پاکستان اپنی گزشتہ 75سالہ تاریخ اور جغرافیے کے ساتھ ساتھ سیاسی اعتبار سے بھی بڑی طویل اور پیچیدہ تاریخ کا حامل ہے جہاں مختلف ریاستی ادارے اقتدار کی رسہ کشی میں غلطاں و پیچاں نظر آتے ہیں۔
حال ہی میں بنایا گیا آڈیو لیکس کمیشن بھی اسی رسہ کشی کا ایک مظہر قرار دیا جاسکتا ہے جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کر رہے ہیں جو پہلے ہی اپنے جچے تلے بیانات کے باعث میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہتے ہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد اور بلوچستان ہائی کورٹس کے 2 چیف جسٹس بھی اسی کمیشن کا حصہ بنے ہوئے ہیں جس نے گزشتہ روز مبینہ آڈیوز سے منسلک 4 شخصیات کو 27 مئی کے روز طلب کر لیا جن میں صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری اور خواجہ طارق رحیم ایڈووکیٹ شامل ہیں۔
ایک نجی ٹی وی چینل کے دعوے کے ذرائع کا کہنا تھا کہ صحافی عبدالقیوم صدیقی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب کو بھی 27 مئی کو کمیشن میں طلب کیا گیا ہے جبکہ کمیشن کی تشکیل کو عمران خان نے چیلنج کر رکھا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے مؤقف کا مفہوم یہ ہے کہ جب ججز کے معاملات پر تحقیقات کیلئے سپریم جوڈیشل کمیشن موجود ہے تو آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے الگ کمیشن کے قیام کی کوئی ضرورت نہیں تھی جبکہ وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا فرمانا یہ ہے کہ آڈیو کمیشن کی تشکیل کیلئے چیف جسٹس سے پوچھنا ضروری نہیں تھا۔
آج سے 2 روز قبل یہ خبر بھی سامنے آئی کہ وفاقی حکومت آڈیو لیکس کی تحقیقات کیلئے بننے والے انکوائری کمشین کو تحقیق طلب مبینہ آڈیوز فراہم کرچکی ہے۔8 آڈیوز کے ساتھ ٹرانسکرپٹ بھی مجاز افسر کے دستخط سے جمع کرایا گیا۔
آڈیوز میں موجود افراد کے نام، عہدوں اور دستیاب رابطہ نمبروں کی معلومات بھی آڈیوز کے ساتھ ہی جمع کرائی گئیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر قیادت وفاقی حکومت آڈیو لیکس کی تحقیقات میں بے حد سنجیدگی سے کام لے رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ججز سے متعلق آڈیو لیکس کوئی اچھوتا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل مریم نواز کی میڈیا مینجمنٹ سے متعلق آڈیو لیک ہوئی، عمران خان کی آڈیو لیک ہوئی، وزیر اعظم شہباز شریف کی آڈیو لیک ہوئی جس پر قانون حرکت میں آیا اور کارروائی بھی کی گئی۔
تاہم یہ آڈیو لیکس کا سلسلہ تھما نہیں بلکہ مزید بڑھ چکا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت نے جو قانونی کارروائی کی، شاید وہ کافی نہیں تھی یا پھر حکومتِ وقت کو کچھ ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن کی مدد سے آئندہ کیلئے ایسی آڈیو لیکس کا ہمیشہ کیلئے سدِ باب ہوسکے جس کیلئے اربابِ اختیار کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں