لانگ مارچ کا چیلنج

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ قیادت وفاقی حکومت کو سیلاب جیسے عفریت کے بعد اب چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ کے چیلنج کا سامنا ہے جبکہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا سلسلہ ابھی تھما نہیں۔

بلاشبہ سندھ اور بلوچستان سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور پھر سیلابی پانی سے وبائی امراض کا جو مسئلہ شروع ہوا ہے، وہ بھی حکومت کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں تاہم عمران خان کی جانب سے لانگ مارچ بھی کوئی ایسی چیز نہیں جسے نظر انداز کیا جاسکے۔

گزشتہ روز وفاقی حکومت عمران خان کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دے کر دراصل لانگ مارچ کے عمران خان کی جانب سے کیے جانے والے اعلانات سے اپنے وزراء کے ذہنوں پر پڑنے والا دباؤ کم کرنے کی خواہاں ہوئی جبکہ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ عمران خان کا لانگ مارچ سپریم کورٹ احکامات کی خلاف ورزی ہوگا۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے عمران خان کے خلاف دی گئی درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے تو عمران خان کو پر امن احتجاج کی اجازت دی لیکن عمران خان پھر اسلام آباد پر چڑھائی کے اعلانات کرتے پھر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ اپنے احکامات پر ہی عمل کروالے۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے گزشتہ روز خاتون جج دھمکی کیس سمیت 2 مقدمات میں عمران خان کی مستقل ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔ اسی روز پی ٹی آئی سینیٹر اعظم خان سواتی کو گرفتار کیا گیا جو سابق وزیرِ ریلوے ہیں، ایف آئی اے نے انہیں عدالت میں پیش کرکے 2 روزہ ریمانڈ بھی حاصل کیا۔

محسوس ایسا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی سینیٹرز سمیت دیگر رہنماؤں کی گرفتاریوں اور عمران خان کے خلاف مقدمات سے حکومت پی ٹی آئی پر دباؤ بڑھانا چاہتی ہے تاکہ تحریکِ انصاف لاکھوں افراد کا مجمع ساتھ لے کر اسلام آباد پر چڑھائی نہ کرسکے۔

جمعرات کے روز زرعی یونیورسٹی راولپنڈی میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جیل چھوٹی چیز ہے، حقیقی آزادی کیلئے جان دے سکتا ہوں۔ نوجوانوں پر لازم ہے کہ باہر نکلیں۔ معاشرے میں ناانصافی کے خلاف بزدل کھڑے نہیں ہوتے۔ ہر روز میرے خلاف نئے مقدمات درج ہوتے ہیں۔ میں چوروں کے خلاف کھڑا ہوں۔

ایک موقعے پرعمران خان سے پوچھاگیا کہ آپ کے تو سینیٹر کو گرفتار کیا گیا ہے، آپ کیا کریں گے؟ عمران خان نے کہا کہ ہم عدالت جائیں گے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ فی الوقت عمران خان کا حکومت کے خلاف کوئی غیر قانونی راستہ اپنانے کا ارادہ نہیں ہے۔

تاہم حقیقی آزادی کیلئے جان دینے کی بات اور نوجوانوں کو گھر سے نکلنے کی ترغیب دینا اور پھر یہ کہنا کہ میں کال دوں گا، دراصل اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ عمران خان کسی بھی وقت لانگ مارچ کی کال دینے والے ہیں جو حکومت کیلئے بڑا چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔

Related Posts