کورونا کے بعد کی دنیا۔۔۔

تازہ ترین

تازہ ترین

کورونا وائرس کے باعث اقوام عالم شدید خوف کی کیفیت میں  مبتلا ہیں اور معیشت کا پہیہ جام ہے اور پاکستان بھی دنیا کی معیشت کا ایک حصہ ہونے کی حیثیت سے متاثر ہونیوالے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ کورونا کی وجہ سے کچھ ممالک میں  زیادہ اور کچھ ممالک میں کم اثرات نمودار ہوئے ہیں۔

ہمارے وسائل محدود ہیں، ہماری معیشت کورونا سے پہلے سے ہی کمزور تھی اور بیروزگاری 5 فیصد کے قریب تھی اور بیروزگاری کی وجہ سے غربت کی شرح بھی بڑھتی جارہی تھی۔

پاکستان میں  50 فیصد سے زیادہ غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے لوگ ہیں تو ایسے میں  لاک ڈاؤن ایک بڑا المیہ ہے، صنعتیں  بند کرکے ملازمین کو آنے سے روک دیا جائے اور چمنی سے دھوان نکلنا بند ہوجائے تو یومیہ اجرت اور کنٹریکٹ پر کام کرنیوالے ملازمین شام کو اپنے گھروں پر کچھ نہیں لیجاسکتے جس کی وجہ سے ان کے چولہے ٹھنڈ پڑے ہیں۔

لیکن حکومت کو لاک ڈاؤن موثر بنانے کیلئے کاروبار زندگی کا پہیہ روکنا ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ دیہاڑی دار لوگ کورونا سے نا بھی مرے تو بھوک سے مرجائینگے۔کورونا سے بچاؤ اور زندگی کی گاڑی چلانے کیلئے دو طرفہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

لوگوں کو کورونا سے بچانے کے ساتھ ساتھ لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی طور پر متاثر ہونیوالوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایک آزمائش میں  ڈالا ہے اور خیرات اور مستحقین کی امداد کے معاملے میں  پوری دنیا پاکستان کو سراہتی ہے اور رمضان المبارک کی آمد آمد ہے۔

ماہ صیام میں  لوگ کارثواب کی نیت سے لوگوں  کی مدد کرتے ہیں، اس آزمائش سے نکلنے کیلئے ہم سب کو ایک ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستانی قوم نے ہمیشہ اپنے جذبے سے بڑی بڑی مشکلات کا سامنا کیا ہے اورپاکستانی قوم اس آزمائش پر بھی ضرور پورا اترے گی۔

ملک میں  تین ہفتوں  سے جاری لاک ڈاؤن میں  یکدم نرمی کرنا مزید مسائل کو دعوت دینے کے مترادف ہے،کورونا سے بچاؤ کاواحد طریقہ اس وقت لاک ڈاؤن ہی ہے اور لاک ڈاؤن کو موثر بناکر ہی مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں  لیکن اگر لوگوں  کی معاشی مشکلات کو سامنے رکھ کر لا ک ڈاؤن میں  نرمی کرنا تمام تر جدوجہد کو ضائع کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔

سندھ میں  لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہی کورونا کے کیسز کو تیزی کے ساتھ بڑھنے سے روکا گیالیکن معیشت کا پہیہ چلانے کیلئے تجارتی سرگرمیوں  کی اجازت دی جاتی بھی ہے تو اس کیلئے شرائط وضوابط کی پابندی ہر حال میں یقینی بنائی جانی چاہییکیونکہ اگر بغیر حکمت عملی کے لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا یا نرمی کی گئی تو معاملہ ہاتھ سے نکل بھی سکتا ہے، اگر کاروباری طبقات کو چھوٹ دینا مطلوب ہے تو اس کیلئے صنعتکاروں کے ساتھ بیٹھ کر ضوابط طے کئے جائیں  ۔

ٹیکسٹائل کی صنعت صرف ایک فیکٹری یا مل نہیں بلکہ کئی ادارے اور افراد کے انضمام سے ٹیکسٹائل بنتی ہے، سب سے پہلے کاٹن پیدا ہوتی ہے اس کاٹن کوجننگ کے بعد ملوں کو بھیجا جاتا ہیجہاں  یارن بنایا جاتاہے پھر اس دھاگے سے کپڑا بنتا ہے، یہ کپڑا رنگسازی کے بعد گارمنٹس فیکٹری پہنچتا ہے۔

ایکسپورٹ کو مدنظر رکھ کر ٹیکسٹائل ملوں کو کھولنے کی کوشش لائق تحسین تو ہے لیکن یہ صنعت کئی صنعتوں  کا مجموعہ ہے، اگر کاٹن پیدا ہونا بند ہوجائے یا رنگسازی کا عمل معطل ہوتو کپڑے کی ملوں  میں  کام نہیں  ہوسکے گا۔

ٹیکسٹائل انڈسٹری میں  مخلوط اکائیاں  کارفرما ہیں  اس لئے ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے اگر ٹیکسٹائل کو کھولنا مقصود ہے تو ان کمپوزٹ یونٹس کو بھی کھولنا ہوگا تاکہ ملوں کو خام مال کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔موجودہ صورتحال میں  ٹیکسٹائل انڈسٹری کو اربوں  روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔

گزشتہ کئی روز سے جاری لاک ڈاؤن کے سبب جہاز نہ ہونے کی وجہ سے ایکسپورٹ کیلئے تیار مال کے کنٹینر پورٹس پر پڑے ہیں،کراچی کی دونوں  بندرگاہوں  پر 6 ہزارسے زائد کنٹینرز رکے ہوئے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پوری دنیا میں  معاشی سرگرمیوں  کا پہیہ رک گیا ہے۔

جس سے گردشی عمل معطل ہوگیا ہے کیونکہ بیرون ممالک سے سامان لیکر آنیوالے جہازوں سے سامان اتارنے کے بعد انہی میں  ایکسپورٹ کا سامان لاد کر بیرون ممالک بھجوایا جاتا ہے لیکن اس وقت جہازوں  کی آمد و رفت بھی بند ہے جس سے معاشی مشکلات میں  اضافہ ہورہاہے اور اس نقصان کو پورا کرنا بہت مشکل ہوگا۔

ٹیکسٹائل کی صنعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے، ایک طرف بینکوں کے قرضے تو دوسر ی طرف ملازمین کی تنخواہوں  کی ادائیگی ہے،اسٹیٹ بینک کی جانب سے ملازمین کی برطرفی روکنے اور قرضوں میں سہولت ایک مستحقن اقدام ہے تاہم قرض بیلنس شیٹ کو متاثر کرتا ہے۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ انڈسٹری کو بچانے کیلئے اسٹیٹ بینک آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرے اور ملازمین کو 25فیصد اسٹیٹ بینک، 25فیصد صنعتکار، 25فیصد سوشل سیکورٹی اور 25فیصد اولڈ ایج بینیفٹ فنڈ سے ادا کیاجائے کیونکہ اسٹیٹ بینک، سوشل سیکورٹی اور اولڈ ایج بینیفٹ فنڈ کے پاس ان محنت کشوں کے اربوں روپے محفوظ ہیں جن سے بڑی بڑی جائیدادیں بنائی جارہی ہے تاہم اب وقت آگیا ہے کہ حقیقی حقداروں کو ان کا حق دیا جائے۔

چھوٹے صنعتکاروں کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ وہ ملازمین کو بغیر کام کئے ادائیگی کرسکیں، چھوٹے اداروں  میں  پہیہ چلتا ہے تو ہی معاملات آگے بڑھتے ہیں۔ بڑے اداروں  نے تو ایک ماہ کی تنخواہ ادا کردی ہے لیکن وہ بھی آئندہ ماہ تنخواہیں  دینے کیلئے پریشان ہیں اس کے باوجود صنعتکار مزدوروں کی بقاء کیلئے ہر ممکن سطح پر اقدامات اٹھارہے ہیں۔

پاکستان میں  کام کرنیوالے طبقے میں  38 فیصد ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ ہیں اور ایکسپورٹ 25 بلین ڈالر ہے جس میں  کمی بیشی بھی ہوتی ہے جس میں  50 فیصد ٹیکسٹائل بقیہ شعبوں کا ملکر 50 فیصد ہے۔ دنیا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی جمود کے باعث بیرون آرڈرز رو ک دیئے گئے ہیں۔

 جس بعد رواں  ماہ ایک اندازے کے مطابق 50 فیصد ایکسپورٹ متاثر ہوگی۔پاکستان کے مقابلے دیگر ممالک میں  بلاسود قرضوں  کے سبب ان ممالک کی ٹیکسٹائل صنعت ترقی کی جانب گامزن ہے لیکن پاکستان میں  شرح سود انتہائی زیادہ ہونے سے ہماری صنعتیں  دیگر ممالک کے مقابلے میں پیچھے جارہی ہیں  ۔

کیونکہ پاکستان میں شرح سود زیادہ ہونے سے اشیاء کی قیمتوں میں بھی فرق آتا ہے اور خریدار ان ممالک سے سامان خریدنے کو ترجیح جہاں  نرخ کم ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ صنعتکار ہرممکن کوشش کے باوجوداپنی ایکسپورٹ کو بڑھانے میں  ناکام دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان میں ملازمین کی غیر سنجیدگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، پور ی دنیا میں ملازمین کی توجہ کام پر مرکوز کرانے کیلئے پالیسیاں  بنائی جاتی ہیں  لیکن شومئی قسمت کہ پاکستان کا محنت کشن اپنے کام پر مکمل توجہ نہیں دیتا، پاکستان میں کام پر توجہ کا تناسب دنیا میں سب سے کم ہے جس سے پیداوار میں اضافی وقت صرف ہوتا ہے اور صنعتکاروں کو اضافی لاگت دینا پڑتی ہے۔

ملازمین کی نگاہ سوئی پر نہ ٹکنے کے سبب ایک دن کا کام دو دن پر چلا جاتا ہے اور مزدور کی اجرت اور بجلی ودیگر لوازمات کو یکجاکرنے کے بعد پیداواری لاگت بڑھنے سے صنعتکاروں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری تمام ترمسائل کے باوجود دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھتی ہے اور اگر وسائل دیئے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پوری دنیا میں  اپنا لوہا نہ منواسکے۔

کورونا وائرس ہمارے اعمال کی سزاء ہے، پوری دنیا کی معیشت منجمد ہے، بڑی بڑی ایئرلائنز نیاپنے طیارے گراؤنڈ کردیئے ہیں، معروف ہوٹلوں  جہاں  کمرہ ملنا مشکل ہوتا تھا وہاں  آج قرنطینہ سینٹرز بنانے پر غور ہورہا ہے۔ کورونا وائرس نے نقصانات کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں  لوگوں  کا طرز زندگی تبدیل کردیا ہے۔

اس وباء کے بعد آنیوالی دنیا بالکل مختلف ہوگی، آنیوالے وقت میں گھروں  سے کام کرنے کا رجحان بڑھے گا، لوگ ڈیجیٹلائزشن کی طرف جائینگے،ای کامرس ہوگی،لوگ ای بینکنگ اپنائیں گے، لوگ گھروں  میں  رہنے کوترجیح دینگے باہر نکلنا کم ہوگا، آن لائن سامان کی خریداری میں  اضافہ ہوگا۔

لوگوں کے غیر ضروری طور پر گھروں  سے نکلنے میں  کمی سے ٹریفک کے مسائل کم ہونگے، گاڑیاں کم ہونے کی وجہ سے تیل کی کھپت کم ہوگی،برقی گاڑیاں  آئینگی اور ان کی تعداد بھی کم ہوگی کیونکہ لوگوں  نے لاک ڈاؤن کے باعث گھروں  میں  وقت گزار کر یہ ادراک کیا ہے کہ گھریلو زندگی بھی بری نہیں  ہے۔

Related Posts