جنسی زیادتی کے واقعات کو روکنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان میں عصمت دری کے واقعات میں روز برزو اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، گزشتہ کئی روز سے مسلسل جنسی زیادتی کے واقعات میڈیا کی زینت بن رہے ہیں تاہم یہ وہ کیسز ہیں جوتھانوں میں پہنچتے ہیں لیکن ایسے کیسز کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے جو تھانوں یا میڈیا تک نہیں پہنچتے اور بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کے باوجود پولیس کے رویئے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

تھر پارکر میں گزشتہ 8 روز کے دوران 5 لڑکیوں نے خودکشی کی ،پسماندہ علاقے میں لڑکیوں کی اچانک خودکشیوں نے اہل علاقہ کو تشویش میں ڈال دیا ہے لیکن مومل نامی لڑکی کی خودکشی نے معاملے کو نیا رخ دیدیا ہے۔ خودکشی کرنیوالی مومل کو ایک سال سے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا تھا اور ملزمان اس لڑکی ویڈیوز بناکر اس کو بلیک میل کررہے تھے اور اہم بات تو یہ ہے کہ اس عصمت دری کے حوالے سے مقدمہ عدالت میں زیر سماعت تھا لیکن اس کے باوجود لڑکی کے اہل خانہ پر دباؤ ڈالا جارہا تھا جس کی وجہ سے مومل نے خودکشی کرلی۔

16سالہ مومل ایک سال عدالت سے انصاف مانگتی رہی لیکن اس کو صرف تاریخ ملتی رہی اور پولیس کی کمزور تفتیش کے باعث ملزمان دندناتے پھرتے رہے اور مقدمے کی سماعت سے قبل مومل کو دوبارہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے ذہنی دباؤ اور بدنامی کا خوف مومل کو خودکشی پر مجبور کرگیا۔

گزشتہ ماہ بہاولپور میں عصمت دری کا نشانہ بننے والی 18سالہ لڑکی نے واقعہ کا مقدمہ درج نہ ہونے پر خودکشی کرلی تھی۔جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کے والد مقدمہ درج کروانے کیلئے تھانے کے چکر لگاتے رہے ہیں لیکن پولیس ملزمان کی پشت پناہی کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے میں ٹال مٹول کرتی رہی جس کی وجہ سے اس نوجوان لڑکی نے اپنی جان دیدی۔تھرپارکر میں صرف مومل نے نہیں بلکہ اس سے پہلے دیگر چار لڑکیوں نے بھی خودکشی کی تاہم پولیس تاحال ان کی موت کے اسباب تلاش کرنے میں ناکام ہے۔

عصمت دری اور دیگر جرائم ہر ملک اور معاشرے میں پائے جاتے ہیں لیکن پاکستان میں اس طرح کے واقعات حل نہ ہونا انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ دیگر ممالک میں ملزمان کڑی سے کڑی سزاء دلوانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں اس طرح کے معاملات میں بھی پولیس کا رویہ انتہائی افسوسناک ہوتا ہے اور دونوں فریقین سے پیسہ لیا جاتا ہے اور ہمارے معاشرے میں متاثرہ انسان کے ساتھ ہمدردی اور اس کو انصاف دلانے کے بجائے اس کو ایک موقع سمجھا کر استعمال کیا جاتا ہے، پولیس ایسے معاملات کو دونوں جانب سے کمائی کا ذریعہ بنالیتی ہے اور جو زیادہ پیسہ دیتا ہے انصاف کا ترازو اس کی طرف جھک جاتا ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں اور عصمت دری کے واقعات پر مقدمہ کے اندراج میں تاخیر متعلقہ تھانے سے جوابی طلبی کی جائے اور متاثرین کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے ۔

Related Posts