امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبے کے حوالے سے پاکستان سمیت سات ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں اس امن معاہدے کو ایک خوش آئند اقدام قرار دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے اس مشترکہ بیان میں حصہ لیا۔ تمام ممالک نے صدر ٹرمپ کے امن کے قیام میں کردار پر اعتماد کا اظہار کیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم امن کے قیام کے لیے امریکہ کے ساتھ شراکت داری کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ تمام ممالک کے وزرائے خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امن معاہدے کے اعلان کو سراہا۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی موجودگی میں غزہ کے لیے ایک امن منصوبہ پیش کیا جس کے نکات سامنے آئے ہیں۔
صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو نے ایک پریس کانفرنس میں اس امن منصوبے کی خوشخبری سنائی۔ اس منصوبے کے تحت فوری طور پر جنگ بندی نافذ کی جائے گی اور موجودہ جنگی محاذوں پر لڑائی روک دی جائے گی۔
غزہ امن منصوبے کے مطابق، 72 گھنٹوں کے اندر تمام 20 زندہ یرغمالیوں کی رہائی اور 24 ہلاک شدہ یرغمالیوں کی باقیات کی واپسی تجویز کی گئی ہے جبکہ منصوبے کے تحت حماس کے تمام ہتھیار تلف کیے جائیں گے، ہتھیار ڈالنے والے جنگجوؤں کو عام معافی دی جائے گی۔
ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کی حیران کن تفصیلات اور! شہباز شریف کی رضا مندی کی کہانی
مشترکہ اعلامیہ میں اس منصوبے کو خطے میں استحکام اور انسانی جانوں کے تحفظ کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے اور تمام فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تعمیری رویہ اپناتے ہوئے اس موقع کو ضائع نہ کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








