نہ جانے کیوں ہمارے سیاستدانوں کو ادراک نہیں کہ بلدیاتی نظام کی اہمیت کیا ہے؟ کیا سونے کے چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے مراعات یافتہ طبقے کے ایلیٹ سیاستدان جو نہ ہی اپنی پارٹیوں میں ایسے ارکان دیکھنا چاہتے ہیں جو ایلیٹ طبقے سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں سے نظریں ملاکر بات کرسکیں اور نہ ہی یہ سیاسی اکابرین جس میں سے زیادہ تر موروثی سیاست کے حامل ہیں کسی بھی طور پر اپنی جماعتوں میں صاف اور شفاف اندرونی انتخابات کروانا چاہتے ہیں جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ چیدہ چیدہ لوگ سیاسی تجارت سے فیض اٹھانے کیلئے جب حکومتی ایوانوں میں آتے ہیں تو اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے اجتناب کرتے ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ تمام صوبوں میں بلدیاتی الیکشن نہ کروانے کیلئے حیلے بہانے تلاش کئے جاتے ہیں۔سندھ میں بھی بلدیاتی انتخابات کئی بار ملتوی کروا نے کے بعد بڑے بھاری دل کے ساتھ سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کی بات اس وقت مانی جب ان کے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہا۔ ایم کیوایم کے تحفظات کو بھی درگزر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جہاں ایم کیوایم مساوی ووٹوں کی بنیاد پر حلقہ بندیوں کا مطالبہ کررہی تھی وہیں پیپلز پارٹی بھی الیکشن سے اجتناب میں اپنے مالی مفادات کو تحفظ دینے کی کوشش کررہی تھی۔
بلدیاتی نظام بحال ہونے پر حکومت وقت کو فنڈز منتقل کرنے پڑتے ہیں اور اسی کو وہ مفادات کا ٹکراؤ سمجھتے ہیں کیونکہ ہماری سیاست کو صرف تجارت بنالیا گیا ہے اور سرکاری خزانہ نہیں تو تجارت میں فائدہ نہیں۔ دستور کے آرٹیکل 140 اے کے تحت ہر صوبائی حکومت پر یہ لازم ہے کہ وہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی یقینی بنائے۔
دستور کی اس شق کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ مقامی حکومتیں اپنے گلی کوچوں، محلوں اور علاقوں میں لوگوں کی زندگی کو سہل بنائیں اور ان کے مقامی مسائل اور مشکلات کو مقامی طور پر حل کریں اور اگر اختیارات اور مالی تقسیم دستور کی روح کے مطابق کی جائے تو نہ گداگری رہے نہ گندا پانی رہے، نہ گندی نالی رہے نہ گندے نالے، نہ برساتی پانی رہے نہ گلیوں، رستوں اور سڑکوں پر گڑھے پڑیں اور نہ ہی ملک و ملت کے نوجوانان منشیات کی لعنت کا شکار ہوں۔
کراچی کا بلدیاتی نظام جو اربوں روپے کے بجٹ پر چلتا ہے، وہ کسی سونے کی چڑیا سے کم نہیں ۔ جس سونے کی چڑیا کے پروں کو نوچ نوچ کر اپنی تقدیر سنواری گئی اب اس سونے کی چڑیا پر جان کنی کا عالم طاری ہے اور کراچی کے ہر نسل، ہر رنگ، ہر مذہب، ہر روپ، ہر طبقے اور ہر زبان کے لوگ اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
آج کا بلدیاتی الیکشن جیتنے والی جماعت اگر اس شہر کی خیر خواہی میں ذرا بھی سنجیدہ ہوئی تو مندرجہ ذیل اقدامات کرکے شہر کراچی میں رہنے اور بسنے والوں کی زبوں حالی کا مدوا ممکن بنا سکتی ہے۔
1۔گداگروں کی بحالی اور عادی و پیشہ ورگداگروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، یہ وہ ناسور ہے جس کا تدارک کرنے کیلئے مقامی اور صوبائی حکومت کا تعاون ناگزیر ہے۔ مقامی حکومتیں صوبائی حکومتوں سے ملکر گداگروں کی بحالی کیلئے اپنے اپنے علاقوں میں پیشہ ورانہ تربیت کے مراکز کو بحال کرنے اور چلانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہیں۔
دستور پاکستان کی شق 38 کے تحت ضرورت مند شہریوں بشمول گداگروں کی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔ کراچی میں گداگروں کا جم غفیر شہر کراچی اور پاکستان کے تشخص کو دنیا کی نظر میں متاثر کرتا ہے۔
2۔ مقامی بلدیاتی نظام ہی ہے جو کہ حکومت کا تیسرا ستون ہوتا ہے حتیٰ کہ بیشتر ممالک میں پولیس کا کنٹرول بھی مقامی حکومتوں کے پاس ہی ہوتا ہے اور مقامی حکومتیں مقامی لوگوں کو جوابدہ ہوتی ہیں جس کی وجہ سے منشیات فرشوں اور ان سے پیسے لینے والے پولیس مافیا پر بھی کڑی نظر مرکوز ہوتی ہے۔
کراچی کی گلی کوچوں میں ہر طبقے کا فرد نشے میں سڑکوں پر پڑا نظر آتا ہے اور منشیات فروش جن کوکہ پولیس اور حکومتی اداروں کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے وہ بغیر ڈر اور خوف کے اپنے کاروبار کو بڑھاوا دیتے ہوئے معاشرے کے ہونہاروں کو ناکارہ بنانے کیلئے گامزن رہتے ہیں۔
3۔ نکاسی و فراہمی آب
4۔ صفائی ستھرائی کے نظام کی بحالی
5۔ گٹرجس میں بچے گر کر فوت ہوجاتے ہیں ان کے ڈھکن لگائے جائیں
6۔ گلی کوچوں کی کشادگی کیلئے تجاوزات کلچر ختم کرکے ٹریفک کے بہاؤ کو سہل کیا جائے
آج کراچی میں ہچکولے کھاتے بلدیاتی الیکشن سے ابھرنے والی بلدیاتی حکومت سے یہ امید باندھی جاسکتی ہے کہ وہ شہر قائد کے ان باسیوں کو جوکہ پاکستان کا ایک گلدستہ سمجھا جاتا ہے ان کی زندگیوں کو سہل کرنے کیلئے جیتنے کے بعد اپنی تمام کوششیں اور کاوشیں بروئے کار لاسکیں جسکے ثمرات انہیں عام انتخابات میں بھی مل سکتے ہیں۔
ایم کیوایم کے مختلف دھڑوں کے انضمام کے بعد اگر ڈی لمیٹیشن کا مطالبہ تسلیم کر لیا جاتا تو متحدہ کی جیت کے امکانات واضح ہوسکتے تھے، مگر کراچی کا نظم و نسق سنبھالنے میں کامیاب ہوجانے والی کوئی بھی پارٹی کراچی کا اقتدار ملنے کی صورت میں اپنے عوام کیلئے محض نعروں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات بھی اٹھائے۔ایم کیو ایم کے الیکشن کے بائیکاٹ کی وجہ سے شہر کی ایک کثیر آبادی محرومی کی وجہ سے دوبارہ لسانیت کا بھی شکار ہوسکتی ہے۔
ایم کیو ایم کے بائیکاٹ سے پولنگ اسٹیشنز میں گہما گہمی نظر نہیں آئے گی جس سے اس الیکشن کی اہمیت و افادیت میں یقیناً کمی آجائے گی اور ایم کیو ایم کو ایک جواز مل سکتا ہے کہ وہ اس الیکشن کو بنیاد بناتے ہوئے کراچی میں جلسے جلوسوں کا دوبارہ آغاز کرے اور ایک بار پھر کراچی کی سڑکوں اور گلیوں میں وہی صورتحال پیدا ہوجائے جس سے عوام الناس کو زحمت کا سامنا کرنا پڑ جائے۔
پیپلزپارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ کراچی اور حیدر آباد کا میئر پیپلزپارٹی کا جیالہ ہوگااگر ایسا ہوا تو پیپلز پارٹی کے مال و دولت میں کوئی فرق نہیں آسکتا کیونکہ صوبے میں حکومت بھی اپنی اور کراچی جو کہ قارو ن کے خزانے سے کم نہیں اس کا میئر بھی اپنا ہوگا۔
نظر کا تیر جگر میں رہے تو اچھا ہے
یہ گھرکی بات ہے، گھر میں رہے تو اچھا ہے
بلدیاتی حکومتیں یونین کمیٹیوں میں حکومتی معاونت سے باآسانی چھوٹی سرمایہ کاری کے ذریعے معاشی سرگرمیوں میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں اور روشنیوں کے شہر کو ایک بار پھر اس سمت میں لے جایا جائے کہ مستقبل قریب میں یہ شہر اپنی پرانی شان و شوکت کے ساتھ یہاں کے باسیوں کی زندگیوں میں بہتری لاسکے۔شہر کراچی میں وہ وسائل موجود ہیں کہ اگر ان کا درست استعمال کیا جائے تو اتنا زرمبادلہ حاصل ہوسکتا ہے کہ وطن عزیز کو کسی قرض کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں