اختیارات کا ناجائز استعمال

تازہ ترین

تازہ ترین

ملکی آئین پاکستان کے ہر اہم ادارے کے کردار اور افعال کا تعین کرتا ہے۔ اداروں کے قواعد و ضوابط میں خود ان اداروں اور ان کے افسران و سربراہان کے اختیارات طے کیے جاتے ہیں۔

تاہم پاکستان میں بے شمار ایسے ادارے موجود ہیں جو اپنی حدود و قیود کے مطابق یا تو کام نہیں کرتے یا اگر کرتے بھی ہیں تو اختیارات سے تجاوز کرجاتے ہیں جسے لاقانونیت کی ایک شکل قرار دیا جاسکتا ہے۔

مثال کے طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک حالیہ واقعے نے ایک بار پھر بعض اداروں اور افسران کی جانب سے اختیارات کے غیر منصفانہ استعمال کے معاملے کو اجاگر کیاچیف جسٹس نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال پرگزشتہ روزایک مقدمے کی سماعت کے دوران  برہمی کا اظہار کیا۔

دلچسپ طور پر نیب نے جس ملزم کا اکاؤنٹ منجمد کرنے کیلئے سپریم کورٹ کو درخواست دی، اس کے اکاؤنٹ میں 48 ہزار 674 روپے موجود تھے جس پر سپریم کورٹ نے حیرت کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اگر 48کروڑ ہوتے تو کوئی بات بھی تھی۔

بظاہر اس بات سے یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کے عوام کو کہیں زیادہ سے زیادہ کرپشن کی ترغیب تو نہیں دے رہے تھے؟ تاہم نیب کا کام بڑے بڑے سیاستدانوں پر ہاتھ ڈالنا ہے اور حکومت کے کتنے وزراء میں سے کس کس نے کتنی کرپشن کی اور کیا کارروائی ہوئی، یہ ہمارے سامنے ہے۔ 

نیب کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال کے واقعات پاکستان میں تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ پولیس افسران کی جانب سے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے، بدعنوانی، یا غلط طریقے سے افراد کو حراست میں لینے کی رپورٹس متعدد مواقع پر منظر عام پر آئی ہیں۔ یہ واقعات نہ صرف شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ ان کے تحفظ کے لیے حکام پر عوام کے اعتماد کو بھی کم کرتے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ اس طرح کی ناانصافیوں کو روکنے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائیں۔ اسی طرح پبلک سروس کمیشن میں بھرتیوں کے دوران رشوت ستانی اور اقربا پروری کے واقعات نے اس عمل کی شفافیت اور دیانتداری پر سوالات اٹھائے ہیں۔

ایسے غیر قانونی اقدامات نہ صرف میرٹ پر بھرتیوں میں رکاوٹ بنتے بلکہ اہل افراد کی حوصلہ شکنی بھی کرتے ہیں۔ اداروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ میرٹ پر مبنی نظام کا احترام کریں، سب کے لیے یکساں مواقع کو یقینی بنائیں اور جانبداری سے بچیں۔

شعبۂ تعلیم کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی اختیارات کے غیر منصفانہ استعمال کے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔ کچھ معاملات میں اسکول کے منتظمین اور اساتذہ بدعنوانی میں ملوث پائے گئے ہیں، مثلاً طلباء کی فلاح و بہبود کے لیے فنڈز کا غبن یا رشوت ستانی اور اقربا پروری۔ یہ اقدامات نہ صرف تعلیم کے معیار پر سوالیہ نشان بلکہ آنے والی نسلوں کی ترقی میں بھی رکاوٹ ہیں۔ اس طرح کے استحصال کو روکنے اور منصفانہ اور جامع تعلیمی نظام کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی اور جوابدہی کا طریقہ کار اپنانا بہت ضروری ہے۔

تعلیم ہو، قانون کا نفاذ یا پھر احتساب یا پھر ملک بھر میں عوامی مفادات سے وابستہ کوئی بھی شعبہ، ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی نمائندے، افسران اور سربراہانِ ادارہ اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکیں اور اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کریں۔ 

Related Posts