آج کل 9 مئی کے واقعات کا ذکر ملک کے سیاسی و قومی افق پر شدّو مد سے جاری ہے اور آئندہ بھی طویل عرصے تک جاری رہنے کا امکان ہے اور کیوں نہ ہو؟ ملک کی تاریخ میں پہلی بار عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
معاشرے کے مختلف طبقات، سیاستدانوں، کھلاڑیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کی جانب سے ان واقعات کی مذمت کی گئی ہے۔ ملک کی سول اور عسکری قیادت کا اتفاق ہے کہ شرپسندوں کو عبرت ناک سزا دی جانی چاہئے۔
یہاں ایک سوال یہ ہے کہ کیا 9 مئی کے واقعات میں ملوث شرپسندوں کے مقدمات آرمی ایکٹ 1952ء اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923ء کے تحت عسکری عدالتوں میں چلائے جانے چاہئیں؟ جبکہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے مقدمات کی سماعت کو چیلنج کیا ہوا ہے۔
تاحال کیسز کی سماعت کا فیصلہ نہیں ہوسکا تاہم یہ موقع عسکری اور عدلیہ کے مابین تعلقات کیلئے سنگِ میل ثابت ہوسکتا ہے جبکہ فوجی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت پر قانون دانوں کی جانب سے بھی آواز اٹھائی جارہی ہے۔
معروف ماہرِ قانون اور سیاستدان اعتزاز احسن نے بھی فوجی عدالتوں میں شر پسندوں کے ٹرائل کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے شرپسندوں کا ٹرائل آئینی ترمیم کے بغیر نہیں ہوسکتا۔
اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ فوج کی جانب سے سویلین جرائم پر شہریوں کا ٹرائل عدلیہ کی آزادی اور ہر پاکستانی شہری کے بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے۔ ماہرینِ قانون اور وکیل اعتزاز احسن نے عدالت کے سابقہ فیصلوں کا بھی حوالہ دیا ہے کہ ملک میں کوئی متوازی نظامِ قانون نہیں ہوسکتا۔
دہشت گردوں کے ٹرائل کیلئے 2014ء میں سانحہ اے پی ایس کے بعد فوجی عدالتیں بحال ہوئیں اور ختم ہوگئیں تاہم حکومت کا ماننا ہے کہ ملٹری کورٹ میں مقدمات کی سماعت کیلئے قانونی ترامیم کی ضرورت نہیں ہے۔
پی پی پی رہنما اعتزاز احسن کے بعد فوجی عدالت میں ٹرائلز کے خلاف آواز اٹھانے والے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ بھی ہیں جنہوں نے شہریوں کے فوجی عدالت میں ٹرائل کو غیر آئینی قرار دے دیا اور اہم بات یہ ہے کہ اتحادی حکومت میں شامل پیپلز پارٹی بھی 9 مئی کی توڑ پھوڑ کے بعد شہریوں کے مقدمات فوجی عدالتوں میں لے جان کے خلاف رہی ہے۔ یہ خاموش اختلاف ن لیگ کے حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ چلانے کے مؤقف سے الگ رخ اختیار کرچکا ہے۔
ن لیگی حکومت نے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کی جانب سے 9 مئی کے حملہ آوروں کے فوری ٹرائل کے حولاے سے پیش کی گئی قرارداد بھی عجلت میں منظور کر لی اور وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ نے جب یہ دعویٰ کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کورٹ مارشل کیا جائے گا، تو وہ اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بن گئے۔
رانا ثناء اللہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ عمران خان پر 9 مئی حملوں کے سرغنہ کے طور پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ ضروری ہے کہ سپریم کورٹ ایسے تمام مقدمات کی سماعت کرے کیونکہ فوجی عدالت کے معاملے سے عدلیہ کی بالادستی داؤ پر لگ چکی ہے۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے مقدمات کی سماعت عدلیہ کی آزادی، اختیارات اور طاقت، عدالتی نظام اور فوجداری انصاف کی انتظامیہ یعنی عدلیہ کے اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ اور اگر عدلیہ اس کی اجازت دیتی ہے تو یہ کسی دوسرے ادارے کے حق میں اپنے ہی اختیارات سے دستبردار ہونے کے برابر ہوگا۔ امید ہے کہ موجودہ حکومت اس نازک صورتحال کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ملکی مفاد میں مثبت فیصلہ کرے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں