ملکی سیاست کا بدلتا ہوا منظرنامہ

تازہ ترین

تازہ ترین

جب 2018ء میں سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم عمران خان نے بطور وزیر اعظم پاکستان حلف اٹھایا تو کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ ملکی سیاست میں تحریکِ انصاف کی صورت میں نئی جماعت کے ابھرنے سے کتنی ہلچل مچ سکتی ہے، لیکن جو ہونا تھا، وہ ہو کر رہا۔

حسبِ سابق جو پہلی جمہوریتوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے، وہی عمران خان کے ساتھ بھی ہوا کہ 5سال پورے نہیں کرنے دئیے گئے تاہم ملکی تاریخ میں پہلی بار جمہوری طریقے سے تحریکِ عدم اعتماد لا کر ایک منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیج دیا گیا۔

جوابی کارروائی کرتے ہوئے عمران خان نے پنجاب اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی سے اپنے اراکین کو استعفے دلوائے اور پھر موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کے خلاف ایک ایسا محاذ کھول دیا گیا جس کے تحت یا تو شہباز شریف بھی گھر چلے جاتے یا پھر الیکشن منعقد کروا کر تحریکِ انصاف کو دوبارہ اوپر آنے کا موقع دیا جاتا۔

موجودہ حکومت نے بھی سیاست کا جواب سیاست سے دیتے ہوئے ایسے ایسے پینترے بدلے کہ پی ٹی آئی کیلئے اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہوچکا ہے۔ 9مئی کے واقعات کے بعد سے تحریکِ انصاف عتاب کی زد میں ہے اور اس کے درجنوں اراکین پارٹی چھوڑنے اور متعدد سیاست سے بھی کنارہ کشی کا اعلان کرچکے ہیں۔

حال ہی میں ایک منحرف رکن فیاض الحسن چوہان نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا ایجنڈا عمران خان کے خلاف نہیں ہے بلکہ اگر نواز شریف بیرونِ ملک جاسکتے ہیں تو عمران خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی کو بھی چانس دیا جاسکتا ہے۔

قبل ازیں دیگر جتنے بھی اراکین پی ٹی آئی چھوڑ کر جا چکے اور ایک کے بعد ایک نے پریس کانفرنس کی، سب کے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں، رہنماؤں کی بار بار گرفتاریاں اور اس وقت تک گرفتاریاں سمجھنے کی کوشش کریں جب تک کہ وہ پارٹی چھوڑ نہیں دیتے، تو موجودہ حکومت کی حکمتِ عملی واضح ہوجاتی ہے۔

محسوس ایسا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دیوار سے لگایا گیا ہے۔ پارٹی پر پابندی لگانے کی باتیں بھی جاری ہیں اور سب سے بڑھ کر عمران خان کا یہ بیان بھی اہم ہے کہ جو لوگ پارٹی چھوڑ رہے ہیں، ان پر تنقید نہ کریں۔ وہ مجبور ہیں۔

تسلیم، کہ موجودہ حکومت کے تمام تر اقدامات بظاہر کامیاب ہیں اور اب تو پی ٹی آئی حقیقی کے قیام کا اعلان بھی ہوچکا، تاہم کسی پارٹی کو ختم کرنے سے قبل اس کے نظرئیے اور سوچ کو ختم کرنا ضروری ہوتا ہے اور عمران خان کا نظریہ اور سوچ ختم ہوئی ہے یا بچ گئی، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

اس تمام تر سیاسی رسہ کشی کے باعث ملکی معیشت کا جو حال ہوا ہے، ملک کی گزشتہ 75سالہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ بہتر ہے کہ حکومتِ وقت ہوش کے ناخن لے اور معیشت کی بہتری کیلئے بھی اقدامات اٹھائے۔ 

Related Posts