ہمارے پڑوس میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ اس تبدیلی کے بعد اب وہاں بندوقیں خاموش ہیں، اور غیرملکی توپیں کوچ کر گئیں۔ یوں جس ملک کو چالیس سال سے مسلسل عسکریت کے عفریت کا سامنا تھا، وہاں پچھلے ایک ہفتے سے ہتھیار کی زبان کی جگہ زبان کے ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں۔ بظاہر پورے اطمینان کے ساتھ سیاسی تبادلہ خیالات ہو رہے ہیں اور مستقبل کے پائیدار سیاسی خاکے ترتیب دینے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ مگر لبرل منافقت کا حال دیکھئے کہ جب تک وہاں مسئلہ عسکری تھا اور دنیا بھر کی لبرل قوتوں کا خیال تھا کہ ان کے قدم مضبوط ہیں تو سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی کوئی پابندی نہ تھی۔ لیکن جوں ہی قطر میں نیٹو شکست پر مہر تصدیق ثبت ہوئی، اچانک فیس بک اور یوٹیوب کو یاد آگیا کہ یہ فاتح تو دہشت گرد ہیں۔ لھذا ان سے متعلق ہمارے پلیٹ فارم استعمال نہیں ہوسکتے۔ جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ انہیں دہشت گرد تو بیس سال قبل قرار دیا گیا تھا مگر مغرب کے لبرل منافقوں کو جیسے اس کا پتہ 2021ء میں چلا۔ جب تک لاکھوں ٹن بارود کشت و خون کا سامان کرتا رہا تب تک سوشل میڈیا پر کھل کر بات ہوسکتی تھی۔ لیکن اب جب وہاں جنگ ختم ہوچکی اور پر امن سیاسی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں تو فیس بک اور یوٹیوب کے مالکان کہتے ہیں، خبردار جو دہشت گردتنظیم کے بارے میں بات کی۔ زمانہ وہ ہے جب اخبارات کاغذ پر کم اور سکرینوں پر زیادہ پڑھے جاتے ہیں۔ اسی کی برکت ہے کہ اب ایسی نیوز ویب سائٹس کا دور ہے جن کا کاغذی اخبار کوئی شائع نہیں ہوتا لیکن خبررسانی میں اخباری ویب سائٹس سے زیادہ مؤثر ہوتی ہیں۔ ان حالات میں اگر واضح ناموں کے ساتھ ہم اپنے پڑوس کے احوال لکھتے اور تجزیہ کرتے ہیں تو فیس بک پر شیئر نہیں ہوسکتے۔ لھذا اب نئے حالات میں اشاروں اور کنایوں کی زبان سے کام لینا پڑے گا۔ امید ہے کہ قاری کو سمجھنے میں دشواری پیش نہیں آئے گی۔
ہمارے ملک میں 2014ء کے بعد سے بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور یہ سب کی سب ہمارے مغربی پڑوس کی صورتحال سے جڑی ہوئی تھیں۔ 2014ء کی اہمیت یہ ہے کہ اس سال نیٹو نے ہمارے پڑوس میں فوجی آپریشنز بند کرکے بوری بستر گول کرنے کا عمل شروع کیا۔ بعض ممالک تو پہلے ہی وہاں سے کھسک چکے تھے مگر 2014ء کے بعد صرف امریکہ اور برطانیہ ہی اپنی محدود فوج کے ساتھ وہاں رہ گئے تھے۔ اور یہ بھی بنیادی طور پر اپنے اڈوں اور ان میں موجود سامان کی حفاظت کے لئے ہی بیٹھے رہے۔ جب یہ کنفرم ہو گیا کہ یہ قوتیں ہمت ہارچکیں اور اب نکلنے کو بیتاب ہیں تو یہی وہ وقت تھا جب ہماری طرف یہ فیصلہ ہوا کہ اب ان کے پالتو دہشت گردوں کی سرکوبی کا موزوںوقت ہے۔ یہ ان کی کوئی بڑی مدد نہ کرسکیں گے۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ ایسا ہی ہوا۔ ہر طرح کے مسلح گروہوں کی سرکوبی پوری کامیابی کے ساتھ ممکن ہوگئی۔ کہنے کو تو امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک اب یہ کہہ رہے ہیں کہ کابل کے نئے مہمان اس بات کی گارنٹی دیں کہ ان کی سرزمین کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن ہی نہیں کہ جب تک امریکہ اور اس کے اتحادی قابض تھے، وہاں کی سرزمین کو خود انہوں نے ہی چین، پاکستان اور ایران کے خلاف بھرپور استعمال کروایا۔ جس سے لبرل طاقتوں کی منافقت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
ہمارے اداروں کی جانب سے کامیاب عسکری آپریشنز کے ساتھ ساتھ دینی مدارس پر بھی شدید سیاسی دباؤ رکھا گیا۔ اس دباؤ کا مقصد یہ رہا کہ جب ہمارے پڑوس میں تبدیلی اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہو تو ماضی کی طرح یہاں سے لوگ جوق در جوق افغانستان کا رخ کرنے کی جرات نہ کر پائیں۔ کیونکہ اس کے دو نقصان ہم ماضی میں بھگت چکے تھے۔ پہلا یہ کہ پاکستان کی مداخلت کے ثبوت ہمارے پڑوسی کی سرزمین کے چپے چپے پر پھیلے نظر آتے تھے۔ اس سے دنیا کو یہ کہنے کا موقع مل جاتا تھا کہ سارے فساد کے پیچھے پاکستان ہے۔ دوسرا نقصان یہ کہ پڑوس سے پلٹ کر آنے والے ہمارے نونہال یہاں پونے انچ کے محمود غزنوی بننے کی کوششیں شروع کردیتے، جس سے پاکستان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی۔ چنانچہ دیوندی مکتب فکر پر شدید دباؤ کی پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ کسی مائی کے لعل نے فتح کے مناظر دیکھنے یا ان میں شریک ہونے کے لئے چمن یا طورخم باڈر کا رخ نہیں کیا۔ ہمارے پڑوس کی تبدیلی کے دوران وہاں کی سرزمین پر کوئی پاکستانی کسی کو نظر نہ آیا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹویٹر پر ایک جعلی مہم کے ذریعے پاکستان پر پابندی کا شور تو اٹھا مگر کوئی پڑوسی شہری بھی یہ دعوی نہ کرسکا کہ اضلاع یا شہروں پر پاکستانی قبضہ کر رہے ہیں۔ سب یہ کہتے رہے کہ یہ جو ہمارے ہم وطن آگے بڑھ رہے ہیں انہیں پاکستان کی مدد حاصل ہے۔ یہ چالیس سال میں پہلی بار تھا جب ہمارا کوئی شہری وہاں نہیں دیکھا جاسکا۔ اس لحاظ سے یہ ایک بے مثال کامیاب حکمت عملی تھی۔ اور اس کا زبردست فائدہ ہوا۔
سال 2014ء کے بعد ایک اہم قدم ہمارے ہاں یہ اٹھایا گیا کہ نواز حکومت کو چلتا کردیا گیا اور میڈیا سے ان عناصر کو بھی باہر کردیا گیا جنہیں مغربی سفارتخانوں سے “ایزی لوڈ” ہوتے ہیں۔ اگلے دن ایک مسخرہ یوٹیوب پر کہہ رہا تھا “جب کوئی مجھے لفافے کا طعنہ دیتا ہے تو شدید غصہ آتا ہے” انہیں کیا ہمیں بھی غصہ آتا ہے جب کوئی انہیں لفافے کا طعنہ دیتا ہے۔ غصہ تو آئے گا کہ زمانہ ایزی لوڈ کا ہو اور اگلا لفافے کی بات کرے۔ لفافہ بیسویں صدی کے ساتھ ہی کوچ کر گیا۔ اب تو لفافے میں خط تک نہیں آتے جاتے۔ جن کے سینئرز لفافے لیتے تھے، ان کے جونیئر ایزی لوڈ کی ارتقائی منازل پر ہیں۔ اقتدار اور میڈیا کے مناصب پر “سلیکٹڈ” لوگوں کو بٹھا کر درحقیقت اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ جنیوا معاہدے کی تاریخ نہ دہرائی جاسکے۔ جنیوا معاہدے کے حوالے سے جنرل ضیاء یہ چاہتے تھے کہ سوویت انخلاء کے بعد کے مراحل کے لئے بھی اس معاہدے میں ماسٹر پلان شامل ہو۔ جبکہ سوویت یونین اور امریکہ دونوں ہی ایسا نہیں چاہتے تھے۔ چنانچہ ہم نے دیکھا کہ جیسے ہی سوویت انخلاء ہوا خود امریکہ نے ڈاکٹر نجیب اللہ کی مالی مدد اور سرپرستی شروع کردی جو دس سال تک قربانیاں دینے والوں سے دھوکہ تھا۔ امریکہ نے اپنے طرز عمل سے ثابت کردیا تھا کہ اسے بس سوویت انخلاء سے غرض تھی۔ وہ میدان کے فاتحین کو کچھ دینے کے حق میں نہ تھا۔ ایسے میں مزاحمت کاروں کے پاس صوبوں اور دارالحکومت پر حملے کے سوا کوئی آپشن ہی نہ بچی۔ اور جب انہوں نے حملہ کیا تو بندر بانٹ جیسی صورتحال بن گئی جو خانہ جنگی پر منتج ہوئی۔ یہ سب اس لئے ہوا کہ ہمارے اس وقت کے وزیرخارجہ زین نورانی نے امریکی اشارے پر ادھورے جنیوا معاہدے پر دستخط کردئے۔ اور زین نورانی کا سی آئی اے کا تنخواہ دار ملازم ہونا تو اب ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔ جونیجو حکومت کو اسی لئے تو برطرف کیا گیا تھا۔ 14 اپریل 1988ء کو جنیوا معاہدے پر دستخط ہوئے اور اگلے مہینے جونیجو حکومت کو لات مار کر باہر پھینک دیا گیا۔ چنانچہ اس بار دوحہ کی میز سجنے سے قبل ہی ہر شاخ سے الو اتار دیا گیا۔
میں ذاتی طور پر نواز شریف کا حامی ہوں۔ مگر اس کے باوجود مجھے اس بات کا سو فیصد یقین ہے کہ اگر اس وقت ملک میں نواز حکومت ہوتی تو دوحہ میں بھی جنیوا کی طرح کا بلنڈر ہوچکا ہوتا۔ نواز شریف نے اسی لئے تو وزارت خارجہ کا قلمدان خود سنبھال رکھا تھا۔ ان کی اسی حرکت نے اسٹیبلیشمنٹ کے کان کھڑے کردئے تھے کہ تاریخ کا نازک لمحہ آنے کو ہے اور من مانی کرنے کے شوقین نے مطلوبہ وزارت کا قلمدان اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے۔ سو مجھے یقین ہے کہ اب جوں جوں پڑوس کی صورتحال مستحکم ہوتی جائے گی توں توں ہماری طرف بھی صورتحال نارمل ہوتی چلی جائے گی۔ اگر آپ غور کریں تو اس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو بھی چکیں۔ مثلا نجم سیٹھی واپس آئے ہیں تو ان کی چڑیا مسلسل قومی نغمے گا رہی ہے۔ سفیر کی بیٹی والے معاملے پر ان کی چڑیا نے “قومی تقاضے” پورے کئے اور 15 اگست کے بعد سے تین پروگراموں میں انہوں نے ان کی حمایت ہی کی ہے جنہیں وہ بیس سال تک دہشت گرد کہہ رہے تھے۔ اسی طرح باقی بھی بتدریج واپس لوٹیں گے مگر ایزی لوڈ والے بیانیوں کے بغیر۔ سافٹویئر اپڈیٹ اسی کو کہتے ہیں۔ یہ اندازہ سب کو ہوگیا ہے کہ نازک وقت میں امریکہ بھی ان کی نکوریاں بچانے کے بجائے منہ دوسری طرف پھیر کر کھڑا ہوگیا تھا۔ جس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ سپر طاقتیں جتنی بھی سپر ہوجائیں مجبوراور بے بس وہ بھی ہوتی ہیں۔
پچھلے چار پانچ سال میں یہ بات کئی مرتبہ پوری صراحت کے ساتھ لکھ چکا کہ کابل کے مسافر اپنی منزل پر پہنچ کر رہیں گے۔ یہ بھی مسلسل لکھتا آیا ہوں کہ اس بار وہ دیگ اکیلے نہیں، مل بانٹ کر کھائیں گے۔ ایک تجزیہ کار دوست نے اس پر پوچھا تھا “یہ کیسے ممکن ہے ؟” عرض کیا تھا پاکستان اس کے لئے تیاریاں کر رہا ہے۔ وہ سب کا اعتماد جیتنے کی کوشش میں ہے۔ تب اس بات کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ بعض نے کہا، وہاں نئی نسل آچکی ہے جو تعلیم یافتہ ہے، وہ قبول نہیں کرے گی۔ عرض کیا تھا کہ دیکھتے جایئے، قافلے منزل پر بھی پہنچیں گے اور دیگ مل بانٹ کر ہی کھائی جائے گی۔ ایک تجزیہ کار دوست کے تجزئے کا تو میں نے سات سال قبل کالم کی صورت جواب بھی لکھا تھا۔ اور صاف لکھا تھا کہ پاکستانی مائنڈسیٹ اپلائی مت کیجئے۔ وہ ایک الگ ملک ہے اس کا الگ ماحول ہے۔ مگر بات نہ مانی گئی۔ جس بات پر آج سب حیران ہیں، میرے لئے اس میں حیرت کا کچھ سامان نہیں۔ جنہیں اعتماد میں لینے کی 2014ء سے کوششیں ہورہی تھیں۔ فیصلہ کن گھڑیوں میں وہ اعتماد پر پورے اترے۔ اور فاتحین نے بھی انہیں سینے سے لگانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہر نہیں کیا۔
امریکہ اس چکر میں تھا غنی کو سالانہ تین ارب ڈالر دے کر خانہ جنگی کا ماحول بھی بنائے رکھے گا اور دنیا کو یہ بھی بتاتا جائے گا کہ پاکستان ہی ہمارے انخلاء اور خانہ جنگی کا ذمہ دار ہے۔ لیکن الحمدللہ ہم نے اسے پورے منظرنامے سے آؤٹ کردیا ہے اور منزل مراد پر امن بھی ہے۔ اس سے زیادہ ذلت اور کیا ہوگی کہ دو ہفتے قبل جوبائیڈن نے اعلان کیا کہ ہم ہر سال تین ارب ڈالرز دیں گے۔ اور دو ہفتے بعد وہ اسی ملک کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کر رہا تھا۔ خاک میں مل گئے خانہ جنگی کے سارے خواب۔ منصوبے ہمیں جوابدہ بنانے کے تھے مگر پوری دنیا کے سامنے جوابدہی پر خود مجبور ہیں۔ ہر لعن طعن کا رخ وائٹ ہاؤس کی جانب ہے۔ ہم نے ثابت کیا ہے کہ سپر طاقت ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔ جیت اسی کی ہوتی ہے جس کے پاس سپر دماغ ہو۔ ہم نے اپنے دماغ کی سپر میسی ثابت کردی ہے۔ ایسے میں مشرقی پڑوس سے یہ معنی خیز خبر آئی ہے کہ وہاں بادام کے نرخ چڑھ گئے ہیں کیونکہ سپلائی رک گئی ہے۔ ہمدردی کا لمحہ ہے کہ اجیت دوول اور موذی جی کو ویسے بھی اب باداموں کی اشد ضرورت ہے۔ وہی اجیت دوول اور موذی جی جنہیں پتہ ہی نہ چلاکہ ان کے پیروں تلے ابدالی زمین کھسک رہی ہے۔