افغان فنڈز کا اجراء

تازہ ترین

تازہ ترین

کئی مہینوں کے انتظار کے بعد بالآخر امریکہ نے انسانی بحران سے بچنے کے لیے افغانستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم، امریکہ نے ساتھ ہی کافی مضحکہ خیز اقدام کیا کہ افغان فنڈز میں سے آدھی رقم 9/11 کے دہشت گرد حملوں کے متاثرین کو ادا کی جائے گی۔

امریکہ نے افغانستان میں دو دہائیوں تک طویل جنگ چھیڑ کر رکھی، لیکن گزشتہ سال اگست میں اچانک اپنی افواج کو واپس بلا لیا جس سے طالبان کے قبضے کی راہ ہموار ہوئی۔ اس جنگ پر امریکا نے کھربوں ڈالر خرچ کیے اور غریب قوم کے لئے بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے میں ناکام رہا۔ آج، افغانستان ایک بگڑتے ہوئے انسانی بحران کے درمیان ہے جس سے لاکھوں زندگیوں سے کے ساتھ قحط سالی کا بھی خطرہ ہے، اب جنگ ختم ہوچکی ہے، جبکہ بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ اس سال 97 فیصد افغان غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ صورتحال اس قدر مایوس کن ہے کہ لوگ ایک روٹی کے حصول کے لیے گھنٹوں کام کرتے ہیں اور اپنے بچے بیچنے پر بھی مجبور ہیں۔ زندگی اور موت کی صورتحال کے درمیان، امریکہ اور یورپی ممالک نے سماجی نظام کو گرنے سے روکنے اور معیشت کو بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی لیکن مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

افغانستان کو ایک بہتر معیشت کی ضرورت ہے کیونکہ انسانی امداد کبھی بھی کافی نہیں ہوگی۔ لیکن بدقسمتی سے مغربی پابندیوں، اثاثے منجمد اور اقتصادی ناکہ بندیوں کی وجہ سے معیشت کام نہیں کر سکتی۔ ملک کو فنڈز کے شدید بحران کا سامنا ہے اور یہاں کئی مہینوں سے سرکاری ملازمین کو اجرت ادا نہیں کی گئی ہے۔ افغانستان کو ایک فعال مرکزی بینک کی بھی ضرورت ہے۔

اس کا واحد قابل عمل حل یہ تھا کہ منجمد فنڈز جاری کیے جائیں لیکن امریکہ نے انہیں روک کر سخت ناانصافی کی ہے۔ یہ ریاستی اثاثے افغان عوام کے ہیں۔ امریکہ کو تمام رقوم فوری طور پر ان کے حقیقی مالکان کو واپس کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی غربت کو کم کیا جاسکے اور ان کے دکھوں کا مداوا ہوسکے۔

غیر مستحکم افغانستان کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ امریکہ کو ان پابندیوں کو ہٹانے کی ضرورت ہے جو افغان معیشت کا گلا گھونٹ رہی ہیں اس سے پہلے کہ یہ مسئلہ ہجرت کے بحران کو جنم دے اور دہشت گردی کا خطرہ بڑھ جائے۔ مغرب کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے اور افغان عوام کی جانیں بچانے کے لیے کمزور کرنے والی پابندیوں میں نرمی کرنی چاہیے۔

Related Posts