرڈ جنرل بلال اکبر اب ریاض میں پاکستان کے نئے سفیرہیں جو تعلقات کو بحال کرنے کے لئے اپنا اثر و رسوخ دکھائیں گے۔

وزیر اعظم اس بار ایک نئے مشن پر ہیں تاکہ مسلمان ممالک کوتوہین مذہب کے خلاف متفقہ موقف اختیار کرنے پر قائل کرسکیں اور مغرب سے گزارش کریں کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں توہین مذہب کے واقعات کو روکا جاسکے، اس دورے کے دوران ان کی او آئی سی کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات متوقع ہے تاہم وزیر اعظم زیادہ پرامید نہیں ہیں کہ او آئی سی مغربی ممالک خصوصا فرانس کے خلاف سخت موقف اختیار کرے گی۔

سعودی عرب ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے اور پاکستان کے لئے ترسیلات زر کا ایک ذریعہ ہے۔ دونوں ممالک کو اپنے اختلافات کو دور کرنے اور تجارت کو فروغ دینے کی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب میں 20لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم 3.6 بلین ڈالر ہے لیکن برآمدات صرف 316 ملین ڈالر ہیں۔

پاکستان کو قرضوں کے حصول کے بجائے معاشی فائدہ کے لئے حجم میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے اورمعاشی لحاظ سے پاکستان سعودی عرب جیسی ریاست سے دور رہنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

Related Posts