ملک بھر میں مائیکرو پلاسٹک کے استعمال پر پابندی کے باوجود پاکستان میں شاپنگ بیگز کا استعمال بدستور جاری ہے جبکہ پلاسٹک بیگز کو تلف کرنا خطرناک اور گھلنا مشکل ہوتا ہے۔
عام طور پر پلاسٹک کے بنے ہوئے شاپنگ بیگز نکاسئ آب کی لائنز اور گٹر وغیرہ میں پھنس جاتے ہیں جس کی وجہ سے خاص طور پر مون سون بارشوں کے موسم میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
جدید تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک کے 5 ملی میٹر سے چھوٹے پلاسٹک کے ذرات زمین پر تقریباً ہر شگاف میں موجود ہیں جس سے سمندر، ندیاں نالے، پانی اور مٹی آلودہ ہو گئے۔
گرم اور سرد خون والے دونوں قسم کے جانوروں کے اجسام میں مائیکرو پلاسٹک کی نمایاں مقدار پائی گئی ہے جس سے حیوانی زندگی کو خطرات اور پودوں کو بھی مسائل درپیش ہیں۔
دُنیا بھر میں استعمال کردہ پلاسٹک بیگز کے پھیلاؤ سے انسان بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ سائنسدانوں کو پہلی بار انسانی خون میں مائیکرو پلاسٹکس کی اچھی خاصی مقدار ملی۔
کم و بیش 80 فیصد لوگ اس ٹیسٹ سے گزرے تاہم تاحال یہ علم نہیں ہوسکا کہ پلاسٹک بیگز انسانی زندگی کو کس حد تک نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ خیال یہ ہے کہ پلاسٹک کے ذرات خلیات کیلئے ضرررساں ہیں۔
یہ ذرات انسانی اعضاء میں جمع ہوکر مختلف بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں اور دنیا بھر میں ماحولیاتی نظام اور جانوروں کی انواع کی بقاء کیلئے خطرات پیدا کر رہے ہیں جس پر نوعِ انسانی کو سوچ بچار کرنا ہوگی۔
انسان جزوی طور پر متبادل ذرائع کی طرف جانے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور صفائی کیلئے سستی اور کار آمد ٹیکنالوجی کا استعمال بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔
ایک امیدیہ کی جارہی ہے کہ مچھلی کی صورت میں بنائے گئے روبوٹ سے مائیکرو پلاسٹک کو ختم کیا جاسکے گا۔ روبوٹس بنانے والے چینی سائنسدان پر امید ہیں کہ آلودہ سمندر صاف کرنے میں مدد ملے گی۔
ایسے روبوٹس اگر دوسری مچھلیاں کھا لیں تو وہ ہضم ہو کر آلودگی کو جذب کرسکتے ہیں اور نقصان پہنچنے پر خود کو ٹھیک بھی کرسکتے ہیں۔ ان کا استعمال سمندری آلودگی تک رسائی میں بھی مددگار ہے۔
متعدد ممالک اپنے دریاؤں اور جھیلوں کی نگرانی کیلئے ایسے روبوٹس سے مدد لے سکتے ہیں۔ یہ ایک بہترین منصوبہ ہے جس پر عالمی برادری کو سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔
خود پاکستان بھی چین کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے روبوٹس کے منصوبے میں سرمایہ کاری اور ایسی ٹیکنالوجی حاصل کرسکتا ہے جو پلاسٹک بیگز کی آلودگی کا تدارک کرسکے۔