ہر سال پاکستان سے لاکھوں افراد ہجرت کرکے دیگر ممالک کو چلے جاتے ہیں، ان میں سے ہزاروں افراد وہ ہوتے ہیں جن کو غیر قانونی طور پر ملک سے باہر بھیجا جاتا ہے۔
موجودہ دور میں سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری اور مہنگائی ہے جو ہر گزرتے روز کے ساتھ بڑھتی ہی جارہی ہے اور ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کسی ایک مقام پر ٹکنے کا نام لیتا دکھائی نہیں دیتا۔
اپنی اولاد کو جاہل چھوڑ دیں تو شاید وہ محنت مزدوری کرکے یا الیکٹریشن، پلمبر یا پھر کار مکینک وغیرہ کا کام سیکھ کر اپنی روزی کمانا شروع کردے، لیکن پڑھے لکھے بے روزگاروں کا کوئی علاج نہیں ہے۔
ہمارے ملک کا تعلیمی نظام نوجوان نسل کو کسی کام کا نہیں چھوڑتا۔ ہم ریڑھی کیوں لگائیں؟ کیا تعلیم اس لیے حاصل کی تھی؟ ہم دکان کیوں کھولیں؟ یہی چینی، آٹا اور دال بیچنی ہی تھی تو پڑھ لکھ کر افسر بننے کا خواب کیوں دکھایا گیا؟
والدین کو چاہئے کہ اپنی اولاد کا دماغ تعلیم کے آغاز میں ہی درست کردیں اور انہیں سمجھائیں کہ تم تعلیم تو حاصل کر رہے ہو، اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم افسر یا ڈی سی تعینات ہوجاؤ گے، بلکہ تعلیم کا مقصد صرف تمہیں بہتر انسان بنانا ہے۔
گزشتہ روز پاکستانی نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر یورپ بھیجنے اور انسانی اسمگلنگ میں ملوچ گینگ کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کرنے کی خبر سامنے آئی۔ ڈی آئی جی میرپور نے کہا کہ یونان کشتی حادثے کے بعد گرینڈ آپریشن شروع کیا ہے۔
آج سے 2 روز قبل کھوئی رٹہ پولیس نے بھی انسانی اسمگلنگ میں ملوث 10 ملزمان کو گرفتار کیا اور مقدمے کا اندراج بھی عمل میں لایا گیا، لیکن کیا ان سب اقدامات سے یونان کے قریب کشتی حادثے میں ہمارے جو نوجوان انتقال کر گئے، وہ واپس آجائیں گے؟
یقیناً نہیں۔ لیکن آئندہ جانے والوں کے راستے بند کیے جاسکتے ہیں۔ ان کو سمجھایا جاسکتا ہے کہ ملک سے باہر جانے کے قانونی طریقے موجود ہیں۔ ان کے ذریعے جانے سے جان جانے کا کوئی خطرہ نہیں۔
تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ملک سے باہر جانے والوں کو بیرونِ ملک سیٹل ہونے کے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں۔ ان کو سمجھایا جاتا ہے کہ پاکستان میں کچھ نہیں ہے، جبکہ یہ حقیقت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نوجوان نسل اگر فضول قسم کے خیالات سے پیچھا چھڑا لے اور درست شعبہ جات میں کم لاگت کے کاروبار کو ترجیح دے تو اپنا بہتر مستقبل بنا سکتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتِ وقت بھی معاملے کی نزاکت کو سمجھے۔ جس ملک کے نوجوان یعنی اس کا مستقبل ہی ملک سے باہر جا کر سمندر میں غرق ہوجانا پسند کرے، اسے نوجوان نسل کے روزگار کے ساتھ ساتھ ان کی فلاح و بہبود کا بھی اہتمام کرنا چاہئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں