اسرائیل نے امریکا کو اپنے اصل ایٹمی عزائم سے آگاہ نہیں کیا لیکن حالات نے جلد ہی واشنگٹن کو اس راز سے باخبر کر دیا۔ سرد جنگ کے ابتدائی برسوں میں امریکا کی تمام توجہ سوویت پروگرام پر مرکوز تھی اور معلومات انتہائی محدود تھیں۔ اسی دوران سی آئی اے نے جاسوس طیارے یو-2 کے ذریعے فضائی تصاویر لینا شروع کیں جو محض سوویت نہیں بلکہ فلسطینی صحراؤں پر بھی نظر رکھتی تھیں۔
ابتدائی پروازوں نے ایٹمی میدان میں ماسکو کی پیش رفت کے شواہد دیئے لیکن ساتھ ہی واشنگٹن کی نگاہیں اسرائیلی صحراؤں کی طرف بھی مڑ گئیں۔ ایزن ہاور انتظامیہ پہلے ہی اسرائیل کی عسکری قوت چھپانے کی ضد سے خفا تھی خاص طور پر 1956 کے سویز حملے سے قبل اچانک یو-2 نے بئر السبع کے جنوب میں اسرائیلی فضائیہ کے ایک تربیتی میدان میں غیر معمولی سرگرمیاں ریکارڈ کیں۔ بعد ازاں رپورٹیں براہِ راست وائٹ ہاؤس پہنچنے لگیں۔ ایک بڑی دریافت یہ تھی کہ دیمونا کے قریب بارہ مربع میل پر پھیلی ایک بنجر زمین کو گھیر کر اس پر تعمیرات ہو رہی ہیں۔ پہلے تو امریکی تجزیہ کاروں نے سمجھا کہ یہ کسی ہتھیار کے تجرباتی میدان کے لیے ہے مگر مزید تصاویر نے بھاری مشینری، گہرے کھدائی کے کام اور زیرِ زمین کنکریٹ ڈالنے کے مناظر دکھائے تب جا کر واشنگٹن کو احساس ہوا کہ یہ محض کسی ٹیکسٹائل فیکٹری یا عسکری گودام کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک ایٹمی پروجیکٹ ہے۔
سی آئی اے اس سے سخت پریشان ہوئی مگر وائٹ ہاؤس کا رویہ سرد رہا۔ رپورٹس پر جواب مختصر جملوں پر ختم ہو جاتا: شکریہ یا یہ شائع تو نہیں ہوگا ہے نا؟۔
اسرائیل نے جب یو-2 کی پروازوں کو بھانپ لیا تو روزانہ بند ٹرکوں کے ذریعے کھدائی کا ملبہ اور فضلہ خفیہ طور پر ہٹانا شروع کر دیا۔ ری ایکٹر کی تکمیل کے بعد فضائی تصاویر کی اہمیت کم ہوگئی اور کئی برس گزر گئے اس سے پہلے کہ امریکی یقین سے کہہ سکیں کہ اسرائیل واقعی جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی طرف بڑھ چکا ہے۔
امریکی اہلکاروں نے علاقے میں داخل ہونے کے لیے بہانے تلاش کیے، جیسے شراب خریدنے کے دورے۔ سی آئی اے کے اہلکار خفیہ کیمروں کے ساتھ گئے اور اردگرد کے پودوں کی تصویریں لیں تاکہ پلوٹونیم یا پگھلے دھاتوں کے اثرات ڈھونڈ سکیں، مگر اسرائیل نے درخت لگا کر سب کچھ چھپا دیا۔ 1959 کے آخر تک واشنگٹن کو یقین ہو چکا تھا کہ اسرائیل ایٹمی کھچڑی پکا رہا ہے مگر ایزن ہاور اور اس کے مشیروں نے اس حقیقت سے چشم پوشی اختیار کی۔ اس نرم رویے کی کئی توجیہات پیش کی جاتی ہیں۔ ان میں ایک یہ بھی کہ وہ امریکی یہودیوں کے ساتھ گہری ہمدردی رکھتا تھا خصوصاً اس احساس کے ساتھ کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران اتحادیوں نے نازی کیمپوں کی نجات کو اولین ترجیح نہیں بنایا تھا بلکہ ان کا اصل ہدف جرمن رائخ کو گرانا تھا۔
اس کی نمایاں مثال لوئس شتراوس تھا جو صدر کا ایٹمی توانائی کا مشیر تھا۔ وہ یہودی تھا اور دیمونا کی رپورٹس سے بخوبی واقف تھا، مگر کبھی اعتراض نہ کیا۔ 1991 میں اس کی بیوی نے وفات سے کچھ پہلے انکشاف کیا کہ اگرچہ وہ ہمیشہ رازدار رہے لیکن اس کا پختہ یقین تھا کہ اسرائیل کو اپنی بقا کے لیے جوہری قوت حاصل کرنا ہی ہوگا۔
ممکن ہے کہ شتراوس اور دیگر امریکی یہودی یہ سمجھتے ہوں کہ دوہری وفاداری کا سوال کھلے عام نہ اٹھایا جائے۔ وہ ڈرتے تھے کہ کہیں امریکی یہ نہ سمجھ لیں کہ اسرائیل کے لیے ان کی حمایت امریکا سے بڑھ کر ہے اور اسی کے ساتھ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ عرب یہ حقیقت نہ جان پائیں تاکہ ان میں یہودی سازش کا احساس نہ ابھرے، جو بالآخر انہیں اپنی ایٹمی دوڑ کی طرف دھکیل سکتا تھا۔
شمشون کی اساطیر: معبد سے دیمونا تک:
آئیے پہلے آگے کی جانب قدم بڑھاتے ہیں پھر چند قدم پیچھے لوٹتے ہیں۔ 1986 میں لندن کے سنڈے ٹائمز میں فزکس کے ماہر اور صحافی پیٹر ہونام کو ایک پراسرار خط موصول ہوا۔ بھیجنے والے نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے جوہری منصوبے پر کام کر چکا ہے۔ باریک بینی اور احتیاط سے پرکھنے کے بعد ہونام کو یقین ہو گیا کہ خط بھیجنے والا واقعی موردخائے فعنونو ہے، جو پلوٹونیم کی پیداوار کرنے والے یونٹ میں ٹیکنیشن کے طور پر کام کرتا رہا تھا اور اس کے پاس نہایت حساس معلومات موجود ہیں۔
بار بار کی ملاقاتوں میں، فعنونو نے نہ صرف منصوبے کی نوعیت بلکہ ایک انتہائی خفیہ عمارت کے خاکے تک ہونام کے حوالے کر دیئے جس کی تصویر کشی زمین سے بھی ممکن نہ تھی۔
خبر کی اشاعت سے قبل اُس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم شمعون پیریز نے عبرانی اخبارات کے مدیران کو طلب کیا اور خبردار کیا کہ کسی طور برطانوی اخبار میں چھپنے والی رپورٹ کو شائع یا حوالہ نہ بنایا جائے اس بنا پر کہ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔
خبر شائع ہوئی تو اسرائیل نے فعنونو کے خلاف ایک طوفانی مہم شروع کی۔ وہ یورپ میں برطانیہ اور اٹلی کے درمیان ایک امریکی سیاح خاتون کے ساتھ گھوم رہا تھا۔ ہونام کو شک تھا کہ یہ عورت امریکی نہیں بلکہ موساد کی ایجنٹ ہے۔ اس نے فعنونو کو متنبہ کیا مگر اُس نے تسلی دی۔ جیسا کہ متوقع تھا، فعنونو اچانک غائب ہو گیا۔ تحقیقات کا سراغ آخرکار سِنڈی نامی عورت تک پہنچا اس عورت کے پاس امریکی اور اسرائیلی شہریت تھی اور جو دراصل موساد کے ایک افسر کی بیوی نکلی۔ اس نے رومانوی جال بچھایا روم میں فعنونو کو نشہ آور دوا پلائی اور پھر موساد کی مدد سے اسے اغوا کر کے تل ابیب پہنچا دیا۔
فعنونو پر اعلیٰ غداری اور ریاستی راز افشا کرنے کا مقدمہ چلا اور اسے 18 برس قید کی سزا سنائی گئی۔ اسرائیل کا غصہ صرف راز فاش کرنے پر نہ تھا، بلکہ اس کی حکمتِ عملی پر زد آنے پر بھی تھا، جسے ابہام کے ذریعے بازدارِی (Deterrence through Ambiguity) کہا جاتا تھا۔ کیونکہ اسرائیل کو پسند تھا کہ اس کے جوہری پروگرام پر دنیا بات کرے اس کی طاقت پر قیاس آرائیاں ہوں، کچھ کارکنان میں پیدا ہونے والی بیماریوں کا چرچا ہو لیکن کسی ٹھوس تکنیکی تفصیل یا سرکاری اعتراف کے بغیر۔ یہی دانستہ ابہام اسرائیلی سیاسی اشرافیہ اور عوام دونوں میں تقریباً اجماعی سوچ بن چکا تھا۔
اب ذرا بہت پیچھے چلتے ہیں۔ صہیونی تحریک اگرچہ سیکولر بنیادوں پر اٹھی تھی اور اس کا بانی تھیوڈور ہرتزل خود مذہب بیزار اور ملحد تھا مگر توریاتی اساطیر اور مذہبی اصطلاحات ہمیشہ اس ریاستی بیانیے کا بنیادی ستون رہیں کیونکہ ایک ایسی ریاست جو تلوار اور بیانیے دونوں کے ساتھ زندہ رہنا چاہتی تھی، اُسے مذہبی اساطیر زیادہ توانائی بخشتی تھیں۔ انہی داستانوں سے شمشون آپشن کا فلسفہ وجود میں آیا، جو اسرائیل کے جوہری حامیوں کی خودکش عقیدت ہے۔ یہ کہانی توراتی شمشون کی ہے، جو تورات میں مذکور ایک اسرائیلی کردار ہے، جسے فلسطینیوں نے قید کر کے آنکھوں سے اندھا کر دیا اور غزہ کے داجون معبد میں تماشے کے طور پر پیش کیا۔ مقدس متن کے مطابق اس نے “رب اسرائیل” سے آخری طاقت مانگی اور چلّا کر کہاکہ میری جان فلسطینیوں کے ساتھ ہی نکل جائے۔ پھر اس نے زور لگایا تو مکان ان سب پر گر پڑا۔ یوں وہ اپنے ساتھ سب کو ڈھیر کر گیا۔ (عہد نامہ قدیم، کتابِ قضاۃ 16: 29-30)
اسرائیل کے اندر جوہری ہتھیار کے حصول پر کچھ مفکرین اور بائیں بازو کے حلقوں نے اخلاقی سوال اٹھائے، لیکن سیاسی اکثریت نے یہ سوچ اپنائی کہ اگر اسرائیل کو فنا ہونا ہے تو اس کے دشمن بھی اس کے ساتھ فنا ہوں۔ یہ ایک اجتماعی خودکشی کی منطق تھی تاکہ ہولوکاسٹ جیسا منظر دوبارہ نہ دہرایا جائے۔
ابتداء سے ہی اسرائیل عرب دنیا کے سامنے نازی صدمے اور عرب دشمنی کے امتزاج کے ساتھ کھڑا ہوا۔ نئے آنے والے تارکین نے اجاڑ زمین کو آباد کرنے والے مہاجر کا تصور بیچا جیسا کہ کیبوتس فلسفے میں تھا، (اسرائیل میں غاصب آبادگاروں کی سیکور بستی کو کیبوتس کہا جاتا ہے، جیسے ہمارے یہاں ٹاؤن یا محلہ) مگر حقیقت یہ رہی کہ اسرائیل کا قیام تلوار کے زور پر ہوا۔ خونریزی ہی منتخب قوم کی ریاست کے بقا کا قربان گاہ بنی۔
اسی لیے، فرانس کی مدد اور امریکا کی چشم پوشی کے ساتھ ایٹم بم بنانا ایک ابتدائی تزویراتی ہدف بن گیا لیکن آج تک اسرائیل نے شمشون کی داستان کے تحت اپنی تباہی کے بٹن کو نہیں دبایا، کیونکہ 1948 سے وہ فلسطینیوں کی نسل کشی روایتی ہتھیاروں سے ہی جاری رکھے ہوئے ہے۔ آج غزہ کی قتل گاہ اور اس کا قحط براہِ راست دنیا کی اسکرینوں پر نشر ہو رہا ہے اور دنیا بے حسی سے تماشائی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اسرائیل کا نیا نعرہ مجھ پر اور میرے دشمنوں پر نہیں بلکہ صہیونیوں کے ابتدائی الفاظ ہیں: ہم کبھی نئے نازی مظلوم نہیں بنیں گے ہم وہ ہوں گے جو ہیروشیما پر بم گراتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں