مرد ڈاکٹر سے علاج شرعی جرم قرار! افغان طالبان کا خواتین کیلئے نیا ہدایت نامہ جاری

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

افغان طالبان نے کندھار صوبے میں خواتین کو مرد ڈینٹسٹ سے دانتوں کا علاج کروانے پر پابندی عائد کرتے ہوئے خواتین کو حکم دیا ہے کہ مرد ڈاکٹروں سے علاج نہ کروائیں۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اس حکم کے بعد طالبان اہلکاروں نے دانتوں کے کلینکس سے خواتین کو باہر نکال دیا اور کلینکس کو ہدایت دی گئی کہ وہ خواتین مریضوں کا علاج مرد ڈاکٹروں سے نہ کروائیں۔

یہ فیصلہ طالبان کی جانب سے خواتین پر عائد کی جانے والی دیگر پابندیوں کا تسلسل ہے جن میں حال ہی میں بہادری یا جرات مندانہ شاعری پر پابندی بھی شامل ہے۔ امریکہ کے انخلا کے بعد اگست 2021 میں افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد طالبان نے خواتین کے حقوق اور آزادیوں پر مسلسل قدغنیں لگا رکھی ہیں۔

طالبان نے خواتین اور لڑکیوں کو یونیورسٹیوں، ہائی اسکولوں اور دینی مدارس میں داخلے سے روک رکھا ہے۔ اس کے علاوہ وہ سرکاری ملازمتوں اور بیشتر امدادی اداروں میں کام کرنے سے بھی محروم ہیں۔

افغانستان سے فرار کا خوفناک طریقہ؛ 13 سالہ لڑکے کا بھارتی ایئرپورٹ پر حیران کن انکشاف

کچھ علاقوں میں طالبان نے وائرلیس انٹرنیٹ اور فائبر آپٹک خدمات بھی بند کردی ہیں جس سے خواتین کی آن لائن تعلیم اور رابطے کی سہولیات محدود ہوگئی ہیں۔

حال ہی میں طالبان نے یونیورسٹی کے نصاب سے خواتین کی تحریر کردہ کتابیں نکال دیں اور انسانی حقوق، جنسیت اور صنفی مساوات جیسے مضامین کی تعلیم پر پابندی لگا دی ہے جس سے افغانستان میں تعلیمی نظام کو مزید نقصان پہنچا ہے۔

Related Posts