روسی سیکورٹی کے اعلیٰ عہدیدار سرگئی شوئیگو نے افغان حکومت کے عہدیداروں سے ملاقات کی اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ ماسکو جلد ہی طالبان کو اپنی بلیک لسٹ سے نکال دے گا۔
2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد غیر ملکی عہدیداروں کی افغانستان کی طرف آمد کم ہو گئی ہے کیونکہ کوئی بھی ملک ابھی تک طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا۔
طالبان حکومت کے خواتین کے حوالے سے سخت اقدامات نے انہیں کئی مغربی ممالک میں ناپسندیدہ بنا دیا ہے لیکن کابل اپنے علاقائی ہمسایہ ممالک کے ساتھ اقتصادی اور سیکورٹی تعاون پر زور دیتے ہوئے سفارتی تعلقات بڑھا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی 29ویں کانفرنس میں ترقی پذیر ممالک کیلئے 300 ارب ڈالر موسمیاتی فنڈ کی تجویز
روس کی سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری کابل میں افغان وفد سے ملے جس کی قیادت نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور عبدالغنی برادر کر رہے تھے۔
عبدالغنی برادر کے دفتر نے سوشل میڈیا سائٹ “ایکس” پر ایک بیان جاری کیا جس میں کہا کہ سرگئی شوئیگو نے “افغانستان کے ساتھ دوطرفہ تعاون کی سطح بڑھانے میں روس کی دلچسپی” کا اظہار کیا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو بڑھانے کے لیے اسلامی امارات کے نام کو روس کی بلیک لسٹ سے جلد نکال دیا جائے گا۔اسلامی امارات وہ نام ہے جو طالبان حکومت اپنے آپ کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








