اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(او آئی سی سی آئی) کے تازہ ترین سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کاروباری برادری کی جانب سے اعتماد کے شدید بحران کا شکار ہے۔
بزنس کونفیڈنس انڈیکس (بی سی آئی) سروے ویو 23 کے مطابق جو رواں برس مارچ اور اپریل میں کیا گیا، کاروباری اعتماد کی مجموعی سطح مایوس کن شرح یعنی 25فیصد تک گر گئی ہے۔
ستمبر اور اکتوبر 2022 میں جو سروے کیا گیا، اس کے مقابلے میں موجودہ سطح مایوس کن حد تک کم ہے۔ مینو فیکچرنگ انڈسٹری میں 22 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد ریٹیل اور ہول سیل تجارت کے شعبے میں 21 فیصد اور خدمات میں 18فیصد کمی ہوئی۔
او آئی سی سی آئی ممبران جو بااثر عالمی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتے ہیں، 19 فیصد کی مایوس کن حد تک کم منفی اعتماد کی سطح کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ سروے میں پاکستانی کاروباری ترقی کیلئے 3 اہم خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
وہ تین خطرات انتہائی زیادہ مہنگائی، بھاری بھرکم ٹیکس اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کے عناصر ہیں۔ اس سے موجودہ کاروباری ماحول اور آنے والے 6 ماہ کی آؤٹ لک دونوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔
سروے میں جواب دہندگان کی اکثریت یعنی 82فیصد نے افراطِ زر کو سرِ فہرست تشویش قرار دیا۔ اس کے بعد 74فیصد نے ٹیکس جبکہ 72 فیصد نے کرنسی کی قدر میں کمی کو کم سرمایہ کاری کی وجہ قرار دیا۔
گزشتہ سروے میں 56 فیصد سے حالیہ 75 فیصد جواب دہندگان سے پتہ چلتا ہے کہ کاروباری ماحول پر کاروباری افراد کی جانب سے مایوسی کا اظہار بڑھ گیا ہے۔ 23فیصد جواب دہندگان نے آئندہ 6 ماہ کیلئے کمپنی امکانات میں مزید کمی کی پیشگوئی کی۔
بلاشبہ اس سروے کے نتائج پاکستان میں معاشی امکانات کا تاریک منظر نامہ پیش کرتے ہیں جس پر پالیسی سازوں اور وزراء کو فوری کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔
حکومت کیلئے ضروری ہے کہ وہ کاروباری برادری کا ملک پر اعتماد بحال کرنے کیلئے تیزی سے اور مؤثر انداز میں اقدامات اٹھائے۔ مانیٹری استحکام، افراطِ زر، ٹیکس نظام اور بہتر کاروباری رسائی اہم اقدامات ہوسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ کاروباری شعبے کے ساتھ کام کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو ذمہ دارانہ اور وسیع الذہن ماحول کو فروغ دینا ہوگا۔ سازگار اقتصادی ماحول کا قیام اور عالمی سرمایہ کاری راغب کرنا ملک میں سیاسی استحکام پر منحصر ہے۔
پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں پائیدار ترقی کو فروغ دینے اور معیشت پر اعتماد کی بحالی کیلئے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ اگر حکومت اس میں ناکام رہی تو ملک پر کاروباری برادری کا اعتماد مزید مجروح ہونے سے معاشی صورتحال مزید مخدوشیت کی سمت جانے کا اندیشہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں