سب کو پتا ہے کہ ملک اس وقت شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔گو حکومتی ذمہ دار دعویٰ کررہے ہیں کہ ڈیفالٹ کا کوئی خطرہ نہیں ، لیکن زمینی حقائق بہت خوفناک ہیں،کیوں کہ زر مبادلہ کے ذخائز یعنی فارن ریزور خطرناک حد تک گر چکے ہیں، یہ بھی اطلاع ہے کہ کراچی پورٹ پر کئی کنسائنمنٹ اس وجہ سے رکے ہوئے ہیں کہ حکومت کے پاس ادائیگی کیلئے ڈالر زنہیں۔ مختصر یہ کہ اگر سعودی عرب یا کوئی اوردوست ملک پاکستان کی فوری مدد کیلئے آگے نہیں بڑھتا تو ڈیفالٹ کا خطرہ یقینی ہوجائے گا۔
بدقسمتی سے 75سال گزرنے کے باوجود پاکستانی ایک قوم نہیں بن سکے ، ایسی قوم جو قومی غیریت و حمیت سے مالا مال ہوتی ہے اورمشکل وقت میں اپنا سب کچھ وطن پر قربان کرنے کیلئے تیار ہوتی ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی سیاسی پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے تو وہ بڑی محب وطن نظرآتی ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ ملک کو معاشی دلدل سے نکالے، لیکن جونہی وہ اقتدار سے محروم اور کوئی اور پارٹی مسند اقتدار پر براجمان ہوجاتی ہے ، اس پارٹی کی سوچ یکسر تبدیل ہوجاتی ہے، پھر اس کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ ملک کے معاشی مسائل مزید گھمبیر ہوجائیں تاکہ برسراقتدار مخالف پارٹی کو سیاسی نقصان اور اسے فائدہ ہو۔
اس وقت جو سیاسی پارٹی مرکز میں اقتدارمیں نہیں، اس کی نہ صرف شدید خواہش ہے بلکہ وہ اپنے طورپر کوششیں بلکہ سازشیں بھی کررہی ہے کہ ملک ڈیفالٹ ہوجائے تاکہ یہ ثابت ہوجائے کہ اس کو اقتدار سے بے دخل کرنا غلط تھا۔ اس پارٹی کی قیادت کو نہ ہی ملک سے کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی قوم سے ، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ قوم کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی ۔ ہو بہ ہو یہی صورتحال اس وقت تھی جب موجودہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتیں اپوزیشن میں تھیں اوراس بات کی خواہش مند تھیں کہ ملک میں مہنگائی مزید بڑھے۔
عوام کی زندگی اجیرن ہو اورملک معاشی طورپر ناکام ہوجائے تاکہ جو پارٹی برسراقتدار ہے وہ عوام کی نظروں میں اپنی وقعت کھو بیٹھے اوران کیلئے اقتدار تک پہنچنے کا کوئی راستہ نکل آئے۔ جس ملک کی سیاسی قیادت کی سوچ یہ ہو،وہ ملک ترقی کیسے کرسکتا ہے؟ اس سارے معاملے میں ــ’’مقتدر ‘‘قوتوں کا کردار بھی انتہائی شرمناک ہے ، لیکن ہم میں اس طرف جانے کی ہمت نہیں۔ البتہ ہم اپنی یعنی عوام کی سوچ اوررویے کو زیر بحث لاکر غبار خاطر کو کچھ کم کرلیتے ہیں۔
اگر یہ کہاجائے کہ پاکستان کو اس حالت تک پہنچانے میں سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ عوام بھی برابر کے شریک ہیں توغلط نہیں ہوگا۔ ہم سیاسی شعور اور الیکشن میں ووٹ دینے کی بات نہیں کرتے، بلکہ مجموعی عوامی رویے کی بات کرتے ہیں۔کتنے لوگ ہیں جو اپنے مفاد پر قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں؟نہ ہونے کے برابر!!!حقیقت یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے دس روپے کے فائدے کیلئے ملک وقوم کے ہزاروں ، بلکہ لاکھوں روپے کا نقصان کرنے سے نہیں کتراتے۔ ہمیں قومی نقصان اپنا نقصان نظر ہی نہیں آتا۔ سب لوگ ذاتی مفادات کے اسیر ہیں۔
اس وقت ملک مالی مشکلات کا شکار ہے، ڈالرز کی قلت کی وجہ سے روپے کی قیمت گرچکی ہے، لیکن جن لوگوں نے گھروں میں ڈالرز جمع کررکھے ہیں ، ان کی بس یہی خواہش ہے کہ روپے کی قیمت مزید گر جائے، یہ لوگ مزید ڈالر زبھی خرید کر جمع کررہے ہیں،تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرسکے، انہیں اس بات کی فکر نہیں کہ اس سے ملک وقوم کا کیا نقصان ہورہا ہے۔ قومی غیرت اورحمیت کا تقاضہ اوروقت کی پکار تویہ ہے کہ اس وقت جس کے پاس گھر میں ایک ڈالر بھی رکھا ہے اوراسے مارکیٹ میں لے جاکر فروخت کردے تاکہ مارکیٹ میں ڈالر کی قلت ختم، مانگ کم ہوجائے اور ملکی کرنسی کی قدر بڑھ جائے ۔
لیکن اس کیلئے جس قومی سوچ وفکر کی ضرورت ہے وہ یہاں ناپید ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے، لیکن ہماری نظر میں اس وقت ہر وہ شخص قومی مجرم ہے جس نے گھر میں بلاضرورت ڈالر زجمع کررکھے ہیں اوراگر پاکستان ڈیفالٹ کرگیا تواس کا ذمہ دار یہ شخص بھی ہوگا ۔ ہر شخص اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے تواسے معلوم ہوگا کہ اس ملک کے ’’دشمن‘‘ صرف سیاستدان نہیں ہم عوام بھی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں