سوڈان کشیدگی ۔۔ خطے پر اثرات

تازہ ترین

تازہ ترین

سوڈان میں تنازعات کی تاریخ کافی طویل ہے ، 1956ء میں آزادی کے بعد سے سوڈان میں درجن سے زیادہ مرتبہ فوجی بغاوتیں ہو چکی ہیں۔ سوڈان میں دونوں متحارب گروہ تخت کیلئے کشت و خون کا کھیل کھیل رہے ہیں اور افریقی ملک میں دو جرنیلوں کی لڑائی کی وجہ سے جاری تشدد میں اب تک سیکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں ۔

اگر سوڈان میں جاری جنگ و جدل کو جغرافیائی سرحدوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس وقت جہاں بارود برس رہا ہے وہ جگہ باب المنداب سے بہت قریب ہے اور یہی راستہ نہر سوئز کی طرف جاتا ہے۔ یہاں چین نے اریٹریا میں اپنا ایک بڑا بیس بھی قائم کرلیا جس کی وجہ سے امریکا کے نزدیک سوڈان بہت اہمیت اختیار کرچکا ہے۔

2019ء میں صدر عمر البشیر کے جانے کے بعد امریکا اور سوڈان کے تعلقات دوبارہ بحال ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ وائٹ ہاؤس سے سوڈان میں سیز فائر اور صورتحال کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے دعویٰ بھی سامنے آیا۔ چند روز قبل سوڈان میں جنگ بندی کی کوشش کی گئی تاہم یہ کوشش زیادہ بار آور ثابت نہیں ہوسکی۔

اسی سال یعنی 2019ء میں ہی  سابق صدر عمر البشیر کی معزولی کے بعد ملک میں ایک عبوری دور کا انتظام کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا جس کے بعد عبدالفتاح البرہان نے حکمران خود مختاری کونسل کی صدارت سنبھالی اور محمد حمدان دقلو حمیدتی ان کے نائب تھے۔

گزشتہ ماہ اپریل میں البرہان کی فوج اورمحمد حمدان دقلو کی زیر قیادت سریع الحرکت فورس آر ایس ایف کے درمیان خونریز لڑائی کیلئے البرہان اور حمیدتی ایک دوسرے پر لڑائی شروع کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں اور دارالحکومت خرطوم اور دیگر شہروں کے اہم مقامات کو کنٹرول کرنے کا دعویٰ بھی کر رہے ہیں۔

یہاں ہمیں خوشی اس بات کی ہے کہ پاکستان کے حالات کبھی بھی کشیدگی کی ان حدوں کو نہیں پہنچے جہاں اپنے ہی لوگوں کا خون بہایا جائے۔ اسٹریٹ کرائمز اور دہشت گردی اپنی جگہ لیکن ہماری فورسز نے حالات کواچھے انداز سے سنبھالا ہوا ہے۔

سوڈان کی صورتحال خراب ہونے کے بعد ہمارے دفتر خارجہ کی کاوشیں لائق تحسین ہیں کہ صورتحال بگڑتے ہی فوری اقدامات کرکے وہاں سے پاکستانیوں کو مکمل طور پر بحفاظت وطن واپس لایا جاچکا ہے جبکہ کئی ممالک اب بھی اپنے شہریوں کے محفوظ انخلاء کی کوشش کررہے ہیں۔

تشویشناک بات یہ ہے کہ مسلمان ممالک میں یکے بعد دیگرے  تنازعات اور جنگ و جدل میں عالمی اور جغرافیائی حالات اور مضمرات کا بھی کلیدی کردار ہے اور افسوس کہ دونوں متحارب گروپ ہم وطن اور مسلمان ہونے کے باوجود اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی زندگیاں ختم کرتے جارہے ہیں جس پر یہی کہا جاسکتا ہے :

کفرکے فتووں نے توہین کے اعلانوں نے

طبلِ جنگ نے اور جبر کے زندانوں نے

ساری دنیا نے بھی مل کر نہیں مارے ہوں گے
جتنے مارے ہیں مسلمان مسلمانوں نے

درحقیقت سوڈان میں کشیدگی آخری حدود تک پہنچ چکی ہے، لوگوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے، اسپتال بند ہیں، ادویات ناپید ہوچکی ہیں اور سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کیوں مسلمان مسلمان کے خون کا پیاسا ہوا پھرتا ہے۔ایسی صورتحال میں او آئی سی کو فوری مداخلت کرنے کی ضرورت ہے۔

دنیا میں کہیں بھی کشیدگی کے بعد اقوام متحدہ میں پناہ گزینوں کا ادارہ یو این ایچ سی آر فوری کام شروع کردیتا ہے اور اس وقت بھی ادارے نے  عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ سوڈان میں فوج کی باہمی لڑائی سے بچ کر آنے والوں کے لیے سرحدیں کھلی رکھیں اور سوڈانی لوگوں کو پناہ دینے کے خلاف فیصلے معطل کریں جو جنگ کے باعث واپس نہیں جا سکتے۔

سوڈان سے آنے والوں کیلئے ایتھوپیا، اریٹریا، کینیا اور دیگر ممالک میں یو این ایچ سی آر کا عملہ موجود ہے تاہم سوڈان میں طبی مراکز بند ہونے کی وجہ سے حالات زیادہ تشویشناک ہیں۔

عالمی منظر نامے میں سوڈان کو دیکھیں تو سوڈان کی اہمیت بہت بڑھ چکی ہے کیونکہ سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے، امریکا سے سفارتی تعلقات بہتر بنالئے ہیں لیکن جب تک آپ کا اپنا گھر ٹھیک نہ ہوگا تو استحکام نہیں ملے گا۔

ریپیڈ فورس کی جانب سے 5 مئی کو امریکا اور سعودی عرب کی ثالثی میں انسانی امداد کے لیے راہداری کھولنے، عام شہریوں اور علاقائی مکینوں کی آمدو رفت کو سہل بنانے کےلیے 3 روز کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد سعودی شہر جدہ میں 2 فریقین کے درمیان مذاکرات بھی ہورہے ہیں اور دارالحکومت خرطوم میں پر تشدد جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سوڈان کی صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو اس کا اثر دوسرے پڑوسی اور خلیجی ممالک پر بھی ہوگا اور سعودی عرب بھی اس سے متاثر ہوسکتاہے۔ اب یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یمن سے باب المنداب اور نہر سوئز کا فاصلہ بہت زیادہ نہیں ہے ۔

اگر اس کشیدگی کی وجہ سے نہر سوئز بند ہوتی ہے تو مہنگائی اس حد تک بڑھ جائیگی کہ 100 روپےکی چیز 100 گنا اضافے کے بعد بھی مشکل سے ملے گی، اس لئے دنیا بھی نہیں چاہے گی کہ سوئز نہر بند ہو کیونکہ اگر سوئز کینال بند ہوتی ہے تو صرف سوڈان یاخطہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا بری طرح متاثر ہوگی۔

Related Posts