دمشق کے جنوب میں اسرائیلی منصوبہ بندی اور عسکری دھمکیوں نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو جو خود بین الاقوامی فوجداری عدالت کے مطلوب مجرم ہیں نے آج جمعرات کے روز ایک ویڈیو بیان میں اعلان کیا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں سے جبل الدروز تک کے تمام جنوبی شامی علاقے کو ایک غیر فوجی زون قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے مطابق اسرائیل کی واضح پالیسی یہ ہے کہ ان علاقوں میں کوئی فوجی طاقت خواہ شامی ہو یا کوئی اور، داخل نہیں ہو سکتی۔ نیتن یاہو نے جبل الدروز میں موجود دروز اقلیت کے تحفظ کو جواز بنا کر شامی افواج کی موجودگی کو ایک سرخ لکیر قرار دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں اسرائیلی وزیرِاعظم نے دعویٰ کیا کہ شامی حکومت نے جنوبی دمشق میں ایک ایسی فوجی کارروائی شروع کی جو اس کے بقول ایک غیر فوجی علاقے کی خلاف ورزی تھی۔ اس نے الزام لگایا کہ اس فوج نے دروزوں کا قتل عام کیا اور ساتھ ہی فخریہ انداز میں کہا کہ اسرائیل امن کو طاقت سے سیکورٹی کو طاقت سے اور خاموشی کو طاقت سے برقرار رکھے گا۔ یہی ہماری مستقل پالیسی ہے۔

اس بیان سے محض چند گھنٹے قبل اسرائیلی فضائیہ نے صوبہ السویدا میں شامی فوج کی موجودگی پر کئی حملے کیے۔ ان حملوں کا ہدف وہ فوجی یونٹیں تھیں جو حالیہ مقامی بدامنی کو قابو کرنے کے لیے جبل الدروز میں داخل ہوئی تھیں۔ اسرائیلی حملوں کے بعد شامی فوج نے مقامی دروز عمائدین کے ساتھ ایک وقتی مفاہمت کے تحت علاقے سے محدود انخلا کیا، تاہم شامی حکومت نے اب تک اس غیر فوجی زون کی اسرائیلی شرط کو تسلیم نہیں کیا۔
اس تمام پیش رفت کے پس منظر میں بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادیں اور 1974 میں قائم کردہ UNDOF زون کی حدود بھی چیلنج ہوتی نظر آ رہی ہیں۔ گولان کی پہاڑیاں جن پر اسرائیل نے 1967 کی چھ روزہ جنگ میں قبضہ کیا تھا، بین الاقوامی سطح پر اب بھی شامی علاقہ تصور کی جاتی ہیں، اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پچھلے دور میں اسرائیلی الحاق کو تسلیم کر کے اسے ایک نیا قانونی بحران بنا دیا تھا۔ نیتن یاہو کا تازہ بیان اس قبضے کو مزید جنوب تک وسعت دینے کی ایک نئی کوشش ہے، جس میں جبل الدروز کو دروز آبادی کے تحفظ کے نام پر عملی طور پر اسرائیلی اثر و رسوخ میں لانے کی خواہش عیاں ہے۔
اسرائیلی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے شامی عسکری تجزیہ کار اسعد الزعبی نے کہا کہ نیتن یاہو کی باتیں ناقابل قبول ہیں۔ ان کے مطابق شام ایک خودمختار ریاست ہے، جس کے ادارے موجود ہیں اور وہ کسی بیرونی دباؤ کے تحت اپنی خودمختاری کو محدود نہیں کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جنوبی شام میں بھاری یا درمیانے درجے کا اسلحہ تقریباً ختم ہو چکا ہے، جو بچا کھچا اسلحہ موجود ہے وہ بھی ناکارہ ہے اور کسی دفاعی یا جارحانہ کارروائی کے قابل نہیں۔ الزعبی کے مطابق شامی حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ ریاستی مفاد کسی بھی قبیلے، جماعت یا خارجی دباؤ سے بالا تر ہے اور ملک کی وحدت کا دفاع ہر حال میں کیا جائے گا۔
دوسری طرف اسرائیلی امور کے ماہر فلسطینی تجزیہ کار مہند مصطفیٰ نے نیتن یاہو کی پالیسی کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل دروز قیادت کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہا ہے، تاکہ شام کے اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت کی جا سکے۔ ان کے مطابق یہ تمام ڈرامہ دراصل جنوبی شام کو اسرائیلی عسکری نگرانی کے تحت لانے کی ایک نئی کوشش ہے۔
اس بیان اور حملوں پر بین الاقوامی ردعمل ابھرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ عرب ممالک نے باضابطہ طور پر اس اقدام کی مذمت تو نہیں کی، مگر اقوام متحدہ کے ذرائع نے پس پردہ تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل اپنے طے شدہ UNDOF زون سے باہر نکل کر شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ایرانی میڈیا نے اس اعلان کو کھلم کھلا “جارحیت” اور ایک “نیا صہیونی بفر زون” قرار دیا ہے۔ لبنان کے ذرائع ابلاغ نے دروز برادری کو شام کی وحدت میں اہم ستون قرار دے کر اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کی اس نئی پالیسی کا مقصد درحقیقت شام کے جنوبی حصے میں وہی حکمت عملی آزمانا ہے جو گولان ہائٹس پر قبضے کے بعد اختیار کی گئی تھی یعنی فوجی پیش قدمی روک کر ایک مستقل اسرائیلی تسلط قائم رکھنا۔ فلسطین میں نسل کشی، لبنان میں اشتعال انگیزی اور اب شام میں براہِ راست مداخلت، نیتن یاہو کی پے در پے جنگی چالیں پورے خطے کو ایک نئے اور خطرناک تصادم کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ شام ایران حزب اللہ اور روس اس سرخ لکیر کو چیلنج کریں گے یا جنوبی شام بھی ایک نیا غزہ بنتا جا رہا ہے؟ یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں واضح ہوگا، لیکن فی الحال اسرائیلی بمباری اور بیانات سے مشرقِ وسطیٰ کا سیاسی و عسکری منظرنامہ مزید الجھ چکا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں