پاکستان تحریکِ انصاف اور حکمراں اتحاد پی ڈی ایم کے مابین قومی اسمبلی میں متوقع سیاسی معرکہ آرائی نے ملک بھر میں ایک بار پھر سیاسی عدم استحکام کے خدشات جنم دے دئیے ہیں۔
ہوا کچھ یوں کہ لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے تحریکِ انصاف کے 70 اراکینِ اسمبلی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے الیکشن کمیشن کے حکم کو معطل کردیا جس سے سیاسی ڈرامہ نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔
تحریکِ انصاف قومی اسمبلی میں اپنا قائدِ حزبِ اختلاف لانے کیلئے پر تول رہی ہے جس پر وفاقی وزراء میں بے چینی پھیل گئی جبکہ لاہور ہائیکورٹ کے حالیہ حکم نامے سے پی ٹی آئی کو مزید تقویت ملی۔
چیئرمین پی ٹی آئی و سابق وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر بہتر پوزیشن پر اپنا مورچہ سنبھال لیا ہے جس پر مخالف سیاسی جماعتوں میں تشویش ہے، حال ہی میں عمران خان نے کچھ دلچسپ بیانات بھی جاری کیے تھے۔
وفاقی حکومت اور عمران خان کے مابین یہ سیاسی لڑائی تاحال اختتام پذیر نہیں ہوئی تاہم جمہوری معاشرے میں صبر ایک اہم خوبی ہوا کرتی ہے اور تمام سیاسی قائدین کو بھی صبر و تحمل سے کام لینا ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ملکی سیاستدان قانون اور جمہوریت کو اپنا کردار ادا کرنے دیں جو اپنا راستہ خود بنائیں گے جو نظامِ جمہوریت کا اصل جوہر ہے۔ ضروری ہے کہ حکمران اور اپوزیشن مل کر کام کریں۔
دونوں مخالف سیاسی قوتوں کا مل جل کر ملک کی ترقی کیلئے کام کرنا ملک کی جمہوری اقدار اور اصولوں کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوگا۔ سیاسی لڑائیاں، تنازعات اورعدم استحکام جمہوریت کیلئے مضر ہیں۔
وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے مستحکم، خوشحال اور جمہوری پاکستان کے مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے کام کریں۔ سیاستدانوں کو سمجھنا ہوگا کہ ان کا ذاتی ایجنڈا اہم نہیں ہے۔
اہم یہ ہے کہ ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر فوقیت دی جائے۔ یہاں ایک بار پھر یہ تذکرہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ تمام سیاسی قائدین کو مل جل کر ملک میں سیاسی استحکام کیلئے صبر و تحمل کو اپنانا ہوگا۔
مملکتِ خداداد پاکستان کو استحکام اور خوشحالی کی ضرورت ہے اور یہ تمام تر مقاصد پر امن مذاکرات اور سیاسی اختلافات کو حل کرنے کیلئے تعمیری نقطۂ نظر سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں جو سیاسی تصادم مستقبل قریب میں ہوتا نظر آتا ہے، ایوان کیلئے وہ کوئی نئی بات نہیں، تاہم ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں سیاسی قیادت کو قومی مفادات کو مقدم رکھنا ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں