تیزی سے بدلتی دنیا

تازہ ترین

تازہ ترین

ہم ایک ایسے موقع پر 2023 میں داخل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں جب 1900 کی دہائی کی دنیا یکسر ایک بھولے بسرے خیال و خیال میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اب دنیا ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے باعث 1903 کے اس دور سے بہت ہی آگے جا چکی ہے، جب رائٹ برادران کو ہوائی جہاز اڑاتے ہوئے دیکھ کر انسان دنگ رہ گیا تھا، اب تو انسان اپنے گھروں اور دفاتر میں آرام سے بیٹھ کر ڈیجیٹل دنیا کے ہفت افلاک میں پہنچ جاتا ہے، جس کا نوے کی دہائی کے انسان نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم تیزی سے آگے بڑھنے والی مسابقتی دنیا میں رہتے ہیں جو ہمارے بولنے کے ساتھ ساتھ بدل رہی ہے۔ لینو ٹائپ آپریٹر، ٹاؤن کریئر سمیت ماضی کی بے شمار نوکریاں اب اپنی موت آپ مر چکی ہیں۔

ہم درحقیقت ایک ہنگامہ خیز دور میں جی رہے ہیں جہاں دنیا بھر کی معلومات ہماری انگلیوں کی پوروں پر آسانی سے دستیاب ہیں۔ آج کے دور کا چیلنج در اصل یہ ہے کہ معلومات کو قابل عمل نکات میں تبدیل کیا جائے تاکہ اسے حکمت میں تبدیل کیا جا سکے اور پھر اس حکمت کو عمل میں ڈھال کر مسابقت کی اس دنیا میں اقوام عالم کی صف میں آگے بڑھا جا سکے۔ یہ تب ممکن ہے جب ہم اپنے طلباء کو یاد کرنے پر مجبور کرنے کی بجائے سیکھنے میں سہولت فراہم کریں۔ ہمارے آج کے طالب علموں کو جو ہمارا مستقبل ہیں، کارپوریٹ دنیا کے تصورات اور طرز عمل کو سمجھنا چاہیے تاکہ وہ اس بات کا تجزیہ کر سکیں کہ بدلتے وقت کے تقاضے کیا ہیں اور ان تقاضوں کی روشنی میں آگے بڑھنے کی راہ عمل کیا ہے؟

آج دنیا اتنی تیز رفتاری سے بدل رہی ہے کہ جو ملازمتیں ہم آج کے دور کے لیے مخصوص سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ نوکریوں کی صورت میں یہ آمدن کے یہ وسائل وقت کی اہم ضرورت ہیں، وہ مستقبل میں سرے سے موجود ہی نہیں ہوں گی اور ضرورت ختم ہونے کے باعث ان کی جگہ دوسری ملازمتیں اور آمدن کے وسائل لیں گے۔ ایسے ہی آج کی ان ملازمتوں میں کیشیئرز، اخبارات کی ترسیل، ٹریول ایجنٹ، سوشل میڈیا ماہرین وغیرہ شامل ہیں، دیکھتے جائیے کہ تیز رفتار ترقی کا اژدھا ان ملازمتوں کا وجود مزید کتنے عرصے میں ناکارہ بنا کر رکھتا ہے۔

یہ مت سوچئے کہ مستقبل ابھی نہیں آیا یا وہ ابھی راہ میں ہے، مستقبل آچکا ہے، اس کے بوٹوں کی دھمک اور قدموں کی چاپ ہمارے اس صحن میں واضح محسوس ہو رہی ہے، جسے ہم “حال” سمجھ کر مطمئن بیٹھے ہیں۔ وقت کا پہیہ اس تیزی سے گھوم رہا ہے کہ زمانے کی سانسیں تھم گئی ہیں اور ماضی، حال اور مستقبل میں فرق کرنا ہی مشکل ہوگیا ہے، ہاں یہ البتہ واضح ہے کہ بہت تیزی سے ہر چیز ماضی بنتی جا رہی ہے اور وقت کی اس دھول میں “حال” گم ہو کر رہ گیا ہے۔ ہم جسے حال سمجھ رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ یہی اب ہمارا مستقبل ہے، وہی آگے بڑھ سکتا ہے جو اس حقیقت کو جلد پالے۔ ہمیں وقت کی تیز رفتار حرکت کو محسوس کرنا ہوگی اور موجودہ وسائل کا بہترین استعمال کرنا ہوگا۔

Related Posts