طاقتور نظامِ انصاف کی ضرورت

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان میں حالیہ واقعات نے ایک بار پھر ملک کے سیاسی منظر نامے میں طاقت اور احتساب کی پیچیدہ حرکیات کو اجاگر کیا ہے۔ دو روز قبل سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری سے ملک بھر میں تشویش پھیل گئی جس سے نظامِ انصاف سمیت دیگر شعبہ جات کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ضروری ہے کہ ملکی صورتحال کا معروضی جائزہ لیا جائے  اور مضبوط پاکستان کی خاطر انصاف کی بالادستی کو یقینی بنانا بہت ضروری ہے۔ عمران خان جنہیں کسی دور میں تبدیلی کے نعرے کے باعث ملک بھر میں شہرت ملی اور خاص طور پر نوجوان نسل کے مقبول ترین لیڈر بنے، انہیں ان تنازعات میں پہلے سے بڑھ کر اہمیت حاصل ہورہی ہے۔

سابق وزیر اعظم اور ملکی سیاست کی ممتاز شخصیت کے طور پر  عمران خان کی گرفتاری نے قدرتی طور پر ملکی اور بین الاقوامی مبصرین کی توجہ حاصل کر لی ہے، تاہم یہ امر قابل تشویش ہے کہ امریکہ سے رکن کانگریس بریڈ شرمین نے اس واقعہ کو فوجی بغاوت قرار دیا ہے۔ اس طرح کے دعووں کا بغور جائزہ لیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ رائے عامہ کو متاثر کر سکتے ہیں اور اس کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔

متوازی طور پر حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) نے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کے خلاف الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ اس کیس کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے مرتب کیا تھا۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ الزامات کسی شخص کے مجرم ہونے کی تصدیق نہیں کیا کرتے، اور ہر شخص جرم ثابت ہونے تک اس بات کا حقدار ہے کہ اسے مجرم نہ سمجھا جائے۔ تاہم حالیہ پیش رفت کی وجہ سے نیب کی ساکھ جانچ پڑتال کی زد میں آ گئی ہے۔

احتساب عدالت کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور خاتون اوّل نصرت شہباز کو بے گناہ قرار دینے کے باعث بھی نیب کو عوامی شکوک و شبہات کا سامنا ہے۔ اس طرح کے واقعات نیب کی تحقیقات اور کارروائیوں کی تاثیر اور غیر جانبداری پر شکوک پیدا کرتے ہیں۔ ادارے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان خدشات کو دور کرے اور اپنے کام کاج پر عوام کے اعتماد کو مضبوط کرے۔

اس تمام تر سیاسی تنازعے کا ایک اور نکتہ نیب کی جانب سے سرکاری افسران اور اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ سلوک میں مبینہ تضاد ہے۔ ن لیگ کے رہنماؤں اور وفاقی وزراء کے خلاف نیب کے اختیارات میں نیب آرڈیننس کے ذریعے حالیہ کٹوتی نے غیر مساوی نظام انصاف کے تاثر کو ہوا دی ہے۔ نیب کے کہنے پر رینجرز کے ہاتھوں عمران خان کی گرفتاری اس بیانیے کو تقویت دیتی ہے۔

 منصفانہ نظام انصاف کو تمام افراد کے ساتھ، ان کی سیاسی وابستگیوں سے قطع نظر، یکساں سلوک کرنا چاہیے۔ پاکستان کو فوری طور پر ایک مضبوط اور طاقتور نظام انصاف کی ضرورت ہے جو عوام کو غیر جانبداری، شفافیت اور انصاف فراہم کر سکے، جس میں طاقتور اور کمزور کی تخصیص نہ ہو۔ ایسے نظام کے ذریعے ہی عوام کا اعتماد بحال اور برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کا کردار عدالتی عمل کو متاثر کرنے یا کمزور کرنے کے بجائے قانون کی حکمرانی کی حمایت اور تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا ہونا چاہیے۔

آخر میں عمران خان کی گرفتاری اور ان کے خلاف الزامات سے متعلق حالیہ پیش رفت کو احتیاط اور معروضیت کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف لگائے گئے الزامات کی مکمل چھان بین کی جانی چاہیے۔ ملک کیلئے ایک مضبوط اور آزاد انصاف کا نظام وقت کی ضرورت ہے، جو سیاسی وابستگیوں یا کسی بھی قسم کے دباؤ سے قطع نظر سب کو انصاف فراہم کر سکے۔ صرف اسی صورت میں پاکستان ایک روشن اور زیادہ مساوی مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

Related Posts