کیا ٹی ٹی پی پھر فعال ہوگئی ہے!

تازہ ترین

تازہ ترین

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی بحالی نے ملک میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کیونکہ کوئٹہ کے المناک خودکش حملے کی ذمہ داری اس دہشت گرد گروپ کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔

بدھ کی صبح پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں کوئٹہ کے علاقے بلیلی میں بلوچستان کانسٹیبلری کے ٹرک کے قریب خودکش حملے میں ایک پولیس افسر اور تین شہریوں سمیت چار افراد جاں بحق ہوگئے۔

جیسا کہ خدشہ تھا، ٹی ٹی پی نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ یہ دھماکہ عسکریت پسند گروپ کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے اور اپنے جنگجوؤں کو ملک بھر میں حملے کرنے کے احکامات کے ایک دن بعد ہوا ہے۔ یہ عسکریت پسند گروپ کی طرف سے خونریزی کے لیے ایک واضح کال ہے، چنانچہ ہمیں تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے سلیپ سیل پورے ملک میں قائم ہو چکے ہیں۔

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنا طالبان کی زیر قیادت افغان حکومت کے لیے بھی نیک شگون نہیں۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے اسلام آباد کے ساتھ جنگ ​​بندی ختم کرنے کے بعد حال ہی میں وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے کابل کا دورہ کیا اور سرکاری حکام سے ملاقاتیں کیں۔

ٹی ٹی پی کی قیادت نے ایک روز قبل جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور اس کی وجہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں اپنے جنگجوؤں کے خلاف تازہ ترین فوجی آپریشن کو بتایا تھا۔

ایک ایسی قوم کے لیے جسے مذہبی انتہا پسندوں کے تشدد کا سامنا ہے اور ان دہشت گردوں نے خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا، یہ ایک انتہائی تشویشناک امر ہے۔ ہمیں جس چیز کو تسلیم کرنے اور قبول کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ طاقت اور خوشامد کے درمیان گھومنے کی ہماری سابقہ ​​حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے۔ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کے لیے مذاکرات محض دوبارہ منظم ہونے کا موقع بن رہے ہیں۔

پاکستان کو دہشت گردی اور بنیاد پرستی سے نمٹنے کے لیے ایک کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں عسکریت پسند گروپوں کے مالیاتی ذرائع پر مزید قابو پانے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مالیاتی ذرائع سے ہی ان کو زندہ رہنے کی طاقت فراہم ہوتی ہے۔ اب یہ واقعی اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ کیسے نمٹا جاتا ہے، تاہم یہ طے ہے کہ ٹی ٹی پی نے حملوں کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک بار پھر ملک کا امن تباہ کرنے کیلئے کہیں بھی کارروائی کر سکتے ہیں، جو سخت تشویش کی بات ہے۔

Related Posts