پاکستانی معیشت کی مخدوشیت بلند ترین مقام پر پہنچ چکی ہے، وطن عزیز قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جارہا ہےجس کا اندازہ ہمارے اندورنی و بیرونی قرضوں کے مجموعے 253 ارب ڈالرز کو دیکھ کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
5 دسمبر کو سکوک بانڈز کی 1 ارب ڈالرز کی ادائیگی بھی دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے، بدقسمتی تو یہ ہے کہ گزشتہ 4 ماہ میں پاکستان کے ذخائر تیزی سے گرے ہیں اور اب صرف 5 ہفتوں کی ادائیگی کے پیسے قومی خزانے میں موجود ہیں۔
قابل تشویش بات تو یہ ہے کہ ہماری جیبیں تو پہلے ہی خالی تھیں اور ایسے میں بیرونی سرمایہ کاری میں 52 فیصد کی گراوٹ ناقابل برداشت ہے، رواں مالی سال کے ابتدائی 3 ماہ میں قرضوں کا بوجھ 24 فیصد بڑھ گیا ہے، جی ڈی پی کی حالت دگرگوں ہے۔
کسی بھی ریاست میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کا فوری ازالہ ہونا چاہیے، پاکستان میں ہر چیز کیلئے قانون موجود ہے لیکن جب عوام اور رکھوالوں کے درمیان بداعتمادی کی فضا پیدا ہوجائے تو حالات میں بگاڑ کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے اور معیشت کی بہتری خارج از امکان ہے۔
مزید یہ کہ اس کا اثر زندگی کے ہر شعبے پر ہوسکتا ہے، ایسے حالات میں جب ملک کے حالات ناگفتہ بہ ہوں اور معیشت زمین بوس ہونے کو آئی ہو یا ہوتی نظر آرہی ہو ایسے میں اداروں اور عوام میں بداعتمادی مزید بدتری کی جانب بڑھتی ہے۔
ہمارے اداروں میں سرفہرست افواج پاکستان ہے جسے ہم نے بہت مشقتوں اور قربانیوں سے پروان چڑھایا ہے۔ جو دنیا کی چھٹی بڑی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پیشہ ورانہ فوج ثابت ہوئی ہےاور صرف شکوک کی بنیاد پر چند لوگوں کی وجہ سے افواج پاکستان کو متنازعہ بنانا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے سے کم نہیں ہے۔
ملک کے معروضی اور ماحولیاتی حالات کے تناظر میں عمران خان کی طرف سے اسلام آباد میں افراتفری کو روکنے کیلئے اٹھایا جانے والا اقدام لائق تحسین ہے۔ حکومت نے حساس عمارتوں اور مقامات کو فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور عسکری قیادت کی تبدیلی کے تناظر میں اسلام آباد پر چڑھائی کسی بہت بڑے مسئلے کا پیش خیمہ ہوسکتی تھی، پھر افواج پاکستان کو عوام کے سامنے کھڑا ہونا پڑتا اور فوج ہمیشہ عوام پر گولی چلانے سے اجتناب کیا کرتی ہے۔
وقت ہاتھوں سے ریت کی مانند پھسلتا جارہا ہےاور سیاسی عدم استحکام ناسور کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے رہبر، ہمارے سیاستدان سر جوڑ کر بیٹھیں جہاں معیشت کو سیاست پر فوقیت دی جائے ۔
ایسا نہ ہو کہ ہمارے رہبروں کو ہوش اس وقت آئے جب کھیل ہاتھ سے نکل چکا ہو اور وطن عزیز کی یہ تمام سہولیات، مراعات اور عیش و عشرت جس کے سحر میں ہمارے بیشتر رہبر ہمیشہ مدھوش رہے ہیں وہ میسر ہونا ختم ہوجائے۔
شائد اس چیز کا احساس اگر ابھی نہیں ہوا تو کبھی نہیں ہوگا اور خدشہ یہ ہے کہ وقت ہمیں کچلتا ہوا اپنی رفتار برقرار رکھتے ہوئے اس مقام پر پہنچادے گا کہ جس پر خدانخواستہ نہ معیشت رہے نہ سیاست رہے اور عوام کی تڑپ اور کسمپرسی اشرافیہ کے گریبانوں تک نہ پہنچ جائے۔
اس وقت پاکستانی معیشت کیلئے نزع کا عالم ہے اور بقول شاعر
نادیدہ بہاروں کا فسوں ٹوٹ چکا ہے
پژمردگئ رنگِ چمن بول رہی ہے
ممکن ہے کہ لب ساکت و سامد رہیں لیکن
اے اہلِ وطن! ارضِ وطن بول رہی ہے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں