پاکستان طویل عرصے سے سیاسی رسہ کشی اور ریاست کے ستونوں کی باہمی چپقلش کا شکار رہا ہے جس میں وزیر اعظم، چیف جسٹس اور وفاقی وزراء کے بیانات اور ایک دوسرے کے خلاف مختلف قسم کے اقدامات اہمیت کے حامل رہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کا فرض ہے کہ وہ ملک میں جاری سیاسی رسہ کشی کے خاتمے کیلئے آئینِ پاکستان پر من و عن عملدرآمد کروائے، اسی صورت میں ہی سیاسی مخمصوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے، تاہم عدالتی کارروائی کو طول دینے کا نتیجہ ہمارے سامنے آچکا ہے۔
حال ہی میں وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے دیگر 2 ججز کے خلاف ریفرنس فائل کرے گی۔ انہوں نے یہ الزامات بھی لگائے کہ چیف جسٹس اور دیگر 2 ججز خود دیگر ججز اور حکومت کی بات نہیں سن رہے۔
وفاقی حکومت واضح طور پر الیکشن کے بر وقت انعقاد کے خلاف ہوچکی ہے۔ ایسے میں الیکشن کے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ہی ججز کے خلاف ریفرنس کی بات سے حکومت کی نیت پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ محسوس ایسا ہوتا ہے کہ حکومت ججز پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے۔
حکومت چیف جسٹس کے خلاف اگر ریفرنس دائر کرنا چاہتی ہے تو اس کی وجہ قانونی اور آئینی ہونی چاہئے، یہ نہیں کہ فیصلہ ہمارے حق میں نہیں آیا۔ اس لیے چیف جسٹس کا بائیکاٹ کیا جائے گا جس سے عدلیہ کی آزادی مجروح ہوگی۔
بلاشبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں انتخابات ملتوی ہونے کے حوالے سے پنجاب کی نگراں حکومت اور وفاقی حکومت دونوں کا رویہ تشویشناک رہا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے قانون کے مطابق 90 روز میں انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا تاہم الیکشن کمیشن نے آئین سے ہٹ کر یہ مطالبہ اکتوبر تک ٹال دیا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ سپریم کورٹ بھی وفاقی حکومت کی جانب سے عدلیہ کی آزادی مجروح کرنے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرے تاکہ مستقبل میں کسی بھی سیاسی عہدیدار کو عدلیہ پر انگلی اٹھانے کا موقع نہ مل سکے، کیونکہ عدلیہ کا حکومت یا کسی بھی سیاسی جماعت سے متاثر نہ ہونا ہی اس کے فرائضِ منصبی کی حقیقی ادائیگی کیلئے ضروری ہے۔
اس ضمن میںحکومت کو بھی قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر من و عن عمل کرنا ہوگا۔ ایسے اقدامات کے ذریعے ہی پاکستان میں عدلیہ اور مقننہ دونوں مضبوط ہوں گے اور پاکستان صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بن سکے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں