ملک میں کئی ہفتوں سے جاری قیاس آرائیوں اور سیاسی کشمکش کا خاتمہ کرتے ہوئے جنرل ساحر شمشاد مرزا کو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
اس فیصلے کا اعلان وزیر اعظم شہباز شریف نے آج دن کے آغاز کے موقع پر وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد کیا، ہائی پروفائل تقرریوں کے ناموں پر اپنے اتحادیوں سے مشورہ کرنے کے بعد وزیر اعظم نے دو بڑی تقرریوں کے ناموں کا اعلان کردیا۔
اس حوالے سے بڑے پیمانے پر قیادت آرائیاں کی جارہی تھیں کہ آیا جنرل باجوہ ایک اور توسیع کا مطالبہ کریں گے۔ تاہم، سابقہ آرمی چیف نے چند ماہ قبل اشارہ دیا تھا کہ وہ اس سال ریٹائر ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سبکدوش ہونے والے آرمی چیف باجوہ اپنی مقررہ مدت کے اختتام پر 29 نومبر 2019 کو ریٹائر ہونے والے تھے لیکن 19 اگست 2019 کو اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے انہیں سروس میں تین سال کی توسیع دی تھی۔
جنرل عاصم منیر پاکستان کے 17ویں آرمی چیف نامزد ہوچکے ہیں۔ جنرل عاصم منیر نے اپنی نامزدگی کے بعد وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے بھی ملاقات کی، لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر نے منگلا میں آفیسرز ٹریننگ سکول (OTS) سے گریجویشن کیا، اور فرنٹیئر فورس رجمنٹ کی 23ویں بٹالین میں کمیشن حاصل کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر اس سے قبل کور کمانڈر گوجرانوالہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، اور پاکستان کی دو سب سے بااثر انٹیلی جنس ایجنسیوں – انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کا دور صرف آٹھ ماہ کا تھا، جو اب تک کا سب سے مختصر عرصہ تھا، کیونکہ انہیں 2019 میں اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے برطرف کر دیا تھا۔
آرمی چیف کے طاقتور عہدے پر ان کی تقرری ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عمران خان فوج اور آئی ایس آئی کے ساتھ محاذ آرائی میں گھرے ہوئے ہیں، سمری آنے کے بعد صدر مملکت عارف علوی مشاورت کے لیے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کے لیے لاہور پہنچے جس کے بعد وہ اسلام آباد پہنچ گئے اور سمری پر دستخط کرتے ہوئے میرٹ پر تنازع ختم کر دیا جو کہ نیک شگون ہے۔
سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس معاملے پر جو اتفاق رائے ظاہر کیا گیا ہے وہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لیے اس اتفاق رائے کو ظاہر کیا جانا چاہیے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں