آئی ایم ایف کا ہنگامی قرض

تازہ ترین

تازہ ترین

کورونا وائرس وبائی مرض کے باعث جاری معاشی بحران کے دوران جب آئی ایم ایف نے تقریبا 1.4 بلین ڈالر کے ہنگامی قرض کی منظوری دی تو پاکستان نے اطمینان کا سانس لیا،آئی ایم ایف کا یہ قدم یقینی طور پر معاشی بحران کے خلاف سود مند ثابت ہوگا اور قرضوں کی ادائیگی کے توازن کو برقرار رکھے گا۔

عالمی مالیاتی ادارے نے 25 غریب ممالک کے قرضے معاف کردیئے تھے لیکن پاکستان ان میں شامل نہیں ہے اور اس کے باعث قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر ہوسکتی۔ جی 20، دنیا کی اعلیٰ معیشتوں کا ایک گروپ ہے، اس کا دارو مدار کثیر جہتی اداروں کے ساتھ قرضوں سے نجات اور ان میں شامل ممالک کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

اس وبائی صورتحال کے دوران غیر یقینی صورتحال پیدا ہورہی ہے، کورونا وباء کے دوران معاشی معاملات زیادہ حد خراب ہوسکتے ہیں۔ اس طرح کے حالات میں ترقی پذیر ممالک کو منفی اثرات کو کم کرنے کے لئے فوری طور پر فنڈز کی ضرورت پیش آرہی ہے۔یہ سلسلہ اس ساری صورتحال کے درمیان رہے گا تاہم جب صورتحال بہتر ہوگی تو بحران بھی کم ہوجائے گا۔

آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ توسیع شدہ فنڈ کی سہولت (ای ایف ایف) کے بارے میں پاکستانی حکام کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع ہوگی جب صورتحال بہتر ہوگی۔ نیا قرض ریپڈ فنانسنگ انسٹروومنٹ (ایف آر آئی) کے تحت جاری کیا گیا ہے، جو کورونا وائرس کے بحران کے منفی معاشی اثرات سے نمٹنے کے لئے ایک اچھا اقدام ہے

اگرچہ وزارت خزانہ عارضی اس حاصل کئے گئے ریلیف پر تھوڑا راحت کا سانس لے سکتی ہے، لیکن اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ ان قرضوں کو ادا بھی کرنا ہوگا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک ایسے ادارے ہیں جن کا ہربدحال غریب ملک مقروض ہے، خاص طور پر وہ جن کو سیاسی یا معاشی بحران کا سامنا ہے۔تاہم یہ توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ وہ ہمارا قرض معاف کردیں گے۔

دوسری طرف، پاکستان کو یہ بھی توقع ہے کہ جی 20 سے ادائیگی پر 1.5 بلین ڈالر کی امداد ملے گی، حالانکہ اعداد و شمار میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔ پاکستان کے صرف جی ٹوئنٹی کے بارہ ممالک سے مالی تعلقات ہیں اور یہ چھوٹ زیادہ تر چین سے آتی ہے۔ اس وقت ہمارا ملک متعدد ممالک کا مقروض ہے اور اسے مضبوط پالیسیوں کی صلاحیت کے ساتھ معیشت کی بحالی کے لئے کوششیں کرنا چاہئے۔

کورونا وائرس کی وباء وزیر اعظم اور ان کی معاشی ٹیم کے لئے نئے چیلینجز لائی ہے کیونکہ وہ شروع سے ہی معیشت کی بحالی کے لئے کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان کی کوشش ہونی چاہئے کہ ملک پرمزید قرضوں کا بوجھ نہ ڈالا جائے اور اس عرصے کے دوران معاشی بحالی کے لئے آپشن تلاش کئے جاسکیں۔

Related Posts