سندھ کے آبی مسائل اور سیاست

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان پیپلز پارٹی نے پانی چوری کے خلاف احتجاج اور وفاقی حکومت سے آبی وسائل میں اپنے حصے کا مطالبہ کرنے کے بعد دھرنا دینے کا اعلان کردیا ہے۔ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے حکمراں سیاسی جماعت تحریکِ انصاف پر سندھ میں جان بوجھ کر پانی کا بحران پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

بدقسمتی سے صوبہ سندھ کے عوام کی پریشانیاں وقت کی طرح ایک قدیم داستان بنتی جارہی ہیں۔ صوبے کا انتہائی مربوط آب پاشی نیٹ ورک 14 اہم نہروں اور 40 ہزار فیلڈ چینلز کے ساتھ بھی شدید آبی قلت کے خلاف بے بس ہے۔ پسماندہ علاقوں میں کام کرنے والے کاشتکارپانی کی تباہ کن کمی کا خمیازہ بھگتنے پر مجبور ہیں۔

آبی وسائل پر کی گئی پاکستان کونسل آف ریسرچ کی تحقیق کے مطابق ملک 2025ء تک آبی بحران کی طرف گامزن ہے جس کے بعد پانی کی فی کس دستیابی 5000 سے کم ہو کر 1000 مکعب میٹر سالانہ رہ جائے گی جس کے شدید نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ آبی قلت کے تدارک کی تلاش اہم ہے تاہم صرف صوبائی کارڈ کھیلنے کیلئے آبی قلت پر سیاست ایک الگ داستان ہے۔

برسہابرس سے زمین کے کٹاؤ کی وجہ سے صوبہ سندھ پانی کی شدید قلت اور زمینی نقصانات سے دوچار ہے۔ موجودہ آبی بحران کی وجوہات کثیر الجہتی ہیں اور کچھ لوگ پانی کی بدانتظامی یا دریائے سندھ میں غیر قانونی مچھلیوں کے فارمز اور بڑے پیمانے پر فصلوں کو پانی لگانے کیلئے آبی وسائل کے بے جا استعمال کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔

صرف وفاقی حکومت کو یہ الزام نہیں دیا جاسکتا کہ وہ سندھ کو پانی نہیں دیتی۔ صوبائی حکومت نے خود زمینی اصلاحات پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا؟ اس معاملے کو درست کرنے کیلئے الزام تراشی کا کھیل کھیلنے کی بجائے اصلاحات پر عملدرآمد ضروری ہے۔ڈبلیو اے اے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے سے آبی قلت کے مسائل وقتی طور پر حل کیے جاسکتے ہیں جب تک کہ زیادہ بہتر حل دستیاب نہ ہوجائے۔

مثال کے طور پر سندھ کیلئے بے حد اہم مینگروز کو بچانے کیلئے گندے پانی کی جانچ پڑتال اور شہری منصوبوں کو از سر نو تشکیل دینا مسئلے کے حل کیلئے اہم آغاز ثابت ہوسکتے ہیں۔آبی پالیسی جو بنیادی حیثیت سے عوام پر مرکوز ہو اور صوبے کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دی جائے، وقت کی اہم ضرورت ہے۔ 

 

Related Posts