مُردوں سے خالی القدس کی 13000 جعلی قبروں کا خطرناک راز

تازہ ترین

تازہ ترین

القدس شہر جو صدیوں سے تین بڑے آسمانی مذاہب کا مقدس مرکز رہا ہے، آج ایک غیر علانیہ مگر شدید نوعیت کی ثقافتی اور مذہبی جنگ کا میدان بن چکا ہے۔ اسرائیلی قابض حکام ایک منظم اور وسیع منصوبے کے تحت یہاں جعلی یہودی قبریں تیار کر رہے ہیں تاکہ شہر کے تاریخی، مذہبی اور ارضیاتی نقشے کو تبدیل کیا جا سکے۔ اس عمل کو ماہرین آثارِ قدیمہ اور فلسطینی مؤرخین “منظم جعل سازی” قرار دے رہے ہیں۔

ناجائز صہیونی ریاست کی جانب سے شہر بھر میں ہزاروں جعلی قبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ یہ قبریں درحقیقت خالی ہیں، ان میں کوئی میت دفن نہیں، مگر ان پر عبرانی زبان میں ناموں کے کتبے لگائے گئے ہیں، تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ یہ یہودیوں کی قدیم قبریں ہیں۔ ان قبروں کا سب سے بڑا جھرمٹ مسجد اقصیٰ کے مشرقی جانب، جبل الزيتون (زیتون پہاڑ) کے اطراف میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں ایک وسیع رقبے پر ان خالی قبروں کو بطور یہودی قبرستان “مقبرہ ہارہزیتیم” کے نام سے ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مگر فلسطینی محققین اور مقامی باشندوں نے اس سازش کو “قبور وہمیہ” یعنی جعلی قبروں کا نام دیا ہے۔
ایک منظم اسرائیلی منصوبہ:
یہ عمل صرف اتفاقیہ نہیں، بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔ فلسطینی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جعلی قبریں وقف اراضی پر قبضہ جمانے، اسلامی اور عیسائی شناخت کو مٹانے اور بیت المقدس کی تاریخی حیثیت کو مسخ کرنے کے لیے تیار کی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی حکام ان قبروں کو بنیاد بنا کر زمین پر قبضہ کرتے ہیں اور وہاں کسی قسم کی فلسطینی سرگرمی یا تعمیر کو روکنے کے لیے قانونی رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ یہ جگہ “قدیم یہودی قبرستان” ہے۔
سلوان سے آغاز:
یہ منصوبہ سن 1978 میں القدس کے جنوب میں واقع بلدہ سلوان سے شروع ہوا تھا، جو مسجد اقصیٰ کے بالکل قریب واقع ہے اور ہمیشہ سے قابض اسرائیلی منصوبوں کے خلاف ایک دفاعی مورچہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ ابتدا میں، وہاں کچھ درختوں اور کھلے میدانوں کو اچانک ایک “یہودی قبرستان” قرار دے دیا گیا، جہاں بغیر دفن کیے گئے، محض پتھر رکھ کر اور کتبے لگا کر ان خالی قبروں کو حقیقت کا لبادہ پہنا دیا گیا۔ اس کے بعد یہ منصوبہ شہر کے دیگر حصوں خصوصاً مسجد اقصیٰ اور پرانے شہر کے گرد و نواح تک پھیلایا گیا۔ جعلی قبروں کا یہ دائرہ مسلسل پھیل رہا ہے۔ اسرائیلی بلڈوزر اور فورسز روزانہ بنیادوں پر القدس کے مختلف علاقوں میں یہ قبریں بنا رہے ہیں، خاص طور پر بلدة سلوان کے علاقوں وادی سلوان، رأس العامود، الشياح، حي وادي الربابة میں، جہاں اسلامی قبریں مسمار کر کے ان پر جعلی قبریں نصب کی جا رہی ہیں۔ سلودحة کی اراضی، جو جنوبی مشرقی القدس میں واقع ہے، یہاں بھی یہ قبریں بڑھ رہی ہیں۔ قابض حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ مقامات “یہوداہ کی سلطنت” کے یہودیوں کی قدیم قبریں تھیں اور جنگِ 1967ء کے بعد ان تک رسائی ممکن ہوئی۔ اسرائیلی ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ یہاں پر تقریباً 50 پرانی قبریں دریافت ہو چکی ہیں، حالانکہ مقامی مسلمان آبادی ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ وادی الربابة میں تقریباً 700 فلسطینی باشندے مقیم ہیں، جن کی زمینوں کو “قدیم یہودی قبریں” قرار دے کر بے دخلی کے نوٹس دیئے جا رہے ہیں۔
جعلی قبریں جبل الزيتون (الطور) کے علاقے اور مسجد اقصیٰ کے مشرق میں واقع اس کی ڈھلوانوں پر بھی پھیل چکی ہیں۔ اس علاقے میں تقریباً 400 دونم (یعنی 4 لاکھ مربع میٹر) پر ہزاروں جعلی قبریں موجود ہیں اور اسے دنیا کا سب سے بڑا اور اہم ترین یہودی قبرستان سمجھا جاتا ہے، جسے “ہارهزيتيم” کہا جاتا ہے۔ اگرچہ اسرائیل یہ دعویٰ کرتا ہے کہ بیت المقدس میں یہودیوں کے دفن کے لیے جگہ کم پڑ گئی ہے، لیکن اس کے باوجود حکام اس علاقے میں مزید جعلی قبریں بناتے جا رہے ہیں۔ اس قبرستان میں کئی مشہور اسرائیلی مذہبی و سیاسی شخصیات کو دفن کیے جانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، جیسے کہ مصنف ایلعازر بن یہودا، دو مذہبی پیشوا ابراہام کُوک اور عوبدیہ برتینورو اور سابق وزیر اعظم مناحم بیگن۔ قبرستان کی حدود روز بروز بڑھ رہی ہیں، حالانکہ یہاں کوئی اصل جنازے یا تدفین نہیں ہو رہی۔ قابض اسرائیلی مشینری قبریں کھودتی ہے، ان میں سیمنٹ ڈالا جاتا ہے اور پھر ان پر عبرانی زبان میں لکھے گئے کتبے لگا دیئے جاتے ہیں تاکہ اصل تدفین کا تاثر دیا جا سکے۔ یہودیوں کا ماننا ہے کہ اس علاقے میں دفن ہونا یا یہاں جعلی قبریں خریدنا بڑی فضیلت رکھتا ہے۔ مثال کے طور پر، “شہر داؤد” کے نام سے قائم ایک یہودی معلوماتی مرکز دعویٰ کرتا ہے کہ “جو یہودی جبل الزيتون کے قبرستان میں دفن ہوں گے، قیامت کے دن سب سے پہلے زندہ ہوں گے، ان کے جسم سڑیں گے نہیں اور قیامت کے اعلان کے لیے جبل الزيتون سے ہی شنک (مینڈھے کا سینگ) پھونکا جائے گا۔” یہودی زائرین اس قبرستان کی مٹی بھی جمع کرتے ہیں تاکہ اسے بیرونِ ملک دفن اپنے عزیزوں کی قبروں پر ڈال سکیں، کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ عمل قبروں میں برکت اور تقدس بڑھاتا ہے۔
وادی جہنم:
اسرائیلی قبضہ کرنے والے حکام مسجد اقصیٰ کی شمالی دیوار کے قریب علاقوں، خصوصاً وادی قدرون (جسے “وادی جہنم” بھی کہا جاتا ہے) میں جعلی قبریں بنانے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس وادی میں بنی اسرائیل کے چند انبیاء کی قبریں موجود ہیں، جن میں “طنطور فرعون” اور “مقبرة الانبياء” شامل ہیں۔ اس علاقے کو اسرائیلی بیانیے میں اس لیے اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ یہ پرانے شہر کے یہودی محلے اور اس دیوار کے قریب واقع ہے، جسے وہ اپنے “مقدس ہیکل” (Temple Mount) کا مشرقی حصہ قرار دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ مسجد اقصیٰ کا حصہ ہے۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ قیامت کے قریب یہی وادی ان کے “نجات دہندہ مسیح” (دجال) کی گزرگاہ بنے گی۔ اسی دوران، اسرائیلی حکام نے بیت المقدس کے مختلف علاقوں میں مصنوعی (جعلی) قبرستان بھی قائم کیے ہیں، جن میں سب سے نمایاں مغربی القدس میں واقع گاؤں دیریاسین کی زمین پر بنایا گیا قبرستان ہے۔ اس قبرستان کی تعمیر میں تقریباً چار سال لگے اور اس پر لگ بھگ 5 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر خرچ کیے گئے۔ اس میں 25 ہزار قبریں بنائی گئی ہیں، جو دیواروں کے اندر چار منزلوں پر مشتمل ہیں، جن تک برقی لفٹوں کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے۔ اس منصوبے کو مکمل کرنے والی تدفین کی اسرائیلی تنظیم “کدیشاہ” نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ عمودی تدفین کا انداز اُس طریقے سے متاثر ہے، جو اُن کے مطابق “دوسرے ہیکل” (Second Temple) کے دور میں رائج تھا۔
13 ہزار سے زائد جعلی قبریں:
فلسطینی تحقیق کاروں کے مطابق، 1978ء سے لے کر اب تک، کم از کم 13,000 جعلی قبریں شہر میں بنائی جا چکی ہیں، جن میں سے تقریباً 32 فیصد صرف سلوان میں موجود ہیں۔ اس کا مقصد اس حساس علاقے پر کنٹرول حاصل کرنا اور مسجد اقصیٰ کے گرد “یہودی تاریخی” بیانیہ قائم کرنا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس میں جعلی یہودی قبروں کا منصوبہ محض چند پتھروں اور کتبوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل، منظم اور سرکاری منصوبہ ہے جس پر اسرائیلی ریاستی ادارے اور انتہاپسند یہودی تنظیمیں مشترکہ طور پر کام کر رہی ہیں۔ ان خالی قبروں کو تیار کرنے، ان پر عبرانی زبان میں جعلی ناموں کے کتبے لگانے اور انہیں تاریخی قبرستان کا روپ دینے کی نگرانی مخصوص ادارے کر رہے ہیں، جن میں سب سے نمایاں درج ذیل ہیں:
• بلدیۂ مقبوضہ القدس (Jerusalem Municipality)
• اسرائیلی وزارت برائے مذہبی خدمات
• اسرائیلی آثار قدیمہ اتھارٹی (Antiquities Authority)
• “العاد” (Elad) نامی شدت پسند یہودی آبادکار تنظیم
• یہودیوں کی نجی تدفین کمپنیز
تاریخی اور ثقافتی ورثے پر حملہ:
جہاں ایک طرف اسرائیل جعلی یہودی قبریں قائم کر رہا ہے، وہیں دوسری طرف فلسطینی اور اسلامی تاریخی قبرستانوں کو یا تو نظر انداز کیا جا رہا ہے یا منہدم کیا جا رہا ہے۔ القدس میں کئی معروف اسلامی قبرستان جیسے باب الرحمہ اور مقبرہ مأمن اللہ کو یا تو سیاحتی مقامات میں تبدیل کیا جا چکا ہے یا ان پر قبضہ کر کے وہاں پارکنگ یا تفریحی مقامات بنائے گئے ہیں۔ یہ واضح دوہرا معیار اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اسرائیلی منصوبے کا مقصد محض قبریں بنانا نہیں، بلکہ القدس کی اسلامی و عرب شناخت کو مٹانا اور اسے ایک مکمل “یہودی شہر” کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔
پس پردہ مقاصد اور خطرناک عزائم:
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ان اداروں اور تنظیموں نے یہ جعلی قبریں اس وقت بنانا شروع کیں، جب ان کی برسوں کی کھدائی اور آثارِ قدیمہ کی تلاش کے باوجود القدس میں کوئی ایسا یہودی تاریخی ثبوت نہیں ملا، جسے وہ اپنی سیاسی اور مذہبی دعووں کے لیے استعمال کر سکتے۔ اس علمی اور سائنسی ناکامی کے بعد، انہوں نے “جعلی تاریخ” گھڑنے کا راستہ اختیار کیا اور خالی زمینوں پر فرضی قبریں تعمیر کر کے اپنے بیانیے کو زبردستی تھوپنے کی کوشش کی۔ اس منصوبے کے پیچھے چند نمایاں مقاصد کارفرما ہیں:
1. فلسطینیوں کی وقف زمینوں اور نجی جائیدادوں پر قبضہ
ان قبروں کو بنیاد بنا کر اسرائیلی حکام ان زمینوں کو یہودی قبرستان قرار دیتے ہیں اور فلسطینی باشندوں کی قانونی ملکیت ختم کر دیتے ہیں۔
2. مقامی فلسطینی آبادی پر دباؤ اور رہائشی توسیع کی روک تھام
جن علاقوں میں یہ قبریں قائم کی جاتی ہیں، وہاں نئی عمارتوں کی تعمیر پر پابندی لگا دی جاتی ہے یا اجازت نامے دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔
3. مسجد اقصیٰ کے گرد مکمل یہودی کنٹرول قائم کرنے کی کوشش
ان جعلی قبروں کا زیادہ تر ارتکاز مسجد اقصیٰ کے اطراف میں ہے، تاکہ رفتہ رفتہ اس کے گرد یہودی شناخت کا جال بچھا دیا جائے اور مستقبل میں مسجد اقصیٰ کو شہید کر کے اس کی جگہ “ہیکل سلیمانی” تعمیر کرنے کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔
4. تاریخی حقائق کو مسخ کرنا اور اسلامی- عرب شناخت کو مٹانا
القدس کے تاریخی مناظر میں قبروں کی موجودگی ایک خاص تاثر پیدا کرتی ہے۔ ان جعلی قبروں سے شہر کا اسلامی منظرنامہ آلودہ کیا جا رہا ہے تاکہ ایک مصنوعی “یہودی شناخت” مسلط کی جا سکے۔
5. فلسطینی آبادی کا محاصرہ اور جبری نقل مکانی کی فضا
ان قبروں کے ذریعے شہر کے مختلف محلوں کو کاٹ کر ایک دوسرے سے الگ کیا جا رہا ہے تاکہ فلسطینی آبادی کو نفسیاتی، معاشی اور معاشرتی دباؤ کے تحت شہر چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکے۔
قبروں کی جعلی کاریگری:
القدس میں قائم کی جانے والی یہ قبریں دراصل قبریں ہیں ہی نہیں۔ بلکہ ان کی تیاری ایک خاص ترتیب اور پیشہ ورانہ انداز میں کی جاتی ہے تاکہ دیکھنے والے کو وہ “صدیوں پرانی” قبریں محسوس ہوں۔ طریقہ کار کچھ یوں ہوتا ہے: ہر قبر کے لیے 35 سینٹی میٹر گہری اور 40 سینٹی میٹر قطر کی ایک چھوٹی سی گڑھی کھودی جاتی ہے۔ اس میں لوہے کی سلاخیں (reinforced bars) گاڑی جاتی ہیں تاکہ بنیاد مضبوط ہو۔ ان پر سیمنٹ کا ایک پرت ڈالا جاتا ہے جو کئی سال تک قائم رہے۔ پھر قبر کے اوپر پرانے پتھروں کی تختیاں لگائی جاتی ہیں، جو جان بوجھ کر باہر سے لا کر یہاں نصب کی جاتی ہیں تاکہ اسے “آثارِ قدیمہ” کا رنگ دیا جا سکے۔ ان پتھروں پر عبرانی زبان میں یہودی نام، مذہبی نعرے اور جملے درج ہوتے ہیں جیسے: “یہاں ایک مقدس مقام ہے” یا “یہاں ایک قدیم یہودی قبرستان واقع ہے”۔ ساتھ ہی چھ کونے والے ستارہ (Star of David) اور “ہیکلِ سلیمانی” کی فرضی علامات بھی پتھروں پر کندہ کی جاتی ہیں۔ اسرائیلی قابض انتظامیہ پولی اسٹرین (Polystyrene) جیسے جدید مواد کا استعمال بھی کرتی ہے، تاکہ یہ قبریں وقت گزرنے کے ساتھ گل سڑ نہ جائیں اور دہائیوں تک “ثبوت” کے طور پر موجود رہیں۔
نقشے کی تبدیلی:
قبریں صرف مذہبی نہیں بلکہ ثقافتی اور بصری علامتیں بھی ہوتی ہیں۔ القدس جیسے شہر میں جہاں ہر پتھر تاریخ بولتا ہے، وہاں جعلی قبریں بنا کر اسرائیل نہ صرف زمین پر قبضہ کر رہا ہے، بلکہ بین الاقوامی سیاحوں اور میڈیا کو بھی ایک نیا “یہودی نقشہ” دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ مقامی باشندے اور ماہرین کہتے ہیں کہ جب سیاح ان علاقوں میں آتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ یہودی یہاں “ہزاروں سال سے دفن ہو رہے ہیں” حالانکہ ان میں بیشتر قبریں محض دو دہائیوں میں تیار کی گئی ہیں اور ان میں کوئی میت دفن ہی نہیں۔
عالمی یہودیوں کو “قبریں برائے فروخت”
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ اسرائیلی حکام نے اس دھوکہ دہی کو ایک تجارتی منصوبہ بھی بنا لیا ہے۔ وہ دنیا بھر میں بسنے والے یہودیوں کو ان جعلی قبروں کو بیچتے ہیں، یہ کہہ کر کہ: “یہ مقام تمہارے ان آبا و اجداد کا ہے جو کبھی فلسطین میں مدفون تھے، اب ہم ان کی یادگار دوبارہ قائم کر رہے ہیں۔” یوں، لوگ لاکھوں شیکل یا ڈالر ادا کر کے ان قبروں پر اپنا نام درج کرواتے ہیں جب کہ اس مقام پر نہ کوئی میت مدفون ہے اور نہ ماضی کا کوئی ثبوت۔ القدس میں مسلم قبرستانوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کے سربراہ، مصطفی ابو زہرہ کے مطابق: “یہ سب قبریں صرف جعلی نہیں، بلکہ صریح دھوکہ اور تاریخی جعلسازی ہیں۔ یہ زمینیں اسلامی وقف کی ملکیت ہیں اور ہمارے پاس سرکاری دستاویزات موجود ہیں جو اس کی شہادت دیتی ہیں۔ اسرائیلی “آثارِ قدیمہ اتھارٹی” کے کارکنان خود ان قبروں کو کھودتے ہیں، سیمنٹ ڈالتے ہیں، پھر مٹی اور پتھر ڈال کر اس کا “قدیم” تاثر پیدا کرتے ہیں۔ مقصد صرف یہی ہے کہ بعد میں ان علاقوں کو یہودی قبرستان قرار دے کر فلسطینیوں کے گھروں، زمینوں اور قبرستانوں پر قبضہ جمایا جائے۔
عالمی خاموشی اور خطرناک اثرات:
اقوام متحدہ، یونیسکو یا دیگر عالمی ادارے ابھی تک اس حوالے سے کسی واضح ردعمل یا تحقیقاتی رپورٹ کے ساتھ سامنے نہیں آئے۔ اگر یہی عمل کسی اور مذہب یا شہر میں ہوتا تو عالمی سطح پر شور اٹھ جاتا، لیکن چونکہ یہ مسئلہ فلسطین اور اسرائیل سے متعلق ہے، اس لیے عالمی برادری کی خاموشی معنی خیز اور تشویشناک ہے۔ حالانکہ ان بین الاقوامی اداروں کے پاس جدید ترین سیٹلائٹ، ریکارڈنگ اور انٹیلی جنس موجود ہے، مگر اقوامِ متحدہ سمیت عالمی ادارے اس جعلی سازی کی مذمت تک نہیں کرتے۔ فلسطینیوں کے قبرستانوں کو مسمار کیا جا رہا ہے، مگر جعلی قبروں کو تاریخی ورثہ قرار دے کر محفوظ کیا جا رہا ہے۔ جسے مقامی ماہرین “تہذیبی نسل کشی” (Cultural Genocide) کی بدترین مثال قرار دے رہے ہیں۔
فلسطینیوں کا ردعمل:
فلسطینی تنظیمیں، بالخصوص القدس کے امور پر کام کرنے والے ادارے، ان جعلی قبروں کی دستاویزی ثبوت جمع کر کے عالمی اداروں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تصویری شواہد، سیٹلائٹ تصاویر اور پرانے نقشوں کی مدد سے یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ قبریں نہ تو پرانی ہیں، نہ ہی ان کا کوئی تاریخی جواز ہے۔ جعلی قبریں بنانا ایک خاموش مگر خطرناک طریقہ ہے القدس شہر کو “یہودیانے” کا۔ اس سے نہ صرف زمین پر ناجائز قبضہ کیا جا رہا ہے بلکہ تاریخ، تہذیب اور مذہبی شناخت پر بھی ایک گہرا حملہ ہو رہا ہے۔
بیت المقدس کے باشندے ان قبروں کو دیکھتے ہیں، مگر ان کے دلوں میں دفن سچائی یہ ہے کہ ان پتھروں کے نیچے کوئی جسم نہیں، صرف ایک جھوٹ چھپا ہوا ہے اور یہ جھوٹ ایک دن دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگا۔
فلسطینیوں کی بے دخلی کا بہانہ:
متعدد مواقع پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جہاں کہیں ان قبروں کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا، وہاں فلسطینیوں کے مکانات کو مسمار کر دیا گیا اور مقامی سڑکوں کو “قبرستان کی حرمت” کے نام پر بند کر دیا گیا۔ یہ سب کچھ ایک گولی چلائے بغیر ہو رہا ہے، نہ ٹینک استعمال ہو رہے ہیں، نہ بم۔ مگر اس سے بھی زیادہ خطرناک کام ہو رہا ہے: تاریخ کا قتل، شناخت کا مٹایا جانا اور ایک جھوٹے بیانیے کی تعمیر۔ جعلی قبریں ان پتھروں کا ڈھیر نہیں، بلکہ ایک ایسی خاموش جنگ کا ہتھیار ہیں، جو بیت المقدس کے مستقبل کو بدلنے کے لیے لڑی جا رہی ہے۔ اگر دنیا نے ان پالیسیوں پر بروقت ردعمل نہ دیا تو ایک دن بیت المقدس کی گلیوں، اس کے پہاڑوں اور یہاں کے درختوں پر بھی عبرانی تختیاں لگ جائیں گی اور مقامی باشندے، اصل تاریخ اور حقیقی شناخت محض کتبوں کے نیچے دفن ہو کر رہ جائیں گے… بغیر کسی جنازے کے، بغیر کسی ماتم کے۔ یہ قبریں صرف سیمنٹ، لوہے اور پتھروں کا مجموعہ نہیں۔ بلکہ فلسطین کی جغرافیائی اور مذہبی حقیقت کو دفن کرنے کی کوشش ہیں۔
احتجاجی سرگرمیاں:
اہلِ قدس وقتاً فوقتاً اسرائیلی قبضے کی ان پالیسیوں کے خلاف احتجاجی سرگرمیاں منعقد کرتے رہتے ہیں، جن کا مقصد یروشلم میں جعلی قبریں بنانے کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ ان سرگرمیوں میں جمعے کی نمازیں اُن زمینوں پر ادا کی جاتی ہیں، جنہیں ضبط کرنے کا خطرہ لاحق ہے، اس کے علاوہ احتجاجی دھرنے بھی منعقد کیے جاتے ہیں جن میں تقاریر کے ذریعے یہ مؤقف پیش کیا جاتا ہے کہ یہ تمام اقدامات تاریخ کو مسخ کرنے، جھوٹے حقائق مسلط کرنے، فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے اور شہر کو یہودی رنگ دینے کی مذموم کوششیں ہیں۔
جعلی یہودی قبروں کے پھیلاؤ کے ساتھ مسلمانوں کے اصلی اور تاریخی قبرستان مٹائے جا رہے ہیں۔ جن میں حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہما جیسے اصحابِ رسول کی قبریں بھی شامل ہیں۔ اس پر اگلی نشست میں روشنی ڈالیں گے۔ ان شاءاللہ۔

Related Posts