بھارت اور چین کے مابین سرحدوں پر جاری کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب بھارتی آرمی چیف نے یہ تاثر دیا کہ خطے میں چین کی جانب سے مبینہ جارحیت کے باعث ہم جنگ کی طرف جاسکتے ہیں۔ ایک طرف چین کا 224 ارب ڈالر کا بجٹ ہے تو دوسری جانب بھارت کا دفاعی بجٹ اس سے کہیں کم ہے جبکہ رو س اور چین کی خلا میں عسکری قوت کو بڑھانے کی پیش قدمی بھی دونوں ممالک کی طاقت کا اہم اظہار کہی جاسکتی ہے۔
ایسے میں بھارت کو اچھی طرح یہ علم ہے کہ چین کے خلاف کوئی بھی منفی اقدام خطے میں بڑی جنگ کا باعث ہوسکتا ہے، جیسا کہ ہم یوکرین کو نیٹو کا رکن بنانے کے معاملے میں روس کے خبردار کرنے کے باوجود پیشرفت کے نتیجے میں جاری روس یوکرین جنگ کی صورت میں دیکھ رہے ہیں، کچھ ایسا ہی حال بھارت کا بھی ہوسکتا ہے، اس لیے بھارت پہلے ہی اس تمام تر صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔
کم وبیش 3600 کلومیٹر طویل چین بھارت سرحد پر متعدد مقامات موجود ہیں جہاں دونوں فوجیں آمنے سامنے آجاتی ہیں، چین آہستہ آہستہ اپنی معاشی و عسکری طاقت میں اضافے کو بامِ عروج پر پہنچا رہا ہے جس کی حکمتِ عملی امریکا کے مقابلے میں خاصی مختلف ہے اور وہ دیگر اقوامِ عالم کیلئے ایک نسبتاً زیادہ قابلِ قبول عالمی طاقت بن کر ابھر نا شروع کردیا ہے۔ خطے میں جنگ خود بھارت اور چین کے اپنے مفاد میں نہیں، نہ ہی خطے کے دیگر ممالک اس کے حق میں ہوسکتے ہیں۔
بھارتی آرمی چیف کی جانب سے چین مخالف بیان امریکا اور اس کے اتحادی نیٹو ممالک سے حمایت حاصل کرنے کا ایک طریقہ کار بھی ہوسکتا ہے۔ بھارت اور چین کے مابین لداخ کے علاقے پر دونوں ہی ممالک اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں بھارت چین سرحد طویل عرصے سے تنازعات کا شکار رہی ہے۔ جب تک کہ دونوں ممالک کے مابین کوئی قابلِ قبول عالمی طاقت ثالث بن کر سامنے نہ آجائے، متنازعہ علاقے کی ملکیت کے دعووں پر کوئی درست فیصلہ نہیں ہوسکتا۔
اقوامِ متحدہ چارٹر کے باب 6 کے تحت سلامتی کونسل بھی چین بھارت تنازعے کیلئے اہم کردار کرسکتی ہے۔ ثالثی کا کردار ادا کیے جانے کے بعد جو بھی فیصلہ ہو، دونوں ممالک کو اس کا احترام کرنا ہوگا۔ اگر ہم ملاکا اور ساؤتھ چائنا سی کی مثال اپنے سامنے رکھیں تو چین متنازعہ علاقے پر اپنی ملکیت سے کم کسی تصفیے پر راضی نہیں ہے جبکہ ہم صرف امید ہی کرسکتے ہیں کہ چین سے تنازعے کی صورت میں مغربی ممالک اور امریکا بھارت کی ویسی ہی مدد نہ کریں جیسا کہ یوکرین کے ساتھ کیا گیا۔
یوکرین کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ مدد کے نام پر استحصال ہی قرار دیا جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں ایک ہنستا بستا ملک پوری طرح اجڑ چکا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال بھارت کا بھی ہوسکتا ہے۔ اگر ہم عسکری سازوسامان، معاشی صورتحال یا سائنسی ترقی کی ہی بات کریں تو چین ہر میدان میں بھارت سے کہیں آگے ہے۔ روس چین کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں امریکا بھی چین کی خلائی جنگ تک کی صلاحیت حاصل کرلینے پر خاصا پریشان نظر آتا ہے۔
اس تشویشناک صورتحال میں اگر بھارت نے کوئی بھی مہم جوئی کرنے کی کوشش کی تو اس کا نتیجہ بے حد تشویشناک ہوسکتا ہے جیسا کہ ماضی قریب و بعید دونوں میں بھارت اس تنازعے کے نتیجے میں ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔ 1962 میں 1600 چینی فوجیوں کے مقابلے میں بھارت کے 80 ہزار افراد مارے گئے جبکہ 1962 کے مقابلے میں آج چین کہیں زیادہ مضبوط اور معاشی طور پر خوشحال ہوچکا ہے۔
خطے کی یہ صورتحال یقیناً مسئلۂ کشمیر سمیت خطے کے دیگر اہم معاملات پر بھی اثر انداز ہوگی۔ پاکستان سمیت دیگر جنوبی ایشیائی ممالک پر بھی اس جنگ کے اثرات دیرپا اور تباہ کن ہوسکتے ہیں۔
چین ہر میدان میں بڑی تیزی سے ترقی کررہا ہے جسے امریکا روکنا چاہتا ہے اور اگر خطے میں کوئی تنازعہ آگ پکڑتا ہے تو اس میں امریکا کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جس سے یہ دو ممالک کی بجائے 2 بلاکس کی جنگ بن جائے گی جو بے حد بڑی تباہی لاسکتی ہے۔ امریکا چین کے بعد بھارت میں سب سے زیادہ سرمایہ کرنے والا ملک ہے۔ امریکا اور چین کے مابین جنگ متنازعہ علاقے سے بڑھ کر اپنی اپنی اجارہ داری ثابت کرنے کی بھی ہے کیونکہ امریکا کی بھارت میں سرمایہ کاری کی وجہ ہی چین کے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔
دوسری جانب چین بھی اکیلا نہیں اور روس اس کا کھل کر ساتھ دے رہا ہے۔ دونوں ممالک دفاعی ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبہ جات میں عالمی برادری پر اپنی اہمیت ثابت کرچکے۔ چین مصنوعی ذہانت، 5 جی ٹیکنالوجی اور الیکٹرانکس سمیت دیگر شعبہ جات میں بھی بھارت سے آگے ہے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا بہت احترام کرتا ہے جس کی بھارت نے بارہا دھجیاں بکھیریں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ چین اور بھارت دونوں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں جبکہ دونوں ممالک طویل عرصے سے ہی آپس کے تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات کرتے آئے ہیں، یہ الگ بات کہ ان مذاکرات کا کوئی دور رس حل برآمد نہیں ہوسکا جو دونوں فریقین کیلئے قابلِ قبول ہو۔ پھر بھی 2 ممالک کے آپس کے تنازعات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں، ایسے میں دونوں ہی ممالک کو آپس کے تنازعات بھول کر باہمی افہام و تفہیم کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں